دولہے نے کیا جہیز پر زوردار حملہ

imteyaz1

مظفرپور(نامہ نگار):
جہیز کی وجہ سے جہاں بہت سی لڑکیوں کی شادی نہیں ہوپارہی ہے ، ایسے میں مظفرپور کے چندواڑہ محلہ کے رہنے والے محمد امتیاز نے سماج میں پھیلی اس لعنت کے خلاف ایک مہم چھیڑی ہے۔ انہوں نے ’پہلے اپنے آپ کی اصلاح کرو‘ کی مثال پیش کرتے ہوئے نہ صرف شادی میں لڑکی والوں سے کوئی سامان ، پیسہ یا کپڑا نہیں لیا بلکہ بہت ہی سادگی کے ساتھ یہاں بی ایم پی ۔۶ میں واقع سرسید کالونی کی مسجد میں نکاح کیا۔ انہوں نے نکاح کی سنت سے پہلے لڑکی کے والد اور مسجد کے امام صاحب سے اجازت لے کر جہیز کی لعنت کے موضوع پر تقریر کی۔ اس میں انہوں نے کہا:لڑکی رحمت ہے، زحمت نہیں۔ انہیں جہیز کی وجہ سے زحمت بنادیا گیا ہے اور یہ کام ہم نے خود کیا ہے۔ اس کے لیے کوئی دوسرا ذمہ دارنہیں ہے۔‘ محمد امتیاز نے ’نیوز ان خبرڈاٹ کام‘ کو بتایا کہ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ اللہ اور اس کے رسول نے نکاح کو آسان بنایا ہے۔ اس میں لڑکی والوں پر کسی بھی طرح کا بوجھ نہیں ڈالا ۔ البتہ لڑکے والوں کو ولیمہ کی دعوت کرنے کی ترغیب دی گئی لیکن اس کے ساتھ ہی فضول خرچی سے بچنے کے لیے بھی کہا ہے۔ امتیاز نے مزید بتایاکہ ان کی باتوں کا لوگوں پر اچھا اثر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس کی مثال پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ولیمہ کی دعوت میں لڑکی کے بہت سے رشتہ دار بھی آئے تھے۔ ان میں ایک خاتون بھی تھیں۔وہ میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں:میرے بیٹے صغیر پر تمہاری باتوں کا بڑا اثر ہوا ہے۔ اس نے گھر میں صاف کہہ دیا ہے کہ وہ سادگی کے ساتھ نکاح کرے گا۔ مسجد میں نکاح کیا جائے گا اور لڑکی کے گھروالوں سے کچھ بھی نہیں لیا جائے گا۔‘ اس کے علاوہ مظہرالحسن نام کے ایک نوجوان بھی جہیز مخالف اس مہم میں ہمارے ساتھ آگیا ہے۔ اس نے بھی سادگی کے ساتھ شادی کرنے کا اعلان کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ محمد امتیاز نے نکاح سے پہلے جہیز کی لعنت کے موضوع پر تقریر کرنے کے علاوہ ولیمہ کے دن اپنے یہاں جگہ جگہ پوسٹر بھی لگایا تھا۔ ان پوسٹروں پر ’لڑکی رحمت ہے، زحمت نہیں، جہیز کی وجہ سے لڑکی کو زحمت بنایا جارہاہے، ہرسال لاکھوں بیٹیوں کو پیدا ہونے سے پہلے ہی ماردیا جاتا ہے، اس کی وجہ بھی جہیز ہی ہے، جیسے معلوماتی اور بیداری پیدا کرنے والی باتیں لکھی ہوئی تھیں۔
محمد امتیاز کے اس اقدام کی ہرطرف ستائش ہورہی ہے۔ البتہ انہیں یہ کامیابی اچانک نہیں ملی ہے۔اس کے لیے انہیں سخت محنت کرنی پڑی۔ ان کی اس مہم کی مخالفت تو سب سے پہلے گھر میں ہی ہوئی۔ لیکن وہ ہار نہیں مانے اور گھر والوں سے لگاتار اس مسئلے پر بات کرتے رہے ۔ انہوں نے کہا کہ گھر والے اکثر سادگی کے ساتھ نکاح کرنے پر کہتے کہ آخر سماج میں کیا منھ دکھائیں گے، لوگ کیا کہیں گے۔لیکن آہستہ آہستہ گھر والے خوشی خوشی نہ سہی ، لیکن ہماری بات مان لی۔
واضح ہوکہ محمد امتیاز کے والد چندواڑہ ہی میں سائیکل رکشا کا کاروبار کرتے ہیں۔ امتیاز فی الحال اعلیٰ تعلیم کے لیے تیاری کررہے ہیں۔ انہوں نے ملک کی معروف یونیورسٹی جے این یو سے فارسی میں ایم اے کیا ہے۔ اس کے بعد وہ ریسرچ کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں بچوں کو عصری تعلیم دینے میں دلچسپی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی وہ جہیز کے خلاف اپنی مہم کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔
جہیز کے خلاف محمد امتیاز کی اس انوکھی جنگ کی ستائش کرتے ہوئے معروف سماجی کارکن طارق اقبال نے کہا: بڑی خوشی کی بات ہے کہ ہمارے تعلیم یافتہ نوجوان سماج میں پھیلی اس لعنت کے خلاف لڑنے کے لیے آگے آرہے ہیں۔ اس کا دور رس پیغام جائے گا۔
واضح ہوکہ سوشل میڈیا پر بھی محمد امتیاز کے نکاح اور خاص طور سے ولیمہ کے دن پوسٹروں کے ذریعے دعوت میں آنے والوں کو اچھا پیغام دینے کی کافی ستائش ہورہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *