طلاق ثلاثہ بل کے خلاف خواتین کا اجلاس

تقریر کرتی ہوئی محترمہ شائستہ پروین

سمری بختیار پور میں آئندہ 22 فروری کو طلاق ثلاثہ بل کے  خلاف خواتین کے پرامن مظاہرہ اور جلوس کو کامیاب بنانے کے لیے گاؤں گاؤں میں تحفظ شریعت کانفرنس اور بیداری مہم تحریک کا سلسلہ جاری ہے. اسی سلسلے میں سربیلہ میں خواتین کے جلسے کا اہتمام مدرسہ قادریہ انوارلعلوم میں   کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں  خواتین شریک ہوئیں. اس موقع پر اپنے خطاب میں اترپردیش کے بلیا ضلع سے تشریف لائیں محترمہ شائستہ پروین  نے کہا کہ اسلامی شریعت میں ذرہ برابر بھی پھیر و بدل کی کوئی گنجائش نہیں ہے. اسلام نے عورتوں کو جتنا حق دیا ہے اتنا کسی مذہب میں نہیں ہے لیکن ایک سازش کے تحت اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے. شائستہ پروین  نے کہا کہ جس وقت دوسرے مذاہب کی بیوہ عورتوں کو چتا پر زندہ جلنے پر مجبور ہو نا پڑتا تھا یا انہیں منحوس و ابھاگن گردانہ جاتا تھا اس وقت ہمارے نبی نے ایک بیوہ خاتون حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ سے شادی کرکے ان کو سہاگن بنانے کا کام کیا. انہوں نے  متحد ہو کر طلاق ثلاثہ بل کے خلاف خواتین سے آگے آنے کی اپیل  کرتے ہوئے کہا کہ  اسلامی شریعت قیامت تک کے لئے ہے اور کسی حال میں اس میں کوئی تبدیلی قبول نہیں کیا جاسکتا ہے. اس سے قبل محترمہ سنبل پروین کے تلاوت قرآن پاک سے جلسے  کا باضابطہ آغاز ہوا. جبکہ محترمہ ام سلمہ، خدیجت الکبری، ام فاطمہ نے اپنی سحر انگیز آواز میں نعت نبی پیش کر کے پروگرام کے حسن میں چار چاند لگا دیئے.  نظامت کے فرائض محترمہ امینہ خاتون نے انجام دیئے. اس موقع پر مقررین نے مسلمانوں خاص طور پر مسلم خواتین سے 22 فروری کو بختیار پور اسٹیٹ سے سب ڈویژنل آفس تک نکالے جانے والے خاموش جلوس میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کی گذارش کی.  پروگرام کو کامیاب بنانے میں مدرسہ کے صدر مدرس مولانا آفاق احمد اشرفی، قاری عبدالغفار نقشبندی، شاہ محمد، مولانا حیدر اشرفی، مولانا اکبر اشرفی، ماسٹر عقیل احمد سہروردی و جملہ اسٹاف شامل تھے.

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *