سعودی عرب کی جانب سے وزیر اعظم کو اعزاز تاریخی واقعہ: مسلم فورم

JM

علی گڑھ، (پریس ریلیز)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد شبیر نے سعودی عرب کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے باوقار شہری اعزاز سے سرفراز کیے جانے کو ایک تاریخی عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ جناب مودی کو ملک کی داخلی صورت حال اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر باریک نظر رکھنی چاہیے تاکہ ان کی شخصیت میں مزیدنکھار پیدا ہوسکے۔ پروفیسر محمد شبیریہاں مزمل منزل کامپلیکس میں واقع میڈیا سینٹر پر فورم فار مسلم اسٹڈیز اینڈ اینالائسس( ایف ایم ایس اے) کے زیر اہتمام’’ کیا وزیر اعظم نریندر مودی عالمی لیڈر کی حیثیت سے ابھر رہے ہیں؟‘‘ کے عنوان پر منعقدہ’’ چائے پرچرچہ‘‘ پروگرام کو خصوصی مقرر کی حیثیت سے خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا سعودی عرب میں ہونے والا اعزاز ہر ہندوستانی کا اعزاز ہے اور یقین کامل ہے کہ اس اعزاز کے بعد ملک کی داخلی صورت حال میں بھی مثبت اورخوش آئندتبدیلی واقع ہوگی جو ملک کے بہتر مستقبل کی بھی ضامن ہوگی۔
ایف ایم ایس اے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کو ایک نیا اقتصادی منصوبہ دیا جو کہ محروم طبقات کے فروغ کی سمت میں ایک اہم اقدام تھا اور اس کا اثر عالمی سطح پر ان کی شبیہ پر پڑا اور نتیجہ کے طور پرامریکہ اور دنیا کے دوسرے بڑے ترقی یافتہ ممالک انہیں نظر انداز نہیں کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دہشت گردی کو ختم کرنے کے عزمِ مصمم نے انہیں عالمی سطح کا ایک طاقتور لیڈر بنادیاہے۔
ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد نریندر مودی نے ایک نئی خارجہ پالیسی پر کام شروع کیا جس کا اصل مقصد اپنے ہمسایہ ملکوں کو اہمیت دینا اور مغربی ممالک سے برابری کی سطح پر رشتے استوار کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک امن پسند ملک ہے لیکن وہ اپنے مفادات اور تحفظ کے ساتھ سمجھوتا نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ فی الوقت وزیراعظم نریندر مودی دنیا میں ایک طاقت ور امن پسندلیڈر کے طور پر ابھر رہے ہیں۔
پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کورٹ کے رکن پروفیسر ہمایوں مراد نے کہا کہ۲۰۱۴ء کے پارلیمانی انتخابات کے نتیجہ میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا میں متعدد سماجی و سیاسی تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ ایک دور اندیش اور امن پسند حکمراں ہیں۔پروفیسر مراد نے کہا کہ وزیر اعظم کو ملک کے داخلی معاملات پر خصوصی توجہ کرنی چاہیے کیونکہ ملک میں ہونے والے فرقہ وارانہ حادثات اور فرقہ پرستی پر مبنی ان ہی کی جماعت کے کچھ لیڈران کے بیانات سے ملک کی شبیہ پر ہی منفی اثرات مرتب نہیں ہو رہے ہیں بلکہ وزیر اعظم کے امن اور ترقی کے منصوبہ کو بھی زک پہنچ رہی ہے۔
ڈاکٹر محمد شاہد نے کہا کہ اپنے قلیل دوراقتدار میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان کی تہذیب و ثقافت اور زبان کو بھی عالمی منظر نامہ پر قائم کیا ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ میں ہندی میں تقریر کرکے دنیا کو ہندوستان کے احترام کا درس دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو اپنی جماعت کے ان عناصر پر روک لگانی چاہیے جو اپنے بیانات سے سماجی تناؤپیدا کرتے ہیں۔
ڈاکٹر محمد فاروق نے کہا کہ جس طرح وزیر اعظم نریندر مودی نے عالمی سطح پر یوگا کی ترویج و اشاعت کی جس کے نتیجہ میں اسلامی ملکوں سمیت دنیا کے تمام ممالک نے یومِ یوگا کا انعقاد کیا ،وہ ان کی دور اندیشی کا مظہر ہے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ریسرچ اسکالر دیبا ابرار نے کہا کہ حال ہی میں سعودی عرب نے ہمارے وزیر اعظم کو اپنے اعلیٰ ترین شہری اعزاز سے سرفراز کیا ہے جس کا تمام اسلامی دنیا میں مثبت پیغام گیا ہے۔
اس موقع پراین جمال انصاری نے کہا کہ گجرات کے ۲۰۰۲ء کے فسادات کے بعد جس طرح نریندر مودی نے اپنی شبیہ کو مثبت سمت دی ہے اور سب کا ساتھ سب کا وکاس کے اپنے عہد کو زمینی سطح پر نافذ کیا ہے، اس سے بھی عالمی سطح پر ان کی شبیہ روشن ہوئی ہے۔
Magazine release
پروگرام میں دیگر مفکرین اور دانشوروں کے علاوہ ڈاکٹرجی ایف صابری، اقبال اور ڈاکٹر غضنفر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
’’ چائے پرچرچہ‘‘ کے بعد مسلم فورم نے اتفاق رائے سے ایک تجویز پاس کرکے وزیر اعظم نریندر مودی کو سعودی عرب کی جانب سے دیے جانے والے سعودی عرب کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز کے حصول پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہندوستان کے لیے باعث مسرت امر ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی عالمی سطح پر ایک طاقتور اور منصف لیڈر کی حیثیت سے ابھر رہے ہیں جنہیں مسلم ملکوں کا بھی اعتماد حاصل ہے۔
اس موقع پر ’دی علی گڑھ موومنٹ‘ کے خصوصی شمارہ کا اجراء بھی عمل میں آیا جس میں وزیر اعظم نریندر مودی اور صوفی کانفرنس کی اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *