پٹنہ یونیورسٹی میں عالمی یوم مادری زبان منایا گیا

پٹنہ یونیورسیٹی کے شعبہ لسانیات میں عالمی یوم مادری زبان منایاگیا
پٹنہ یونیورسیٹی میں بدھ کو فارسی، سنسکرت،  میتھلی اور بنگالی شعبوں کے ذریعہ مادری زبان کا عالمی دن (انٹر نیشنل مدر لینگویج ڈے) کے موقع پر ایک پر وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ ۲۱؍ فروری کو پوری دنیا میں مادری زبان کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ تقریب کا آغاز شعبہ فارسی کے صدر پروفیسر محمد عابد حسین کے خطبہ استقبالیہ سے ہوا۔ انہوں نے مہمانان اور تمام شرکاء جلسہ کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ ماں کی گود انسان کا پہلا مکتب ہے۔ ماں جس زبان مین بولتی ہے وہ گویا انسا ن کی مادری زبان ہے۔ ابتداء آفرینش سے کائنات کے خالق نے اپنی  مخلوق کو زبان کے استعمال کی تعلیم دی ہے۔ ماہرین السنہ نے اس موضوع پر گرانقدر تحقیقات کی اور آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک بولی اور زبان کا سفر رہا ہے۔ ماہرین نے اس پر سیر حاصل بحث کر کے دانشمندوں کو دعوت فکر دی ہے۔ اس کی اہمیت کے پیش نظر یونسکو

نے ۱۷ نومبر ۱۹۹۱کو فیصلہ لیا کہ ہر سال ۲۱؍فروری کو مادری زبان کا عالمی دن منایا جائیگا۔ چنانچہ  ۲۰۰۰سے دنیا بھر میں ۲۱ فروری کو مادری زبان کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ۲۰۰۸کو زبانوں کا عالمی سال قرار دیا تھا ۔

اس تقریب کا مقصد یہی ہے کہ زبان اور

 اس سے وابستہ ثقافتی اور تہذیبی پہلووں کو اجاگر کیا جائے۔ جدید سائنس کہتی ہے کہ تمام جاندار اپنی نوع کے دیگر جانداروں اور اپنے ماحول کے ساتھ مسلسل رابطہ میں رہتے ہیں۔ اسی رابطہ کے لیے  ان کے اندر مخصوص صلاحیتیں اور ان کے اپنے مخصوص طریقے ہیں۔ انسانی تہذیب میں زبان رابطہ کا سب سے اہم اور مؤثر ذریعہ ہے۔ زبان انسانی رابطے کا ایسا نظام ہے جس میں مخصوص الفاظ آوازوں یا علامتوں کے ذریعہ، خواہ وہ تحریری ہوں یا زبانی، انسان اپنے جذبات، احساسات، خیالات، مشاہدات، افکار اور باہمی مقالات کے لیے ضروری معلومات کا تبادلہ کرتا ہے۔ زبان انسان کو دیگر مخلوقات کے مقابلے میں ممتاز کرتی ہے۔ اپنی منطق سے سوچنے سمجھنے پر کھنے اور بولنے کی صلاحیت کی بنا پر انسان دوسرے جانداروں کی نسبت آپس میں بہتر ابلاغ پر قادر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ دانشمند حضرات نئی نسلوں کو مادری زبان کی اہمیت اور اس وراثت عظیم کی حفاظت کے لیے پیدا کریں۔ اس کے بعد سنسکرت شعبہ کے صدر نے مادری زبان کی اہمیت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان کے علاوہ عربی شعبہ کے ڈاکٹر مسعود کاظمی، ڈاکٹر سرور عالم ندوی، پروفیسر اشوک کمار اور فارسی، میتھلی، بنگالی اور سنسکرت کے طلباء نے اپنے احساسات کو بیان کیا جبکہ محترمہ معصومہ خاتون نے اپنی غزل کے ذریعہ مادری زبان کا پیغام دیا، دوسرے طلبا نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ نظامت کا فریضہ ڈاکٹر ایس این مہتا نے انجام دیا  اور صدارت کی ذمہ داری محترمہ پرتیما سر کار صدر شعبہ بنگالی نے نبھائی۔شکریہ ڈاکٹر ہیرا لال نے ادا کیا۔ جلسہ میں ڈاکٹر صوفیہ نسرین، ڈاکٹر صادق حسین اور دیگر شعبہ جات کے صدور و اساتذہ کرام اس تقریب میں شامل ہوئے ۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *