اشتعال انگیزی کرنے والوں پرمقدمہ درج ہو: مفتی مکرم

اسلامی تہذیب میں خواتین کے تحفظ کی ضمانت
شورہ کوٹھی مسجد دوبارہ تعمیر کی جائے

DSC_4339نئی دہلی، ۱۱؍مارچ (پریس ریلیز): مسجد فتحپوری دہلی کے امام مولانا مفتی محمد مکرم احمدنے آج نماز جمعہ سے قبل خطابمیں کہا کہ حال ہی میں عالمی سطح پر یوم خواتین منایا گیا لیکن اس دوران صرف قسم قسم کے پروگرام منعقد کرنے کی ایک رسم ادا کی جاتی ہے، حقیقت میں خواتین کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کیے جاتے ۔انہوں نے کہا کہ اسلام ایک مکمل مذہب ہے جس میں خواتین کے تحفظ کے لیے مکمل بندو بست کیا گیا ہے ۔اسلامی دور سے قبل دور جاہلیت میں عورتوں کی بے حرمتی کی جاتی تھی، لڑکیوں سے شدید نفرت تھی اور انہیں پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ بیوہ عورتوں کو منحوس مانا جاتا تھا اور انہیں سماج میں اچھوت بنا دیا جاتا تھا بلکہ بیوہ عورت کو مال کی طرح وارثوں میں تقسیم کر دیا جاتا تھا۔ مذہب اسلام نے انہیں تحفظ بخشا اور ترکہ میں انہیں حصہ دار بنایا، ان کے ساتھ انصاف کرنے کو مردوں پر لازم کردیاگیا اور شوہروں پر اپنی بیویوں سے حسن سلوک اور نفقہ کی ذمہ داری عائد کی گئی۔ جہاد میں بھی عورتوں اور بچوں پر ہاتھ نہ اٹھانے کا حکم دیا گیا ،جو تعلیمات خواتین کے حق میں مذہب اسلام میں ہیں وہ دوسرے مذاہب میں نہیں ہیں ۔پیغمبر ﷺ نے فرمایا جو لڑکیوں کی پرورش محبت سے کرے گا اسے جنت عطا ہوگی ۔مفتی مکرم نے مسلم خواتین سے اپیل کی کہ اسلامی تہذیب کی پابندی کریں، بے پردگی اور عریانیت شدید گناہ ہے ۔حکومت تنہا خواتین کی حفاظت نہیں کر سکتی۔ اپنی حفاظت کے لیے خواتین کو بھی فکرکرنی چاہیے۔جہاں تک اسلامی تہذیب کی بات ہے تو اس میں خواتین کو مکمل حفاظت کی ضمانت ہے ۔
کیرل ہائی کورٹ کے جج بی کمال پاشا کے خواتین کو چار شوہر رکھنے کی صلاح پر مفتی مکرم نے کہا کہ ان کا مشورہ عقلاَ ونقلاََ غلط ہے۔ اس طرح انہوں نے زنا کاری کی حمایت کی ہے اور قرآن کریم کے حکم کا مذاق اڑایا ہے ۔وہ اگر توبہ نہ کریں تو ایمان سے خارج ہوجائیں گے ۔ان کا قول ہندوستان کے آئین کے بھی خلاف ہے ۔ آئین میں ہر پرسنل لا کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے اور جج نے اپنی حد سے پار ہو کر یہ بیان دیا ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ مردوں کو ایک سے زیادہ شادی کرنے کی اجازت عورتوں کے تحفظ اور ان کی کفالت کے طور پر ہے، یہ اجازت گویا مشروط ہے ۔
ملک کے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے مسجد فتحپوری کے ا مام نے کہا کہ عدم رواداری اور اشتعال انگیز ی گویا آج کے ہندوستان کا امتیازی وصف بن چکی ہے۔ ہر طرف سے اسی طرح کی اشتعال انگیزی سننے کو ملتی ہے ۔کنہیا کی زبان کاٹنے پر ۵؍ لاکھ روپے کا انعام اور جان سے مارنے پر اس سے زیادہ انعام وغیرہ وغیرہ۔ ایسی اشتعال انگیزی کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے اور جلد سے جلد انہیں سزا دلائی جائے تاکہ مستقبل میں ایسی کوئی ہمت نہیں کر سکے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی گنگا جمنی تہذیب کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت پر ہے ۔
پہاڑ گنج دہلی میں شورہ کوٹھی مسجد کے انہدام پرمفتی مکرم نے شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے پر زور مطالبہ کیا کہ اسی جگہ پر مسجد کی دوبارہ تعمیر ہونی چاہیے اور مسجد کو منہدم کرنے والوں پر قانونی کارروائی کی جائے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *