مسلم مجلس مشاورت نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کو ختم کرنے کی کوشش کی مذمت کی

نوید حامد… صدر مشاورت

( نئ دہلی…. ( پریس ریلیز

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت ،جامعہ ملیہ اسلامیہ سمیت دیگر تعلیمی اداروں کے اقلیتی کردار پر سمجھوتے کرنے والی کوششوں کی مذمت کرتی ہے جن کو پہلے ہی سے  اقلیتی کردار قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات (قانونی اہلیت والی اتھارٹی) سے منظورشدہ ہے۔  یہ سارے اقدامات پوری طرح سے وزیراعظم نریندرمودی کے زیرقیادت حکومت کے نمایاں نعرہ سب کا ساتھ سب کا وکاس کی نفی ہی نہیں کرتے بلکہ اس کو پوری طرح بے نقاب کرتے ہیں۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کیس میں یہ اس سے بھی زیادہ تعجب خیز بات یہ کہ 13؍مارچ 2018ء کاآرڈر بتاتاہے کہ کوئی بھی ایسا کونسل وکیل جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طرف سے کورٹ میں پیش نہیں ہواجو اس کے اقلیتی کردار کے معاملے کی تائید کرے اور نتیجتاََ اس کے برخلاف آرڈر کو پاس  ہو گیا۔ایسی لاپروائی، چاہے وہ جان بوجھ کر یا ان جانے میں ہوا ہو، سخت مجرمانہ ہے کہ ایک مسلم اقلیتی ادارے سے متعلق ایک نہایت ہی اہمیت کے حامل معاملے کو اتنے غیرذمہ دارانہ طریقے سے نبھایا گیا۔

مجلس مشاورت جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ذمینداران سے  فوری وضاحت کا مطالبہ کرتی ہے کہ وہ یہ بتائے کہ اس کے رجسٹرار اور وائس چانسلرسمیت جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طرف سے یہ ناکامی کیوں کر سرزد ہوئی کہ وہ اس حساس مسلہ پر عدالت میں حاضرنہ ہوسکیں اور معاملے کو جامعہ کے موقف کوو سہی انداز میں عدالت میں کیوں نہیں  پیش کر سکیں۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ جامعہ کے وائس چانسلر ایک سال کی مدت کے اندر ہی رٹائر ہونے والے ہیں اور شائد وہ ایسے مواقع کا استعمال کرکے برسراقتدار حکمراں پارٹی کو خوش کرنا چاہتے ہیں تاکہ مسلم کمیونٹی کے مستقبل کو فروخت کرکے اپنے مستقبل کی کو محفوط کرسکیں۔

اس بات کا یقین ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے معاملے پرچاہے غیرمعروف طریقے سے چند عناصرکے ذریعہ سمجھوتہ کرلیاگیاہو، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے مسلم اداروں کی بہتری اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کی حفاظت کے لیے اس معاملے میں عدالت میں مداخلت کا فیصلہ کیاہے۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *