اجلاس کے انعقاد سے زیادہ اپنا میڈیا ہونا اہم ہے

vlcsnap-2016-03-13-01h43m14s623مدثر احمد
پچھلے چند برسوں سے مختلف جماعتوں و اداروں کی جانب سے اجلاس اور کانفرنسوں کاانعقاد کیا جارہاہے ۔ ان کا انعقاد کرنے میں ہر ایک جماعت اور ادارہ میں مقابلہ چل رہا ہے۔اس کے لیے بڑے پیمانے پر خرچ بھی کیا جارہاہے لیکن ان اجلاس و کانفرنسوں سے کیا حاصل ہورہاہے، یہ کسی کی سمجھ میں نہیں آرہاہے اور یہ بات بھی سمجھ سے باہر ہے کہ ان اجلاس کے ذریعے سے جماعتیں عوام تک اپنا پیغام پہنچانا چاہتی ہیں یا پھر اپنی طاقت کامظاہر ہ کررہی ہیں ۔ پچھلے دنوں ہندوستان کی ایک بڑی جماعت کی جانب سے عظیم الشان پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں سامعین کی تعداد لاکھوں میں تھی تو اسٹیج پر سوارہونے والوں کی گنتی درجنوں میں کی جاسکتی تھی۔ اسٹیج سے نکلنے والی آواز پر عوام کے نعرے تو بلند ہورہے تھے لیکن جلسہ گاہوں سے نکلنے کے بعد ان کے عزائم کیا تھے اور وہ کیا چاہ رہے تھے اس کا اندازہ نہیں لگاسکتے تھے ۔ لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کو جمع کرنے والی تنظیمیں اپنے اسٹیجوں سے نہ حکومت سے اپنے حقو ق کے لیے مطالبہ کررہی ہیں نہ ہی ان کی جانب سے کوئی ایسی تحریک شروع کی جارہی ہے جس سے ملک کے مسلمانوں کے حالات بدل جائیں ۔ مسلمانوں کے موجودہ حالات پر گلی کے نکڑوں اور چار دیواری کے درمیان رونا رونے والے تو بہت ہیں ، حکومتوں کو کوسنے والے بھی کم نہیں ہیں اور ملک کے مظلوم مسلمانوں کی مجبوری پر آنسو بہانے والے تو بہت ہیں لیکن لاکھوں کے مجمع کو جمع کرتے ہوئے حکومتوں سے اپنے مطالبات پورا کروانے والے قائدین کی کمی ہے ۔ جو بات اپنے مراسلوں و تحریروں میں پیش کرتے ہیں وہی بات اسٹیجوں پر پیش کیوں نہیں کی جارہی ہے ؟ آخر ہم لاکھوں کے مجمع کو جمع کرکے کیا ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اس کا جواب کوئی تو دے؟
دراصل مسلک ، مکتب ، عقائد اور اسلام کے نام پر پروگراموں کا انعقاد کرنے والے کچھ گروہوں نے ان پروگراموں کو بھنڈوال یعنی انویسٹمنٹ بنالیا ہے تاکہ وہ اپنے مفادات کی تکمیل کرلیں۔ آج ہندوستان بھر میں مسلمانوں کو روندا جارہاہے ، جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے ڈھکیلا جارہاہے اور اسلامی تعلیمات کی سرعام بے عزتی ہورہی ہے، اس کا جواب دینے میں ہماری تنظیمیں و ادارے ناکام ہیں۔
غور طلب بات یہ بھی ہے کہ ان لاکھوں کروڑوں کے مجمع سے خطاب کرنے والے علماء کی باتوں کو دنیا تک پہنچانے کے لیے بھی انہیں میڈیا کا تعاون حاصل نہیں ہے ۔ جتنی بڑی رقم یہ لوگ اجلاس کاانعقاد کرنے کے لیے خرچ کرتے ہیں اگر وہی رقم مسلم میڈیا کے قیام کے لیے خرچ کردیں تو انہیں کسی اور میڈیا کی ضرورت نہیں ہوگی۔ آج ہندوستان کے چند گنے چنے اردو اخبارات اور اردو ویب سائٹس کو چھوڑ کر ان اہم اجلاس کی خبریں دور دور تک دکھائی نہیں دیتیں ۔ پچھلے دنوں ہندوؤں کے گرو روی شنکر کا ایک پروگرام ہواتھا اور اس پروگرام کی تیاریوں سے لے کر اختتام تک کی پل پل کی خبریں پیش کی جارہی تھیں۔ بابا رام دیو ملک کے کسی بھی کونے میں اپنے پاؤں پسارنے کے لیے چلے جائیں وہاں انہیں میڈیا کا بھرپور کوریج مل جاتاہے لیکن ہمارے عظیم الشان پروگراموں کو نظر انداز کرنے والے میڈیا سے سوال کرنے والا کوئی کیوں نہیں ہے ؟ جتنے پیسے ایک ایک پروگرام کے لیے خرچ کیے جارہے ہیں اگر وہی پیسے مسلمانوں کی تعلیمی ضروریات کے لیے استعمال کرلیے جائیں تو ہر ریاست میں ایک یونیورسٹی کاقیام ہوسکتاہے اور ہمیں حکومتوں کے آگے مسلم یونیورسٹی کے قیام کے لیے رونانہیں ہوگا۔ اچھے کام کرنے کے لیے کئی طریقے ہیں ۔ چند بچوں کو سال میں اسکالر شپ دے کر ، ننگوں کو کپڑے پہناکر ، سردی میں کمبل بانٹ کر، گرمی میں شربت پلا کر مسلمانوں کی فلاح و بہبودی نہیں ہوسکتی ۔اس کے لیے بڑی سوچ کی ضرورت ہے اور یہ سوچ اسی وقت آسکتی ہے جب تنظیمیں و ادارے ایسے کام کرنے کے لیے آگے آئیں اور تنظیموں واداروں کی یہ سوچ اسی وقت بدل سکتی ہے جب ہماری قوم ثواب جاریہ یا ثواب دارین کے نام سے ان اجلاس کے لیے اسپانسر شپ و چندہ دینا بندکردے۔ ثواب جاریہ حاصل کرنا ہی ہے تو قوم کو تعلیمی پسماندگی سے باہر لایا جائے اور مسلمانوں کے لیے روزگار کے وسائل پیدا کیے جائیں ۔ بات کڑوی ہے لیکن سچی ہے!
(مضمون نگارروزنامہ آج کا انقلاب، شیموگہ کے ایڈیٹر ہیں، رابطہ:9986437327)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *