مسلمانوں کے مسلمان جیسے دشمن

عمر فراہی

اندھی تقلید کی بحث شروع ہوتے ہی ہمارا ذہن غیر مقلد حضرات کی طرف چلا جاتا ہے جبکہ یہ تعبیر کی وہ غلطی ہے جو اکثر شک و شبہات اور فساد کا سبب بنتی ہے۔ درحقیقت اندھی تقلید ایک محاورہ ہے جو عام طورپر زندگی کے تمام شعبوں حیات پر لاگو ہوتا ہے اور اکثر جو تقلید کے قائل نہیں ہیں، وہ بھی اس کا شکار ہوجاتے ہیں۔ مثال کے طورپر جب ہم کسی کی تحریر و تصنیف کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ نہیں دیکھتے کہ مصنف کون ہے، مصنف کا نظریہ کیا ہے، وہ پہلے کیا تھا اور اب کیا ہے اور اب اس کے بین السطور میں کیا وہی پیغام ہے جس کی وجہ سے اہل حق کے درمیان اس نے شہرت پائی تھی یا اب وہ کسی مفاد کے تئیں بک چکا ہے اور ہم کیوں ہر کسی کے مضامین کو سرسری طور پر پڑھ کر نتائج اخذ کر لیں؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم زندگی کے ہر معاملات میں غور و فکراور تحقیق وجستجو کے بعد نتائج اخذ کریں۔ خاص طور سے موجودہ پرفتن دور میں برق رفتار دجالی میڈیا کے جھوٹے پروپگنڈے اور اس پروپگنڈے کے فوری بعد سوشل میڈیا پر شروع ہونے والے بحث ومباحثہ کے بعد باتوں کے عمل اور ردعمل کا جوسلسلہ چل نکلتا ہے اس بحث میں ہمیں بغیر تحقیق اور سمجھے بوجھے رٹے رٹائے جملوں کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے تاکہ کہیں انجانے میں ہم اسلام مخالف میڈیا اور تحریکوں کے ہاتھوں کا کھلونا نہ بن جائیں، جیسا کہ ہمیشہ کی طرح حالیہ دنوں میں بھی ذاکر نائک کے خلاف پولس میں شکایت اور میڈیا ٹرائل سے لے کر طلاق اور قربانی کے مسئلے میں بھی اسلام دشمن میڈیا نے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی ناپاک جسارت کی اور کہیں نہ کہیں ان تمام معاملات میں دانستہ اور نادانستہ طورپرمسلمانوں میں شامل ایک طبقہ خود مسلمانوں کے مد مقابل کھڑا ہوکر باطل میڈیا کی سازش کا شوق پورا کرتا ہوا نظر آیا اور مسلمانوں کے ایک اخبار کے ایڈیٹر نے تین قسطوں میں اداریہ لکھ کر ذاکر نائک کے مجرم ہونے کا ماحول بنایا۔ تعجب تو اس بات پر ہے کہ جب کبھی بھی اسلام مخالف طاقتوں نے ایک نشست میں تین طلاق کے معاملے کو لے کر مسلمانوں کا مذاق اڑانا شروع کیا ہے تو اسی دوران سوشل میڈیا پر غیر مقلد حضرات بھی جو کہ خود بھی اسلام دشمنوں کے نشانے پر رہے ہیں غیروں کی سازش کو سمجھے بغیر آپس میں ایک دوسرے طبقے کے خلاف الجھتے ہوئے نظر آئے ہیں۔ دوسرا گروہ لبرلس، قادیانیوں اور میر جعفروں کا ہے جو ذاکر نائک کے معاملے میں بھی اسلام دشمنوں کے ساتھ تھا اور وہ ہر صورت میں اہل حق کی شناخت کو مشتبہ بنا دینا چاہتا ہے۔ مثال کے طور پر ادیبوں اور دانشوروں کے ایک سوشل فورم پر جب ایک ہم عصر صحافی اور دانشور نے رسمی طورپر عید الاضحی کی مبارکباد پیش کی تو اسی فورم پر موجود ایک ویب سائٹ ‘دی نیو ایج اسلام’ کے ایڈیٹر سلطان شاہین نے فوری طورپر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ مبارکباد تو ہم بھی مسلمانوں کو پیش کرتے ہیں مگر عید کے دن جانوروں پہ ظلم اور خون کا بہانا ایک پرامن مذہب کی علامت نہیں ہے۔ عیدالاضحی کے اس موقع پر پچھلے کئی سالوں سے مسلمان بجرنگ دل اور ہندو دہشت گردو کی دہشت گردی سے تو دوچار ہوتا رہا ہے، امسال سوشل میڈیا پر کچھ مسلم نام اور شکل و صورت کے لوگ بھی قربانی کے خلاف متحرک نظر آئے اور تقریباً تین چار مہینے پہلے ہی ایک نام نہاد مسلم ایکٹر عرفان نے عید کے دن مسلمانوں کے اس قربانی کے عمل کی مخالفت میں بیان جاری کیا۔ اس کے بعد ٹائمس آف انڈیا کی کالم نگار اور سماجی شخصیت جیوتی پنوانی نے بھی کچھ نام نہاد مسلمانوں کے حوالے سے قربانی کے عمل کو باطل ٹھہرانے کی ناکام کوشس کی اور آرایس ایس کی تربیت یافتہ ایک تنظیم مسلم راشٹریہ منچ نے، جس میں کہ میر جعفروں اور میر قاسموں کی پوری بھیڑ اکٹھا ہے، عیدالاضحیٰ کے دن کیک کاٹ کر قربانی کی مخالفت کی۔ غرض کہ سوشل میڈیا پر امسال اس بحث کو کچھ زیادہ ہی طول دینے کی کوشس کی گئی اور مسلمانوں کے اس قدیم اور بنیادی عقیدے کے خلاف جہاں آرایس ایس اور ہندو تنظیمیں سرگرم نظر آتی تھیں اس بار میر جعفر میر صادق اور لبرلسٹ بھی کچھ زیادہ سرگرم نظر آئے۔ شاید دہشت گردی، ذاکر نائک، تبدیلئی مذہب، درگاہوں میں مسلم عورتوں کے داخلے اور طلاق کے دیگر عنوانات کے ساتھ قربانی کے عمل سے کہیں نہ کہیں اسلام مخالف طاقتوں کے ہر طبقے کے اپنے مفاد کو نقصان پہنچا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی ایک طبقہ جو اسلام سے بہت زیادہ ہی خوفزدہ ہے کسی نہ کسی عنوان پر ہر اس غیرمسلم طبقے کو بھی اسلام اور مسلمانوں کا دشمن بنا دینا چاہتا ہے جو ابھی تک مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی یا مساوات کا جذبہ رکھتے ہیں۔ اہل حق کو اس بات کا دھیان رکھنا چاہیے کہ اگر وہ کسی فقہی مسائل پر آپس میں اتفاق نہ بھی رکھتے ہوں تو بھی جس طرح باطل تمام انتشار کے باوجود مسلمانوں کے خلاف اکثر و بیشتر ایک پلیٹ فارم پر کھڑا نظر آتا ہے، وہ بھی اتفاق کرکے آگے بڑھیں یا ایسے موقع پر خاموشی اختیار کریں، جیسا کہ محسوس کیا جاسکتا ہے کہ حالات تبدیل ہو چکے ہیں اور غیروں سے کہیں زیادہ مسلمانوں کا دشمن مسلمانوں کے بھیس میں مسلمانوں کے اندر شامل ہوکر مسلمانوں کی جڑیں کمزور کر رہا ہے۔ خاص طور سے اس بار مسلمانوں کے بنیادی عقیدے قربانی کے عنوان کو بھی منصوبہ بند طریقے سے بحث کا موضوع بنایا گیا تاکہ مسلمانوں پر شدید دباؤ بنایا جاسکے اور مسلمان اس دباؤ کو محسوس کرتے ہوئے کہیں نہ کہیں یہ تسلیم کرنے کے لیے مجبور ہو جائیں کہ اسلامی تعلیمات اور قوانین میں بھی نقص ہونے کی وجہ سے تبدیلی کی گنجائش ممکن ہے اور پھر اس کے بعد کامن سول کوڈ کی راہیں ہموار ہوسکیں۔ بہرحال کچھ لوگوں نے اپنے طورپر اس کا جواب دیا بھی اور دیا جانا بھی چاہیے لیکن جو بات ہم کہنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ اکثر سوشل میڈیا پر ہمارے درمیان مسلمانوں جیسے نام کے ساتھ کچھ منافقین بھی شامل ہوتے ہیں جنہیں ہم مسلمانوں جیسے نام ہونے کی وجہ سے شامل تو کر لیتے ہیں لیکن وہ حقیقتاً مسلمانوں کے ساتھ نہیں ہوتے بلکہ اکثر اوقات اس تاک میں رہتے ہیں کہ مسلمانوں کے اکثریتی فرقے میں کوئی تنازعہ اٹھتا ہوا نظر آئے اور وہ اسے مسلمانوں کے درمیان تنازعے کا سبب بنا دیں مگر ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں ان کے اپنے مفاد اور عقیدے پر ضرب لگتی ہے فوری طورپر بے لاگ ٹوک دیتے ہیں اور آپس میں متحد ہو کر اس بات کا رونا رونے لگتے ہیں کہ اس طرح کی مسلکی بحث سے مسلمانوں کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ بڑی عجیب سی بات تو یہ ہے کہ یہی لوگ جب مسلمانوں کی مقدس سرزمین کے لوگوں کے لیے وہابی کی اصطلاح کا استعمال کرتے ہوئے لعنت ملامت کریں تو جائز مگر کسی دوسرے ملک کے لیے رافضی کی اصطلاح قابل مذمت ہے۔ تعجب اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ اکثریتی فرقے کے لوگ جو اپنے حق پر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ایسے موقع پر ذہنی طورپر انتشار کا شکار ہوجاتے ہیں یا مصلحتاً اپنے ذاتی اور معمولی مفاد کے تئیں خاموشی اختیار کر لیتے ہیں یا پھر نام نہاد اتحاد اور بھائی چارگی کی بے چارگی میں مخالف گروہ کی سازش کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ مصلحت کے شکار ایسے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ الجھنے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا جبکہ یہ بات غلط ہے۔ اگر کوئی شخص سماج میں برائی یا جھوٹا پروپگنڈہ پھیلاتا ہے تو اچھے لوگوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اس پر اسی طرح نکیر کریں جیسے کہ باطل میڈیا اسلام کے ہراس ارکان پر حملہ آور ہے جو مسلمانوں کے عقائد کو مضبوط اور مستحکم کرتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ باطل معاشرے کی جو اصل برائی ہے اس پر کوئی آواز نہیں اٹھتی یا اس پر پردہ پڑا رہ جاتا ہے مگر باطل کا پروپگنڈہ غالب آ جاتا ہے۔ مثال کے طورپر دنیا میں کہیں پر اگر درندگی اور قتل عام کی تاریخ دہرائی جاتی ہے تو ہمارے ذہنوں میں بربر قوم اور ہٹلر کی تصویر ہی کیوں گردش کرنے لگتی ہے اور ہم اپنی تحریروں میں ایسے واقعات کے لیے بربریت اور ہٹلریت کی اصطلاح کا استعمال کرتے ہیں تو اس لیے کہ ایک منصوبے کے تحت ایک مخصوص ذہنیت کے میڈیا کی طرف سے مخالف گروہ کے خلاف شدید پروپگنڈہ کیا گیا ہے مگر فلسطینیوں اور شامی مسلمانوں پر ظلم ڈھانے والی قوم اور اس قوم کے خونخوار دہشت گرد حکمرانوں کی فرعونیت اور شیرونیت کا کہیں کوئی تذکرہ بھی نہیں ہوتا۔ چلیے، یہ بھی ٹھیک ہے کہ آپ کسی وجہ سے الجھنا نہیں چاہتے اور ہمارا بھی نظریہ یہ ہے کہ دو لوگوں سے یعنی ایک عالم اور دوسرے جاہل سے کبھی نہ الجھا جائے۔ یعنی وہ شخص جسے آپ جانتے ہوں کہ وہ آپ سے زیادہ علم رکھتا ہے اور آپ کے پاس کوئی دلیل بھی نہ ہو تو بحث کو طول دینے کا کوئی مطلب نہیں اور دوسرا وہ شخص جو جاہل ہو گویا وہ پڑھا لکھا ہی کیوں نہ ہو اگر وہ ضدی اور ہٹ دھرم ہے تو وہ صرف آپ کا وقت ضائع کرے گا۔ بحث اس سے کی جائے جو آپ سے متوجہ ہو اور آپ سے سیکھنا چاہتا ہو یا آپ اس کے اخلاق و اطوار سے واقف ہوں لیکن اگر کوئی جہالت کی بات کر رہا ہو تو آپ بغیر سمجھے اس کی اندھی حمایت یا حوصلہ افزائی بھی کیوں کریں۔ ایسا آج کل سوشل میڈیا پر ہو رہا ہے۔ فیس بک اور وہاٹس ایپ پر لوگ کمنٹ کے ساتھ انگوٹھے کے نشان سے اپنی تائید کا مظاہرہ کرتے ہیں یا کچھ لوگ سبحان اللہ اور جزاک اللہ کے ذریعے دعائیں دیتے ہیں۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک مخالف طبقہ جب اپنے مخالف گروہ کی تحریر میں اپنے مفاد و نظریات کی حمایت میں کوئی مواد دیکھتا ہے تو لکھنے والے کی حوصلہ افزائی میں جزاک اللہ اور تائید کے نشان سے اس کی حمایت کرتا ہے اور اگر ممکن ہوا تو ایسے مضامین کو کسی ہم خیال اخبار میں جگہ بھی دے دی جاتی ہے۔ اس کا ایک فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ لکھنے والا اپنے آپ کو دانشوروں کی فہرست میں شمار کر لیتا ہے اور اخبارات میں چھپنے کے لیے ایسے ہی بے مقصد مضامین میں وقت ضاںُع کرتا ہے جس سے کہ اہل حق کا تو کوئی بھلا نہیں ہوتا لیکن مخالف ذہنیت کا مقصد ضرور پورا ہوتا رہتا ہے۔ ایک بیماری یہ بھی ہے کہ اکثر لوگ بغیر بات کو سمجھے اور مضمون کو پڑھے بھی لائک کے نشان پر تائید کے بٹن دبا دیتے ہیں تاکہ بدلے میں انہیں بھی تائید حاصل ہو۔ ایسا نہ کیجیے، دشمن کی سازش کو سمجھیے۔ غیرمسلموں کو جسے آپ جانتے ہیں ان سے دوستی رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن فیس بک اور وہاٹس ایپ گروپ پر مسلم نما چہروں سے ہوشیار رہیں ممکن ہو تو انہیں بلاک کردیں کیونکہ دشمن ہمارے اندر اور ہمارے جیسے نام کے ساتھ ہماری صفوں میں داخل ہے اور ہم نادانستہ طورپر ان باطل طاقتوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن رہے ہیں۔ باقی آپ کی مرضی۔ حدیث ہے کہ مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔ آپ اپنے بارے میں اندازہ لگا لیں کہ کیا آپ واقعی مومنوں کی اس فہرست میں ہیں۔

umarfarrahi@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *