مسلمانوں کو مسلک کے نام پر لڑانے کی سازش کے خلاف انتباہ

نئی دہلی: مسلمانوں کو مسلک اور مکتب فکر کے نام پر ایک دوسرے سے لڑانے کی خطرناک سازش کے خلاف آج مسلم سماج کے کئی سرکردہ لیڈروں نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہاں جاری ایک بیان میں ان لیڈروں نے کہا کہ جو عناصر ماضی میں ہندوؤں اور مسلمانوں کو آپس میں لڑاکراپنے سیاسی مقاصد پورے کرتے رہے ہیں، اب انہوں نے مسلک اور مکتب فکر کے نام پر مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑانے کی خطرناک سازش رچی ہے اور اس کا م کے لیے سرکاری خزانے کا منہ کھول دیا گیا ہے۔ ان لیڈران نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ یہ خطرناک پالیسی نہ توملک کے مفاد میں ہے اورنہ ہی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے حق میں ہے۔ انہوں نے عام مسلمانوں سے اس سازش سے ہوشیار رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی شورش سے ملک میں جو ماحول پید اہوگا، اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ صوفیا کی آڑ لے کر مسلکی انتشار پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں اور بعض مسلم گروہوں کو دہشت گردی کا ہمنوا بتا رہے ہیں، انہیں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ تصوف اور صوفیا کرام کا ہندوستان میں خدمت خلق، تعلیم اخلاق و امن اور انسانوں کے درمیان محبت قائم کرنے میں بڑا اہم رول رہا ہے۔انہوں نے بلاتفریق مذہب وملت انسانوں کی خدمت کی ہے۔افسوس کہ مسلکی انتشار و خلفشار پھیلانے کے لیے ان کے نام کا غلط استعمال کیا جارہا ہے۔
سرکردہ لیڈران نے اپنے بیان میں داعش کے نام پر مسلم نوجوانوں کی حالیہ گرفتاریوں پربھی اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ داعش کا ہندوستانی مسلمانوں پر کوئی اثر نہیں ہے اور جن لوگوں کو اس الزام میں گرفتار کیا گیا ہے، ان کے بارے میں شفافیت سے کام لیا جائے اور انسانی حقوق کی تنظیموں اور مسلم کمیونٹی کے معتبر لیڈروں کے سامنے وہ ثبوت پیش کیے جائیں جن کی بنیاد پر انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔ بیان پر دستخط کرنے والوں میں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے سابق صدر ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری محمد احمد، ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہل حدیث مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی، جمعیۃ علماء ہند کے سکریٹری مولانا عبدالحمید نعمانی، مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ممبر مفتی عطاء الرحمن قاسمی، ڈاکٹر تسلیم رحمانی صدر مسلم پولیٹکل کاؤنسل، مولانا عبدالوہاب خلجی اسسٹنٹ جنرل سکریٹری ملی کاؤنسل اور مسلم مجلس مشاورت کی مجلس عاملہ کے رکن معصوم مرادآبادی شامل ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *