مسلمانوں پر ہندوستان اور دنیا کی ذمہ داری ہے:رام جیٹھ ملانی

نئی دہلی، ۱۸؍دسمبر(نامہ نگار): معروف وکیل اور ہندوستان کے سابق وزیر قانون رام جیٹھ ملانی نے کہا کہ اگر مسلمان اپنے نبی کے بتائے ہوئے راستے پر عمل کریں اور علم کے میدان میں آگے بڑھیں تو وہ ایک بار پھر دنیا پر سلطانی کرسکتے ہیں۔ یہ باتیں انہوں نے ’’متنوع ہندوستان میں جمہوریت کے لیے آئینی اقدار‘‘ کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئی کہیں۔ انہوں نے کہا آج پوری دنیا اور خاص طور سے ہندوستان میں جو حالات ہیں، اس کی وجہ سے مسلمانوں پر اور بھی زیادہ ذمہ داری آگئی ہے۔ انہیں اپنے ساتھ ہی ملک اور پوری دنیا کے حالات میں بہتری لانے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ ایسا اسی وقت کرسکتے ہیں جب علم کی دولت سے مالامال ہونگے۔

رام جیٹھ ملانی نے کہا کہ آج مسلمان خود مسلمان کا خون بہا رہے ہیں۔ داعش جیسی تنظیمیں اسلام اور مسلمانوں ہی کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ ایسی تنظیموں سے پوری دنیا کو خطرہ ہے۔ ان کے نشانے پر ہندوستان بھی ہے، ان خطروں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ اس کے لیے بہترین راستہ علم کا حصول ہے۔
ساؤتھ ایشین مائنریٹیز لائرس ایسوسی ایشن کے ذریعہ منعقدہ ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے رام جیٹھ ملانی نے کہا کہ حکمرانوں سے مشکل سوالات پوچھنے کا سلسلہ جاری رکھنا ہوگا، ورنہ حالات اور بھی بدتر ہوجائیں گے۔ اس موقع پر انہوں نے ڈائس پر موجود معروف صحافی راجدیپ سردیسائی کو خاص طور سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ حکمرانوں سے اور بھی زیادہ مشکل سوالات پوچھیں۔
newsinkhabar
ہندوستان کی گنگاجمنی تہذیب اور یہاں سبھی فرقوں کے ایک ساتھ مل جل کر رہنے کا تذکرہ کرتے ہوئے رام جیٹھ ملانی نے کہا کہ ان کی لاولد بیٹی نے یتیم خانہ جاکر جس چھ سالہ بچے کو گود لیا تھا ، وہ مسلمان تھا۔ انہوں نے اس بچے کا مذہب تبدیل کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ آج وہ بچہ بڑا ہوکر ایک کامیاب وکیل ہے ، اور اس کا نام علی جیٹھ ملانی ہے اور میں(رام جیٹھ ملانی) اس کا نانا ہوں۔ یہی ہندوستان ہے۔

اس سے پہلے معروف صحافی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہندوستان جیسا خوبصورت ملک اور سماج دنیا کے کسی کونے میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے عام لوگوں کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ جو چند ایک سیاستداں ملک کے اصلی مزاج کے خلاف بات کررہے ہیں، وہ اپنی سیاست کی نمائندگی کررہے ہیں، وہ سماج کی نمائندگی نہیں کررہے ہیں۔

Maulana Kalabe Jawwad Naqvi receives SAMLA award from senior advocate Ram Jethmalani

راجدیپ سردیسائی نے کہا کہ ہندوستان ہی ایسا ملک ہے جہاں عید کے دن بچے پٹاخہ پھوڑ سکتے ہیں اور دیوالی کے دن سوئیاں کھا سکتے ہیں، اور جس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
اس سے پہلے اپنے اپنے طور پر سماج میں اتحاد و اتفاق بڑھانے اور انتشار پھیلانے کی سازشوں کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے مولانا محمود مدنی، مولانا کلب جواد نقوی، راجدیپ سردیسائی اور سوامی سنت کرشنا ساہا ودیارتھی مہاراج جیسی شخصیات کو ساملا ہم آہنگی ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *