مسلم پرسنل لا بورڈ کا لا کمیشن کے سوالنامہ کے بائیکاٹ کا فیصلہ

یونیفارم سول کوڈمسلمانوں کے لئے ناقابل قبول، ہم سب قانون شریعت کے پابند
مسلمان عورتیں اور حضرات مسلم پرسنل لا بورڈ سے جاری دستخطی مہم کا ساتھ دیں

نئی دہلی(پریس ریلیز):

یکساں سول کوڈ کے سلسلہ میں لا کمیشن نے جو سوالنامہ قائم کیا ہے، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور تمام مسلم جماعتیں، جمعیۃ علماء ہند، جماعت اسلامی ہند، مسلم مجلس مشاورت، ملی کونسل، مرکزی جمعیت اہل حدیث، نیز تمام مسالک دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ، اس کو مسترد کرتے ہیں، اور واضح کرتے ہیں کہ یہ مسلمانوں کے لئے ہرگز قابل قبول نہیں ہے، نیز مسلمانوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اس کا بائیکاٹ کریں اور اس سوالنامہ کا جواب نہ دیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ سوالنامہ کمیشن کی بدنیتی کا مظہر اور مسلم پرسنل لا کو ختم کرنے کی سازش ہے۔ اس سوالنامہ میں کوشش کی گئی ہے کہ جواب دینے والوں کو الجھادیا جائے۔ کمیشن نے دستور کی دفعہ ۴۴؍ کاحوالہ دیتے ہوئے یکساں سول کوڈ کو ایک دستوری عمل قرار دینے کی کوشش کی ہے،یہ بالکل دھوکہ اور جھوٹ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دفعہ ہدایات کا حصہ ہے، جس پر عمل کرنا ضروری نہیں ہے۔ دستور کے جس حصہ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، وہ دستور میں مذکوربنیادی حقوق کا حصہ ہے، جس کی دفعہ ۲۵؍ضمانت دیتی ہے کہ ملک کے ہر شہری کو مذہب کے مطابق عقیدہ رکھنے، مذہبی قوانین پر عمل کرنے اور مذہب کی تبلیغ کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ معزز عدالتوں نے بھی ہمیشہ اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اصل اہمیت بنیادی حقوق کی ہے۔ اگر واقعی حکومت اخلاقی ہدایات پر عمل کرنا چاہتی ہے تو اس کو چاہیے کہ عوام کی بھلائی سے متعلق جو دفعات ہیں، جیسے: شراب پر مکمل پابندی، ہر بچہ کے لیے تعلیم کی مفت فراہمی، ہر ایک کے لیے صحت و علاج کا انتظام، ہر گھر میں بیت الخلاء کا نظم وغیرہ، ایسے کاموں کو انجام دے، کہ اس میں کسی طبقہ کا اختلاف نہیں ہے، یہ وطن عزیز کی بنیادی ضرورت ہے، اور اِن سے ملک کے تمام شہریوں کو فائدہ ہوگا۔ یہ سوچنا بالکل غلط ہے کہ یکساں سول کوڈ سے قومی یکجہتی پیدا ہوگی۔ دنیا میں بہت سی جنگیں ایسی دوقوموں کے درمیان ہوتی رہی ہیں، جو ایک ہی پرسنل لا پر عمل کیا کرتی تھیں۔ کیا اس حقیقت سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ دونوں جنگ عظیم یورپ کی ان قوموں کے درمیان ہوئیں، جن کا مذہب ایک تھا اور جو ایک ہی پرسنل لا پر عمل کرتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ یکساں سول کوڈ کی کوشش قومی یکجہتی کی بجائے افتراق کا سبب بنے گی۔ اقلیتوں میں احساس محرومی پیدا ہوگا اور یقیناًیہ بات ملک کے لیے نقصان دہ ہوگی۔ ملک میں بسنے والے تمام مذاہب اور طبقہ کے لوگوں، ہندوؤں، مسلمانوں، عیسائیوں، بدھسٹوں، سکھوں، دلتوں اور آدیباسیوں وغیرہ نے مل کر آزادی کی جنگ لڑی ہے اور مادر وطن کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرایا ہے۔ انہوں نے اس لڑائی میں پوری یکجہتی کے ساتھ حصہ لیا اور شانہ بشانہ جنگ آزادی میں شریک رہے؛حالانکہ اِن سب کا پرسنل لا الگ الگ تھا ۔ امریکہ ،ہندوستان کے مقابلہ میںآبادی کے اعتبار سے چھوٹا ملک ہے، لیکن وہاں ہر ریاست کا پرسنل لا الگ ہے۔ عوام کی خواہش اور ان کی مرضی کی رعایت کی وجہ سے وہ ملک متحد ہے اور آگے بڑھ رہا ہے۔ ہندوستان کا دستور بھی کثرت میں وحدت کے اصول پر بنایا گیا ہے کہ مختلف مذہب کے ماننے والے لوگ سماجی زندگی میں اپنے مذہبی قوانین پر عمل کرنے میں آزاد ہوں، اور اس اختلاف کے باوجودایک متحدہ قوم کی حیثیت سے ملک کی ترقی اور اس کی حفاظت میں حصہ لیں۔ ہندوستان جیسا ملک جو مختلف مذاہب، تہذیبوں اور زبانوں کا گلدستہ ہے اور جہاں بعض قبائلی گروہوں کو اس وعدہ پر قومی دھارے میں لانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ان کا تہذیبی تشخص محفوظ رہے گا اور اس میں کوئی دخل نہیں دیا جائے گا، وہاں اس قسم کی کوشش ملک کی سالمیت کو بھی خطرہ میں ڈال سکتی ہے۔
ہندوستان ایک کثیر مذہبی اور کثیر تہذیبی ملک ہے۔ تمام مذہبی اور تہذیبی اکائیوں کے پرسنل لا ان کی اپنی مذہبی کتابوں سے مستنبط اور ماخوذ ہیں اور ہر گروہ کی تہذیبی شناخت میں ان کی کلیدی حیثیت ہے۔ لہٰذا ان سے چھیڑ چھاڑ کی کوشش نہ صرف مذہبی آزادی کے دستوری و بنیادی حق کو متاثر کرے گا بلکہ ہر تہذیبی اکائی کی منفرد شناخت کو ختم کردیگی۔
لا کمیشن کا سوال نامہ گنجلک اور گمراہ کن ہے۔ اس میں یہ تصور کرلیا گیا ہے کہ پرسنل لاز سماجی ناانصافی اور صنفی امتیازات پیدا کرتے ہیں اور انہوں نے عورتوں کے حقوق کو فی نفسہ ختم کردیا ہے۔ اس سوال نامہ سے سائل کی منشاء پوری طرح واضح ہوجاتی ہے۔ سوال نامہ کے متعدد سوالات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایک خاص مذہبی گروہ اور اس کے پرسنل لا کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
تین طلاق، تعدد ازدواج اور نفقہ مطلقہ کے مسئلے پر سپریم کورٹ میں حکومت کا حلف نامہ ہو یا لا کمیشن کا سوال نامہ دونوں کا مقصد ملک میں یونیفارم سول کوڈ کی راہ ہموار کرنا ہے۔ ایسے وقت میں جب کہ ملک متعدد اہم اور سنگین مسائل سے دو چار ہے، ایک اختلافی مسئلہ کو چھیڑ کر سماج میں انتشار پیدا کرنے اور سماجی تانے بانے اور فرقہ وارانہ ماحول کو بگاڑنے کی یہ ایک مذموم کوشش ہے، جس کی سماج کے ہر طبقہ اور ہر انصاف پسند شخص کو مخالفت کرنی چاہیے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت اس اختلافی مسئلہ کو ابھار کر اہل ملک کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانا چاہتی ہے جن پر قابو پانے میں وہ ناکام ہوچکی ہے۔ ہم ملک کی تمام سیکولر پارٹیوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ حکومت کی اس کوشش کی بھرپور مخالفت کریں تاکہ حکومت کواس اقدام سے باز رکھا جائے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ لاکمیشن اور حکومت پر یہ بات واضح کردینا چاہتا ہے کہ مسلم پرسنل لا تمام مسلمانوں کے دلوں کی آواز ہے، وہ اپنی شریعت میں ایک نقطہ کی تبدیلی کو بھی گوارہ نہیں کرسکتے،اور تمام مسلم جماعتیں، تنظیمیں اور مسالک مسلم پرسنل لا بورڈ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ لا کمیشن کے سوالنامہ کے بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ بھی سبھوں نے مل کر اور پورے غور و فکر کے بعد کیا ہے۔
بورڈ مسلمانوں کو بھی اطمینان دلانا چاہتا ہے کہ وہ مسلم پرسنل لا کی مخالفت میں دائر کیے گئے مقدمات کے خلاف پوری تیاری اور باہمی توافق کے ساتھ پیروی کررہا ہے۔ بورڈ نے اس کے لیے اچھے وکلاء کا پینل بنایا ہے، سینئر وکلاء کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، نیز عدالت میں شرعی اور قانونی دونوں پہلوؤں سے مدلل بیان داخل کیا گیا ہے۔ بورڈ پوری قوت کے ساتھ اپنے اس موقف پر قائم ہے کہ وہ شریعت کے مقررہ احکام میں ایک حرف کی بھی کمی و بیشی کو قبول نہیں کرے گا،کیونکہ یہ احکام قرآن و حدیث سے ثابت ہیں اور انسانی مصلحت و ضرورت سے بھی ہم آہنگ ہیں۔ بورڈ کو پوری امید ہے کہ اگر عدالت نے اس کے داخل کیے ہوئے بیان کو توجہ کے ساتھ پڑھا تو فیصلہ بورڈ کے حق میں ہوگا۔ بورڈ مسلمانوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اپنی تائید کے ذریعہ بورڈ کی آواز کو قوت پہنچائیں اور بورڈ اس مہم میں جو بھی کہے، اس کی آواز پر لبیک کہیں۔

پریس کانفرنس کو خطاب کرنے والے
۱۔ (مولانا) محمد ولی رحمانی جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
۲۔ (مولانا) سید ارشد مدنی صدر جمعیتہ علماء ہند
۳۔ جناب محمد جعفر سابق نائب امیر، جماعت اسلامی ہند
۴۔ (مولانا) اصغر علی امام مہدی سلفی ناظم عمومی، مرکزی جمعیت اہل حدیث
۵۔ (مولانا) سید محموداسعد مدنی جنرل سکریٹری، جمعیتہ علماء ہند
۶۔ (مولانا) توقیر رضا خان صدر، اتحاد ملت کونسل
۷۔ ڈاکٹر محمد منظور عالم جنرل سکریٹری، آل انڈیا ملی کونسل
۸۔ جناب نوید حامد صدر، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت
۹۔ (مولانا) ابوالقاسم نعمانی مہتمم، دارالعلوم دیوبند
۱۰۔ (مولانا) محسن تقوی امام، شیعہ جامع مسجد، کشمیری گیٹ، دہلی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *