آزادی ہند میں علماء کا کردار کے عنوان سے اجلاس کا انعقاد

ممبئی، ۲۵ جنوری، پریس ریلیز: آزادی کی جنگ میں مسلمانوں کا کردار سب سے زیادہ رہا لیکن ہم خود ہی اپنی تاریخ سے نا آشنا ہوگئے اور ہم یہ سمجھنے لگے کہ علماء کا کردار صرف آسمان کے اوپر زمین کے اندر کی بات کرنا ہے۔ چونکہ اسلام مکمل نظام حیات ہے اس لیے علمائے اسلام کا کام ہماری مکمل رہنمائی کرنا ہے۔ یہ باتیں امام الہند فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام صابو صدیق کالج کے الما لطیفی ہال میں منعقد جمہوریت کانفرنس میں اندھیری کے کارپوریٹر محسن حیدر نے کہیں۔ یوم جمہوریہ کے موقع پر جمہوریت کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے انجمن احیائے سنت کے صدر مفتی محمد حذیفہ قاسمی نے کہا کہ بڑوں کی یاد سے چھوٹوں میں حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ جس قوم نے اپنے اسلاف کی تاریخ کو بھلا دیا تو اس کا زوال یقینی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ دفاعی انداز میں گفتگو کا سلسلہ بند کیا جائے۔ اپنے دستوری حقوق کا استعمال بغیر کسی خوف اور جھجک کے کیجیے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ یوم جمہوریہ اور یوم آزادی پر تو کم از کم ہم اپنے اسلاف کی قربانیوں کو یاد کریں۔ لوگوں کو بتائیں کہ علماء اور مسلم عوام آخر کیوں انگریزوں کے خلاف آئے۔ اس کی ایک سیدھی وجہ یہ ہے کہ انگریزوں کے دور میں دین و ایمان کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔ دین کا واضح نظریہ صرف مسلمان کے پاس ہے اور انگریز مسلمانوں کے اس نظریہ سے خوفزدہ تھے۔ چنانچہ انہوں نے طرح طرح کی سازشیں کرکے مسلمانوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ آج پھر علماء کی کردار کشی کرکے مسلمانوں کو غلام بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔اسی لیے فرضی معاملات میں علماء کی گرفتاری ہو رہی ہے۔ انہوں نے کانگریس کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی حکومت کی نیت صاف نہیں تھی۔ صرف موجودہ حکومت ہی ذمہ دار نہیں، اس سے قبل کانگریس کی حکومتیں بھی وہی کچھ کرتی رہی ہیں۔ ان کا بچا ہوا کام موجودہ حکومت کررہی ہے۔ انہوں نے مسلمانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے سوال کیا کہ کب تک قلی بن کر جیو گے؟ تعلیم کے میدان میں آگے بڑھو۔ جو صاحب ثروت ہیں انہیں چاہیے کہ غریب بچوں کی کفالت کریں اور ان کے تعلیمی اخراجات زکوٰۃ سے پورا کریں۔ اگر ایسا نہیں کریں گے تو پھر آپ کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ ہوتا رہے گا۔ اس سے کوئی بچا نہیں پائے گا۔ انہوں نے مسلمانوں کو ان کے اہم منصب خیر امت کی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم انسانوں کی بھلائی کے لیے بھیجے گئے ہیں لہٰذا ہم انسانوں کی بھلائی کا سبب بنیں تو ہم دنیا میں اپنا مقام حاصل کرپائیں گے۔

اس موقع پر مہدی حسن قاسمی نے خطبہ استقبالیہ میں یہودیوں اور برہمنوں کے اتحاد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب کرنے کی کوشش کرنے والے، گاندھی کو قتل کرنے والے لوگوں سے ملک کو خطرہ ہے۔ ہمارے پاس اخلاق و کردار کے سوا اور کچھ نہیں یہ اور بات ہے کہ انہیں ہمارے اخلاق میں تلوار کی دھار نظر آئے اور ہماری تحریروں میں بم بارود مل جائے تو یہ ان کا قصور ہے۔ جہاد ظلم اور ظالم کے خلاف کوشش کا نام ہے، ظلم جبر اور زبردستی کا نہیں۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شمشیر خان پٹھان نے مسلمانوں کے موجودہ وفاداری ثابت کرنے کے رویہ پر کہا کہ ہم جمہوریت بچانے کی بات کررہے ہیں۔ اس جمہوریت میں ہمیں کیا مل رہا ہے۔ کیا انگریزوں کے دور میں بھی ہم ایسے تھے جیسے آج ہیں۔ انگریزوں کے دور میں ہمیں انصاف ملتا تھا آج نہیں ملتا۔ انہوں نے ماضی کی یاد کو تازہ کرتے ہوئے کہا کہ امام الہند فاؤنڈیشن نے مجھے اس لیے ایوارڈ دیا تھا کیونکہ میرے اے سی پی نے مالیگاؤں کے ایک انفارمر سے ملایا تھا جس کے پاس بم دھماکے اور اس کے منصوبے کی خفیہ معلومات تھی۔ لیکن جب ہم نے اس پر انکوائری کی تو پتہ لگا کہ اس انفارمر کو پیسہ دے کر اسے ایسی بات کرکے بے گناہوں کو پھنسانے کی سازش کی گئی تھی۔ اس کے بعد ہم سے انکوائری کا حق لے لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مین اسٹریم کی تعلیم حاصل کرکے ہمیں اس ایڈمنسٹریشن میں داخل ہونا ہوگا اس کے بغیر چارہ کار نہیں کیونکہ قانون کو لاگو کرنے والے اور حکومت چلانے والے یہی افسران ہوتے ہیں جہاں ہماری موجودگی ایک دو فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔ قانون نے ہمیں تعزیرات ہند کی دفعہ ۱۰۰ کے تحت یہ اختیار دیا ہے کہ اگر کوئی آپ کی جان لینا چاہتا ہے تو آپ کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ اس کے لیے آپ طاقت کا استعمال کرسکتے ہیں خواہ اس کا انجام کچھ بھی ہو۔ اسی طرح ۱۰۳ کے مطابق اگر آپ کی املاک کو کوئی نقصان پہنچارہا ہے تو آپ اسے بچانے کے لیے طاقت کا استعمال کر سکتے ہیں۔ ایسے قوانین اور دفعات کی جانکاری آپ کو ہونی ضروری ہے جس سے آپ اپنے اوپر ہو رہے ظلم سے کچھ حد تک بچ سکتے ہیں۔ اجلاس کے آخر میں امام الہند فاؤنڈیشن نے تجاویز بھی پاس کیں جو اس طرح ہیں: ۱- پسماندہ طبقات، دلت و مسلم کو تحفظ فراہم کیا جائے، ۲- بیجا گرفتاریاں بند کی جائیں اور ۳- ہندو مسلم اتحاد کے پیغام کو گھر گھر پہنچایا جائے۔ امام الہند فاؤنڈیشن کے مطابق ان کے مطالبات کو ۷۷ مسلم تنظیموں اور ڈھائی سو علماء کی تائید حاصل ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *