جوکی ہاٹ میں فرقہ پرست طاقتوں کو روکناضروری: نظر عالم

پٹنہ : مسلم بیداری کارواں کے صدر نظر عالم نے کہا کہ جوکی ہاٹ اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخابات میں سیکولر ووٹروں خاص طور سے مسلمانوں کو دانشمندی کا ثبوت دینا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ۔28؍مئی 2018ء  جوکی ہاٹ میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے لیے کئی مسلم امیدوار میدان میں ہیں۔ ایسے میں رائے دہندگان کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لیکن جس طرح سے پچھلے کچھ دنوں سے بہار کو فرقہ پرست طاقتیں دنگا فساد کی آگ میں جھوکنے کی ناپاک کوشش کررہی ہے اُسے روکنے کے لیے مسلم ووٹرس کو پوری دانشمندی سے کام لینے کی ضرورت ہے تاکہ فرقہ پرست طاقتوں کو اُس کے مقصد میں ناکام کیا جاسکے۔

آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدر نظر عالم نے کہا کہ جس طرح سے سبھی پارٹیوں نے جوکی ہاٹ کی سیٹ پر مسلم امیدوار کھڑا کیا ہے اُس سے یہ بات تو ثابت ہوگیا ہے کہ مسلمانوں کو اب سیاسی پارٹیاں نظرانداز نہیں کرسکتی، اُسے اس کے جائزحقوق دینے ہی ہوں گے اور اگر ایسا سیاسی پارٹیوں نے آنے والوں دنوں میں کرنا چھوڑ دیا تو یقیناًآنے والے دنوں میں سبھی سیاسی پارٹیوں کو بڑا نقصان اُٹھانا پڑے گا۔کوئی بھی سیاسی پارٹیاں اگر یہ سوچ رہی ہے کہ بہار میں اقلیتوں کو نظرانداز کر حکومت کرلیں گے تو یہ خواب دیکھنا بند کردے۔ مسلمانوں کا ایک بڑا حصہ پرانے مسلم لیڈران جس نے بیس بیس سال سے اپنے حلقہ پر قبضہ جما رکھا ہے جس وجہ کرمسلمان پستی کی حالت میں مزیدپہنچتا جارہا ہے ، مسلمانوں کا ایسے لیڈران کی طرف سے بھی رُجحان ہٹتا جارہا ہے یہی وجہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں پرانے لیڈران کو زیادہ ترجیح دینے کے چکرمیں کئی اہم سیٹوں سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے۔ مسٹر عالم نے آگے کہا کہ اب مسلمانوں کو بھی اپنے اپنے حلقے میں مضبوط اور ایمانداری سے کام کرنے والے نئے نئے نوجوان چہروں کی تلاش ہے جس پر ہرسیاسی پارٹیوں کو غور کرنے ضرورت ہے اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو 2019 کے لوک سبھا اور 2020کے اسمبلی انتخاب میں پرانے مسلم لیڈران کی وجہ کر بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا اور کہیں نہ کہیں بھاجپا پھر سے ایک بار بہار میں مضبوط ہوجائے گی۔ اقلیتوں کی ترقی کا دعویٰ کرنے والی حکومتیں صرف ہوا ہوائی میں فلاحی اسکیموں کا نعرہ دے رہی ہے زمینی سطیح پر کہیں بھی اقلیتوں کے ترقیاتی منصوبے پر کام نہیں ہورہا ہے۔ پورے بہار میں اگر دیکھا جائے تو موجودہ حکومت میں صرف چاپلوس قسم کے مسلمانوں کو ہی جگہ دی گئی ہے جس سے مسلمانوں کے ترقیاتی منصوبے پر کام نہیں ہوپارہا ہے صرف چاپلوسوں کی دُکانداری چلتی دکھائی دے رہی ہے۔ 4000 ہزار کے لگ بھگ اُردو اساتذہ در در کی ٹھوکریں کھانے کو مجبور ہیں ۔ ضلع سے لیکر بلاک سطح پر کہیں بھی اُردو کا ملازم نہیں ہے ۔ نہیں تو کہیں اُردو مترجم ہے، نہ ہی اُردو ٹائپسٹ ہے۔ ایسے میں حکومت کا دعویٰ سراسر جھوٹا اور فریب ہے۔ مدرسہ بورڈ کے مولویوں کو وقت پر کبھی تنخواہ نہیں دیا جاتا، مدرسہ کی منظوری کے نام پر حکومت اور مدرسہ بورڈ کی ناکامی پوری طرح سے اُجاگر ہوچکی ہے کیوں کہ کئی سالوں سے مولوی مدرسہ بورڈ اور سکریٹریٹ کا چکرکاٹ کاٹ کر مزید قرض میں مبتلا ہوچکے ہیں۔وقف کی املاک کو راجدھانی پٹنہ سے لیکر ضلع سطح پر سبھی وقف ممبران اور چیئرمین بیچ کر کھا رہے ہیں اور حکومت ان لوگوں کی سرپرستی کررہی ہے۔ اگر مسلمانوں کو آگے بڑھنا ہے، آنے والی نسل کو اعلیٰ تعلیم سے روشناس کرانا ہے، اپنے بچوں کے مستقبل کو سنوارنے کے لئے بہتر روزگار چاہئے تو نیند سے جاگنا ہوگا اور صحیح غلط کی پہچان کرنی ہوگی تبھی جاکر مسلم قوم ترقی کرسکتی ہے۔ مسٹر نظرعالم نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ 28؍مئی کو آپ اپنا قیمتی ووٹ اُسی امیدوار کو دیں جو آپ کے حق میں بہتر ہو، آپ کے حلقہ کی ترقی کرے، آپ کے بچوں کی تعلیم کے بارے میں عملی اقدام کرے، آپ کے ملی مسائل اور سیاسی کومنصوبے عملی شکل دے سکے، علاقے میں امن اور بھائی چارے کے ماحول کو قائم رکھ سکے اور فرقہ پرست طاقتوں کے کسی بھی ناپاک منصوبے کا ڈٹ کر مقابلہ کرسکے۔ بہار میں پچھلے کئی مہینوں سے لگاتار اقلیتوں کو نشانہ بنایا گیا اور رام نومی کے موقع پر لگ بھگ 25 ضلع میں چھوٹا بڑا فسادبرپا کرایا گیا جس میں بڑے پیمانے پر مسلمانوں کو نقصان اٹھاناپڑا، مسجدوں پر بھگوا جھنڈا لٹکا دیا گیا، مدرسے کے بچوں کو مارا پیٹا گیا اور کئی جگہوں پر آج بھی بے قصور مسلمان جیل کی سلاخوں میں ہے۔ آپ تمام لوگوں کو معلوم ہوگا کہ پچھلے دنوں فاربس گنج میں مسلمانوں کو پولیس کے ذریعہ مار دیا گیا جس کا انصاف آج تک حکومت اور پولیس انتظامیہ کی جانب نہیں مل پایا۔ اب سوچنا آپ حلقہ کے لوگوں کو ہے کہ آپ کے حق میں بہتراُمیدوار اور پارٹی کون ہے جسے 28؍مئی کو اپنا قیمتی ووٹ دے کر کامیاب بنایا جاسکے۔ اپنے قیمتی ووٹوں کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ہرگز فرقہ پرست طاقتوں کو پنپنے کا موقع نہیں دیں۔ یاد رکھئے! ہمارا اتحاد کی ہی ہماری کامیابی کا ضامن ہے۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *