مسلمان سڑکوں پر نماز سے گریز کریں: آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ

مسلمان سڑکوں پر نماز سے گریز کریں: آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ
اقلیتوں پردھونس جماناعادت سی بن گئی ہے:مولانامحمدولی رحمانی


لکھنو-۲۸؍جولائی:(نمائندہ خصوصی) اتر پردیش کے کچھ شہروں میں سڑک پر نماز پڑھنے کی مخالفت میں کچھ ہندووادی تنظیموں کی طرف سے ہنومان چالیسا پڑھنے کے واقعات کے درمیان مسلم پرسنل لاءبورڈ نے مسلمانو‍ سے سڑکوں پر نماز ادا کرنے سے گریزکرنے کو کہا ہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کے سیکرٹری جنرل امیرشریعت مولانامحمدولی رحمانی نے کہاہے کہ شریعت کے مطابق خالی جگہ پرنمازاداکی جا سکتی ہے۔خالی جگہ پر نماز پڑھنا جائز ہے۔ اس سوال پر کہ سڑک تو کوئی خالی جگہ نہیں ہے تو مولانا نے کہا کہ وہ اس کے آگے کچھ نہیں کہنا چاہتے۔میری بات کامطلب نکالنے کا کام سننے اور پڑھنے والوں پرچھوڑ دیں۔ادھر ہندووادی تنظیموں کی طرف سے جبرا’جے شری رام‘ بلوانے اور مخالفت میں مارپیٹ کیے جانے کے حالیہ واقعات پر بورڈ کے ایک اور سینئر رکن مولاناخالدرشید فرنگی محلی نے کہا کہ انہوں نے ہندوتو کے بارے میں جتنا بھی پڑھا ہے، اس میں کہیں بھی زور زبردستی کی گنجائش نہیں ہے۔ رام نے کہیں بھی اپنے ماننے والوں سے یہ نہیں کہا ہے کہ کسی سے جبراََجے کارا لگوائیں ۔انہوں نے کہاہے کہ جو لوگ ایسا کر رہے ہیں مجھے لگتا ہے کہ انہیں رام اور ان کی تعلیم پر گہرائی سے مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ انہیں پتہ چلے کہ وہ جن کے نام پر ظلم کر رہے ہیں ان کااس بارے میں کیا کہنا ہے۔مولانامحمدولی رحمانی نے کہاکہ ہنومان چالیسا، بھگوا چولا پہن کر، افراتفری پھیلانا، اقلیتی معاشرے پردھونس مارنا، کچھ لوگوں کی عادت بن گئی ہے۔دوسری طرف مسلمانوں کامارکھانے کے بعدبلبلاکررہ جانے کامزاج بن گیاہے۔خالدرشید فرنگی محلی نے سڑک پر نماز پڑھے جانے کے معاملے پر کھل کر اپنی رائے رکھی۔انہوں نے کہاکہ نماز اللہ کی عبادت ہے۔کسی کو تکلیف دے کر عبادت کرنا ٹھیک نہیں ہے۔حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سڑک پر نماز پڑھنا کوئی روزانہ کی بات نہیں ہے۔صرف جمعہ کے دن، وہ بھی چند مساجد میں جب جگہ ختم جاتی ہے تو لوگ مجبورا سڑک پر نماز پڑھتے ہیں لیکن اگر کسی کواس میں کوئی اعتراض ہے تو نمازیوں کو تھوڑی زحمت اٹھا کر دوسری مساجد میں وقت سے پہنچ کر نماز ادا کر لینی چاہیے۔معلوم ہو کہ ریاست کے ہاتھرس ضلع میں حال میں ہندو یوا واہنی کے کارکنوں نے سڑک پر نماز پڑھے جانے کی مخالفت میں سکندراراو علاقے میں ہنومان مندر کے باہر سڑک پر ’ہنومان چالیسا‘ کا وردکیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ جب سڑک پر نماز پڑھی جا سکتی ہے تو ہنومان چالیسا کیوں نہیں؟ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب ہر منگل کو سڑک پر چالیسا پڑھا جائے گا۔علی گڑھ میں بھی سڑک پر نماز پڑھے جانے کی مخالفت میں ہنومان چالیسا شروع ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے سڑک پر بغیر اجازت ایسی کسی بھی سرگرمی پر پابندی لگا دی تھی۔

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply