یکساں سول کوڈ: ضد نہیں حکمت کی ضرورت ہے

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی
ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی

ٓ (نئے پیدا شدہ حالات میں حذف و اضافہ کے ساتھ گذشتہ مضمون کی بازگشت)

سپریم کورٹ آف انڈیا نے اتراکھنڈ کی رہنے والی ایک مسلم خاتون کی پٹیشن پر سماعت کرتے ہوئے حکومت ہند کو ڈیڑھ مہینے کا نوٹس دے کر یہ پوچھا تھا کہ وہ یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے لیے کیا اقدام کررہی ہے، اسی کے جواب میں وزارت قانون نے لاء کمیشن کو خط لکھ کر اس جانب اقدام کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اس پر عمل درآمد کرتے ہوئے کمیشن نے ۷ اکتوبر کو تمام عوامی حلقوں سے اس معاملے پر رائے طلب کرنے کےلیے ڈیڑھ ماہ کا وقت دیتے ہوئے ایک سوالنامہ جاری کردیا ہے۔ ۱۶ سوالات پر مبنی اس سوالنامے کے جواب آنے کے بعد الگ الگ اداروں سے کمیشن ان کی رائے پر بحث کرے گا اور اس کے بعد کوئی مناسب جواب دیاجائے گا، لیکن اس سے قبل ہی مرکزی حکومت نے عدالت میں اپنا حلف نامہ داخل کر کے اپنا عندیہ واضح کر دیا ہے، جو ہر اعتبار سے غلط ہے۔ جب لا کمیشن نے اس جانب اقدام کر ہی لیا تھا تو حکومت کو سپریم کورٹ میں جواب داخل کرنے سے قبل اس کی رائے کا انتظار کرنا چاہیے تھا۔ اس واقعہ نے ملک میں یکساں سول کوڈ کی بحث کو پھر تازہ کردیا ہے اور اس مرتبہ ہر بار سے زیادہ بڑے پیمانے پر اس معاملے پر بحث ہونے کی توقع ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی جو ابھی اقتدار میں ہے، اس کی شروع ہی سے یہ کوشش رہی ہے کہ وہ ملک میں یکساں سول کوڈ قائم کرے، اس کے ہر انتخابی منشور میں اس کا وعدہ بھی کیا جاتارہاہے۔ پچھلی واجپئی سرکار نے اس معاملے کو یہ کہہ کر چھوڑ دیا تھا کہ سرکار کے پاس واضح اکثریت موجود نہیں ہے، لیکن اس مرتبہ پارٹی کے پاس یہ بہانا بھی نہیں ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ارباب اقتدار یہ محسوس کررہے ہیں کہ یہی صحیح موقع ہے جب یکساں سول کوڈ نامی اونٹ کو آگے دھکیلا جا سکتا ہے۔ ملک کا ماحول بھی سازگار ہے، سیاسی طور پر بھی اکثر جماعتیں کسی نہ کسی پس وپیش کے ساتھ اس کے حق میں ہیں۔ ہندواکثریت اور بہت سے دیگر مذہبی طبقات بھی اب اس معاملے میں زیادہ بحث کرنے کے موڈ میں دکھائی نہیں دیتے۔ ایسے میں موقع غنیمت جان کر پارٹی کے کچھ ارکان اپنی سطح پر عدالتوں سے رجوع کرکے سول کوڈ کی بحث کو تازہ کرنے کی کوشش میں مصروف رہے ہیں اورعدالتوں کو مجبور کررہے ہیں کہ وہ یا تو خود اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کرے یا حکومت کو کوئی فیصلہ کرنے کے لیے جواز فراہم کرے۔ مثال کے طور پر دہلی پردیش بی جے پی کے ایک ترجمان اشونی اپادھیائے جو سپریم کورٹ کے وکیل بھی ہیں، انہوں نے دسمبر ۲۰۱۵ء میں سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک عرضی داخل کرکے یہ مطالبہ کیا تھا کہ ملک میں یکساں سول کوڈ نافذ کیا جائے۔ اس عرضی کو خود چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی بینچ نے سنا تھا اور خارج کردیا تھا، مگر خارج کرتے وقت چیف جسٹس نے یہ ضرورکہہ دیا کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں عدالتی حکم نامہ کارگر نہیں ہوسکتا، اس کے لیے حکومت اور پارلیمنٹ کو ہی فیصلہ کرنا ہوگا۔ ہاں البتہ کچھ متاثرین اگر عدالت سے رجوع کرتے ہیں تو اس پر غور کیا جا سکتا ہے۔عدالت بہر حال پارلیمنٹ سے یکساں سول کوڈ لانے کا مطالبہ نہیں کرسکتی، یہ قانون سازوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ آپس میں بحث کریں اور کوئی مناسب فیصلہ لیں۔ سپریم کورٹ کے اس تبصرے کے فورا بعد اشونی اپادھیائے نے وزیر قانون کو خط لکھا اور ان سے اس معاملے پر لاء کمیشن کی رائے لینے کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد کچھ متاثرین نے بھی عدالت سے رجوع کیا، جس میں سائرہ بانو کا کیس بھی شامل ہے۔ اس عرضی میں ایک نشست کی طلاق ثلاثہ اور تعدد ازدواج پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ یہ طریقہ کار صنفی امتیاز کا مظہر ہے۔ اسی عرضی کی سماعت کرتے ہوئے ایک طرف عدالت نے حکومت کو نوٹس بھیج دیا اور دوسری جانب ملک کی متعدد خواتین تنظیمیں جن میں آر ایس ایس سمیت کچھ مسلم خواتین کی تنظیمیں بھی شامل ہیں، کھڑی ہوگئیں اور طلاق ثلاثہ پر پابندی کی آڑ میں یکساں سول کوڈ پر بحث کا آغاز ہوگیا۔
حکومت کی جانب سے لاء کمیشن کو بھیجے گئے خط پر ملک کی اکثر سیاسی جماعتوں نے اس کا خیر مقدم بھی کیا لیکن یہ بھی کہا کہ سردست اترپردیش کے انتخابات کے پیش نظر یہ انتخاب جیتنے کی ایک حکمت عملی ہے، یہی جواز کچھ مسلم تنظیموں نے بھی دیا ہے لیکن ان تمام حالات کے پس منظر میں اگر غور کریں تو معاملہ اتنا آسان نہیں، انتخابات آتے جاتے رہتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ اس حرکت سے حکومت کی منشاء بھی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی رہی ہو، لیکن اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ آزاد ی کے بعد سے اب تک یکساں سول کوڈ کا پرزور مطالبہ کرنے والی سیاسی جماعت اب حکمراں ہے اور پارلیمنٹ میں اسے واضح اکثریت حاصل ہے۔ ایسے میں یکساں سول کوڈ کے لیے مناسب ماحول سازی کرنے میں بھی حکومت کو کوئی پریشانی نہیں ہے۔درحقیقت ایسا ایک ماحول بنا بھی دیا گیا ہے، چنانچہ معاملہ بہت سنگین ہوجاتا ہے اور اسے سیاسی جست وخیز کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور ملک کے تمام طبقات کو اس پر سنجیدگی سے غور کرناپڑے گا اور اگر بحث شروع ہوتی ہے تو بحث میں مضبوط دلائل کے ساتھ حصہ لینا پڑے گا۔ یکساں سول کوڈ کے معاملے کو یکسر مسترد کردینا، یا اسے ہندوقانون کے نفاذ کی سازش قراردینا اب کام نہیں دے گا کیوںکہ اس سے قبل بھی ملک کی مختلف عدالتیں حکومت سے باصرار یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ مئی۲۰۱۴ء میں اس حکومت کے قیام کے بعد عدالتوں کی یہ فہمائش بڑھتی چلی جارہی ہے۔ اکتوبر ۲۰۱۵ء میں بھی سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ملک میں مروج مختلف مذہبی عائلی نظاموں کی وجہ سے مکمل کنفیوژن کی صورت حال ہے۔ اس کے دوہفتے بعد ہی اس وقت کے چیف جسٹس ایچ ایل دتوکی عدالت نے بھی حکومت سے صنفی امتیازات کے سلسلے میں جواب طلب کیا تھا اور اسے دستور کی دفعہ ۱۴،۱۵ اور ۱۲کی مخالفت مانا تھا۔
حکومت ہند کے اس اقدام کے فورا بعد لاء کمیشن کے سابق چیئرمین جسٹس لکشمن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے تو ۲۰۱۴ء میں ہی اپنی رپورٹ نمبر ۲۱۲میں میرج ایکٹ میں ترمیم کرکے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی جانب ایک مثبت پیش قدمی کرنے کی تجویز سابقہ یوپی اے حکومت کو پیش کردی تھی لیکن حکومت نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ حکومتیں اس معاملے کو سیاسی بازی گری کی نذر کرنا چاہتی ہیں۔ یہ تمام حالات اس جانب واضح اشارہ کررہے ہیں کہ پورا ملک یکساں سول کوڈ کے نام پر اب کچھ نہ کچھ کرنے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔
دستور کے راہنما اصولوں کی شق ۴۴ حکومت ہند سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ملک میں ایک ایسا ماحول قائم کرنے کی کوشش کرتی رہے کہ بالآخر تمام طبقات یکساں سول کوڈ کو قبول کرنے پر آمادہ ہوجائیں، بظاہر گذشتہ حکومتوں نے اس سلسلے میں کوئی عملی اقدام نہیں کیا لیکن ۱۹۵۰ء سے لے کر اب تک مختلف عدالتوں نے مختلف مواقع پر یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا مطالبہ کرکے باربار اس بحث کوتازہ کیا ہے، نیز ایسے بھی بہت سے فیصلے کیے گئے ہیں جس میں مختلف مذاہب کے عائلی نظاموں کی نفی اور تضحیک ہوتی ہے۔ حکومتوں نے ان فیصلوں کو قبول بھی کیا ہے۔ ۱۹۸۵ء کے شاہ بانو کیس کے دوران بھی یہ بحث عدالتوں سے نکل کر سڑکوں تک اور سڑکوں سے پارلیمنٹ تک پہنچ گئی تھی اور بالآخر حکومت کو ایک قانون پاس کرکے چیف جسٹس کے فیصلے کو بدلنا پڑا تھا۔ لیکن اس فیصلے کے منفی اثرات بھی پورے ملک نے محسوس کیے اور اس کے نتیجے میں ایک رد عمل کی سیاست کو بھی فروغ حاصل ہوا۔ بابری مسجد کی تحریک سے لے کر اس کی شہادت تک کے واقعات اسی شاہ بانو کیس کے رد عمل کا سیاسی نتیجہ رہے ہیں۔ اس معاملے پر جب بھی بحث کی جاتی ہے تو عام طور پر ملک کے مسلمان اس کے خلاف کھڑے ہوجاتے ہیں اور فوری طور پر کسی بھی یکساں سول کوڈ کو قبول کرنے کا یکسر انکار کردیتے ہیں جس سے برادران وطن میں یہ پیغام جاتا ہے کہ اس کی راہ میں صرف مسلمان ہی سد راہ ہیں جب کہ سچ یہ ہے کہ اس ملک کے عیسائی، سکھ، مختلف قبائل اور خود ہندووں کا بڑا طبقہ بھی یکساں سول کوڈ کا اتنا ہی مخالف ہے جتنا کہ مسلمان ہیں، لیکن انکار میں مسلمانوں کی پہل کی وجہ سے مسئلہ فرقہ وارانہ رنگ اختیار کرجاتا ہے اور ملک کی کرپٹ سیاسی جماعتوں کو اس بہانے فرقہ وارانہ سیاست کا موقع بآسانی دستیاب ہوجاتا ہے۔ گذشتہ ۷۰ سال میں دفعہ ۴۴ کا یہی سیاسی استعمال مختلف سیاسی جماعتیں کرتی رہی ہیں اور مسلمان بھی اس نام پر ہمیشہ ہی چڑتے رہے ہیں، یہ مطالبہ کبھی کسی جانب سے نہیں کیا گیا کہ یکساں سول کوڈ کا نفاذ رائے عامہ ہموار کرنے کے بعد حکومت وقت کی ذمہ داری ہے، لہٰذا حکومت کا فرض ہے کہ وہ یکساں سول کوڈ کا نقشہ اور اس کے نفاذ کا طریقئہ کار مرتب کرکے ملک کے سامنے پیش کرے اور ملک کو یہ بتائے کہ یہ مشترکہ کوڈ کیاہوگا؟ کس مذہب کے عائلی نظام کی بنیاد پر ہوگا؟ اور دیگر مذاہب کے عائلی نظاموں کو اس مشترکہ نظام میں کیسے سمویا جاسکے گا؟ ایسا کوئی بھی نقشہ تیار کرنا کسی بھی حکومت کے بس کا روگ نہیں ہے۔ اسی لیے حکومتیں اس معاملے کو ٹالتی رہی ہیں۔ دستور اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ ایسا کوئی بھی نظام عوامی رائے عامہ کی منظوری کے بغیر نافذ نہیں کیا جاسکتا۔مگر یہ طے نہیں ہے کہ وہ رائے عامہ کیسے حاصل کی جائے گی اور اس کے اظہار کا طریقہ کوئی ریفرنڈم ہوگا یا محض چند نمائندوں کی رائے کو ہی رائے عامہ سمجھ لیا جائے گا۔ یہ بھی ایک دلچسپ تماشہ ہے کہ یکساں سول کوڈ کی بحث ۷۰ سال پہلے جس انداز میں ہماری دستور ساز اسمبلی میں ہوئی تھی اس میں ابھی تک کوئی فرق نہیں آیا ہے۔۲۳ نومبر ۱۹۴۸ء کو اس معاملے پر دستور ساز اسمبلی نے طویل بحث کی تھی جس میں مدراس کے مسٹر اسماعیل، بنگال کے نظیر الدین احمد، مدراس کے ہی محبوب علی بیگ، بہار کے حسین امام صاحب نے اپنی ترمیمات پیش کرتے ہوئے اسے پورے ملک کے لیے خطرناک قرار دیا تھا اور آئین کے بنیادی حقوق کی دفعہ ۲۵ سے متصادم بھی قرار دیا تھا۔انہوں نے یہ دلیل دی تھی کہ ۷۰۰ سوسال مسلمانوں کی حکومت اور ڈیڑھ سوسال انگریزوں کی حکومت نے ملک میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے عائلی نظام سے کبھی کسی چھیڑخانی کی ضرورت محسوس نہیں کی، جب اتنے لمبے عرصے تک یہ تمام مختلف مذہبی طبقات اپنے اپنے عائلی نظام کو مانتے ہوئے ملک کو پرامن رکھ سکتے ہیں تو اب کسی یکساں عائلی نظام کی کیا ضرور ت ہے۔ اس بحث کا تفصیلی جواب کے ایم منشی اور ڈاکٹر بھیم راو امبیڈکر نے دیا تھا اور مذکورہ حضرات کی تمام دلیلوں کو خارج کرتے ہوئے اس دفعہ کو آئین کے رہنما اصولوں کے طورپر پاس کردیا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت بھی اس کی مخالفت میں صرف مسلمان کھڑے ہوئے تھے اور کسی غیرمسلم رکن اسمبلی نے اس کی مخالفت نہیں کی تھی اور آج بھی انہیں دلیلوں کے ساتھ صرف مسلمان ہی میدان میں ہیں، دیگر مذاہب کے لوگ یکساں سول کوڈ کو ناپسند کرنے کے باوجود خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، ایسے میں مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ انتہائی حکمت کا مظاہرہ کریں اور اپنے اوپر الزام نہ لیتے ہوئے ملک کے ان تمام طبقات جو اس کے حق میں نہیں ہیں، انہیں کو پہل کرنے کا موقع دیں۔ حال ہی میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بھی اس سلسلے میں اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے سخت الفاظ میں کہا ہے کہ یکساں سول کوڈ کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا اور اسے نظام شریعت میں مداخلت تصور کیا جائے گا۔ اس قسم کے بیانات قبل از وقت اور غیر ضروری محسوس ہوتے ہیں، خصوصا ان حالات میں جب حکومت خود ہی یکساں سول کوڈ کا نقشہ کار پیش کرنے سے عاجز ہو اور منطقی طور پر بھی یہ بات صحیح ہے کہ جو چیز ابھی تک عدم سے وجود میں نہیں آئی ہے اس کا انکار کیوں کر ممکن ہے۔ اس کا نقشہ کار ہی ترتیب دینا ایک کار دارد ہے۔ ہمیں حکومت کو یہ موقع دینا چاہیے کہ وہ پہلے اپنا کام مکمل کرلے اس کے بعد ظاہر ہے کہ اس کے نقشے پر بحث تو ہوگی ہی۔ اس کے بعد اگر کوئی غیر شرعی چیزیں سامنے آتی ہیں تو اس پر بحث کرنے کا بھی موقع ہے، احتجاج کرنے کا بھی موقع ہے اور واضح دلیلیں دینے کا بھی موقع مل جائے گا، تب اس کا انکار منطقی بنیادوں پر ہوگا اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو بھی اس پر اعتراضات کے مواقع مل جائیں گے۔ بہرحال! مسلمانان ہند کو اس سلسلے میں جلد بازی میں کوئی فیصلہ کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور ملک میں اس موضوع پر جو عام بحث چھڑی ہے منطقی دلائل کے ساتھ اس میں حصہ بھی لینا چاہیے اور متعلقہ سرکاری اداروں سے رابطے بھی کرنے چاہئیں۔ بورڈ کا یہ اعلان کہ وہ لاء کمیشن کے سوالنامے پر رائے زنی نہیں کرے گا سراسر خلاف حکمت ہے۔ اس دوران یہ بھی بہت ضروری ہے کہ مسلمانوں کے ارباب حل وعقد مسلم قانون کی تدوین کا کام جنگی پیمانے پر پورا کرلیں۔ یکساں سول کوڈ سے قرار واقعی مقابلہ آرائی کے لیے ایک مدون مسلم قانون سے بڑا کوئی دوسرا ہتھیار نہیں ہوسکتا۔
(مضمون نگار مسلم پولیٹیکل کونسل کے صدر ہیں )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *