مفتی اعجاز ارشد قاسمی کا دعوی: رابڑی دیوی کو اپوزیشن لیڈر بنائے جانے سے مسلمان ناراض

دونوں ایوانوں میں ماں بیٹے کا اپوزیشن لیڈر ہونا اور چیف وھپ جیسے اہم عہدے بھی صرف یادو طبقہ کو دینا مسلمانوں کے ساتھ کھلی غداری: مفتی اعجاز ارشد قاسمی

پٹنہ: بہار کے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں نے جارحانہ طور پر راشٹریہ جنتادل کو ووٹ کیا تھا، جس کی بدولت لالو یادو کے کنبہ کو اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے کا موقع ملا، لیکن احسان فراموشی کی حد یہ ہوئی کہ مسلمانوں کو اقتدار کے تمام شعبوں میں حاشیہ پر ڈالتے ہوئے اپنے دونوں بیٹوں کو ساری اہم وزارت سپرد کردی، اس کے بعد یادو طبقہ کو ترجیح دی گئی۔ المیہ تو یہ ہوا کہ اس کے فورا بعد جب راجیہ سبھا کی دوسیٹیں آئیں، تو ایک سیٹ اپنی بیٹی میسا بھارتی اور دوسری سیٹ بی جے پی رہنما رام جیٹھ ملانی کے حصہ میں آئی اور مسلمانوں کے حصہ میں صرف تماشہ دیکھنے کے علاوہ کچھ نہیں آیا۔ اب جبکہ بدعنوانی کے دلدل میں پھنسنے کی وجہ سے تیجسوی یادو کے ہاتھ سے کرسی چلی گئی، تو اپوزیشن لیڈر خود بن گئے اور چیف وھپ کے طور پر للت یادو کو منتخب کرلیا، جبکہ عبد الباری صدیقی جیسے کئی سینئر مسلم لیڈر پارٹی میں موجود تھے۔ اسی طرح ودھان پریشد میں رابڑی دیوی کو اپوزیشن لیڈر بنایا گیا اور چیف وھپ کے طور پر یادو طبقہ سے وفاداری کرتے ہوئے سبودھ یادو کو منتخب کیا گیا، جبکہ وہاں بھی قمر عالم جیسے سینئر لیڈر مضبوط دعویدار تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ مسلمانوں کے ساتھ کھلی منافقت، غداری اور دھوکہ بازی ہے،  جسے کسی بھی طور برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ ان خیالات کا اظہار  متحدہ ملی مجلس کے کنوینر اور معروف عالم دین مفتی اعجاز ارشد قاسمی نے بدھ کو پٹنہ کے سرکٹ ہاﺅس میں منعقد ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ بہار کے مسلمانوں نے ہمیشہ لالو یادو کے ساتھ جذباتی رشتہ رکھا اور ہر طرح کے امید وار کو سو فیصد ووٹ کیا، جس کا صلہ اس پارٹی نے دغا، فریب، مکر اور دھوکہ کے سوا کچھ نہیں دیا۔ جب بھی اقتدار میں شراکت کی بات آئی، تو انہوں نے پہلے پریوار، پھر یادو طبقہ کو ترجیح دی اور مسلمانوں کو سیاسی حصہ داری سے دور رکھا۔ جس کی وجہ سے مسلم رہنماﺅں کو ہمیشہ سیاسی محرومی کے احساس سے دوچار ہونا پڑا۔

مفتی اعجاز ارشد قاسمی نے میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہار کے مسلمان اب سیاسی طور پر بیدار ہوچکے ہیں اور اب سیکولرزم کے پرفریب نعروں سے ان کا مزید استحصال نہیں کیا جاسکتا۔ ایک مخصوص پارٹی کا خوف دلا کر مسلم ووٹ حاصل کرنے کا زمانہ اب نہیں رہا، اب آبادی کے تناسب سے اقتدار میں حصہ داری کی بنیاد پر کسی بھی پارٹی کے ساتھ سیاسی سمجھوتہ ہوگا۔ کیا مسلمان نتیش کمار کے ساتھ بھی جاسکتے ہیں، اس سوال کے جواب میں مفتی اعجاز ارشد قاسمی نے کہا کہ مسلمانوں کے پاس سارے متبادل موجود ہیں، ان کو مجبور سمجھنا کسی بھی پارٹی کی بہت بڑی غلط فہمی ہوگی۔ نتیش کمار نے مسلمانوں کے لیے بہت سارے ایسے کام کیے ہیں جن پر بجا طور پر فخر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے موجودہ حالات میں بہار میں نفرت کی سیاست پر کنٹرول کیا ہے اور فرقہ وارانہ تصادم کو کہیں بھی پنپنے نہیں دیا۔ جہاں مسلمانوں کا کچھ نقصان ہوا ہے اس کی تلافی ہر ممکن کی ہے۔ اس لیے صرف یہ کہہ کر نتیش کمار کو الگ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ بی جے پی کے ساتھ مل کر سرکار چلا رہے ہیں۔ اب وہ مسلمانوں میں بھی کافی مقبول ہو رہے ہیں اور مسلمانوں کو سیاست میں حصہ داری کے لیے بھی وہ کوشاں ہیں۔ اب مسلمان خوف کی سیاست سے نفسیاتی طور پر باہر آچکے ہیں اور انہیں یہ احساس شدت سے ہو رہا ہے کہ کسی پارٹی کے جھانسہ میں آکر اپنی سیاسی پسماندگی کو کب تک دعوت دیتے رہیں گے۔ آج مسلمانوں کی حالت اتنی بدتر صرف اسی وجہ سے ہے کہ انہوں نے ہمیشہ سیکولرزم کے نام پر آنکھ بند کرکے ووٹنگ کی اور اقتدار میں حصہ داری کو کبھی ترجیح نہیں دی۔ مفتی اعجاز نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بہار میں مسلمانوں کے اندر سیاسی شعور کو مستحکم کرنے کے لیے وہ مسلسل تحریک چلائیں گے ، جس کے لیے ٹھوس لائحہ عمل اور واضح حکمت عملی تیار ہے۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *