وقف جائیدادوں کو سرکاری قبضہ سے آزاد کرائیں نجمہ ہپت اللہ

اگر مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش ہوئی تو مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کے گھر کے باہر دھرنا دوں گا : منورسلیم
DSC_7079نئی دہلی،۴؍اپریل ( پریس ریلیز)لکھنؤ میں وقف جائیدادوں کو بنیاد بنا کر سماج وادی پارٹی حکومت کو نشانہ بنانے اور نریندر مودی کو مسلمانوں کا ہمدرد بتانے کی کوشش مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور نجمہ ہپت اللہ کی بچکانا پہل ہے۔ دہلی اور بہار کے اسمبلی انتخابات اور اتر پردیش کے ایم ایل سی و ضمنی انتخابات میں زبردست شکست کا سامنا کرنے والی بی جے پی کے لیڈران نہ صرف بے بنیاد بیانات پر آمادہ ہیں بلکہ جن الزامات میں خود وہ اور ان کی پارٹی گھری ہوئی ہیں انہیں الزامات کو یہ لوگ سیکولر جماعتوں اور رہنماؤں کی پیشانی پر مڈھنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار سماج وادی پارٹی سے راجیہ سبھا کے رکن چودھری منورسلیم نے کیا۔
چودھری منورسلیم نے پریس کو جاری ایک بیان میں کہا کہ نجمہ ہپت اللہ اتر پردیش وقف بورڈ سے وقف کی جائیدادوں کا حساب مانگنے سے پہلے ملک کے مختلف حصوں میں موجود ۶۰؍ ہزار کروڑ کی وقف کی جائیدادوں کا حساب دیں۔ انہوں نے کہا کہ جس دہلی میں نجمہ ہپت اللہ مختلف جماعتوں کے ذریعہ اپنا ڈیرہ کئی سال سے مسلسل جمائے ہوئی ہیں اسی دہلی میں تقریبا چھ ہزار کروڑ کی وقف جائیدادوں پر ناجائز طورپر لوگوں کا قبضہ ہے، جس میں دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور ایم سی ڈی جیسے سرکاری محکمہ بھی شامل ہیں ۔ منور سلیم نے ایس پی حکومت کی طرف غلط طور پر انگلی اٹھانے والی نجمہ ہپت اللہ پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے کسی بھی حصہ میں وزیر برائے اقلیتی امور نجمہ ہپت اللہ نے وہ وقف جائیداد جس پر لوگوں کا غیر قانونی قبضہ ہے، ان سے ایک گز زمین بھی چھڑانے کے لیے اب تک کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا ہے ۔
منور سلیم نے کہا کہ ایسی صورت میں نجمہ ہپت اللہ کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ ایس پی حکومت پر بغیر معلومات کے انگلی اٹھانے کی کوشش کریں ۔ملک یہ بھی جاننا چاہتا ہے کہ مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور نے اقتصادی، سماجی اور تعلیمی طور پر دبی کچلی مسلم اقلیت کو اپنے قلم سے کیا کوئی ایسا انصاف دیا ہے جو ان کے نام سے آنے والی نسلیں یاد کر سکیں؟
منور سلیم نے مسلم بچوں کو ملنے والی اسکالرشپ کے سلسلے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے خود راجیہ سبھا میں وزیر موصوف سے اسکا لرشپ کے بارے میں یہ گذارش کی تھی کہ افسران کی جانبداری کی وجہ سے اسکالرشپ کا بڑا حصہ واپس کر دیا جاتا ہے، اس لیے ایس سی /ایس ٹی کے طرز پر مسلم بچوں کے لیے بھی براہ راست اسکولوں کو اسکالر شپ کا حق دیا جانا چاہیے ،لیکن آج تک وزیر موصوف کی طرف سے اس سلسلہ میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ۔اتر پردیش کی اکھلیش حکومت نے ریاستی حکومت کے تمام محکموں کو مسلمانوں کی پسماندگی کی بنیاد پر جسٹس سچر کی رپورٹ کے مطابق ۲۰؍ فیصد ترقی کا بجٹ خرچ کرنے کا فیصلہ لے رکھا ہے جہاں کروڑوں روپے کی وقف جائیدادوں کو زمین مافیا سے آزاد کرا کر اسے ملی معاملات میں استعمال میں لانے کا کام چل رہا ہے۔ ایسی ریاست میں جہاں ملائم سنگھ یادو، اکھلیش یادو اور محمد اعظم خاں کے طور پر مضبوط سیکولر اور مسلم قیادت موجود ہو وہاں مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کا اپنے وقار کے برعکس دھرنا دینے کی دھمکی سیاسی اور بچکانی معلوم ہوتی ہے ۔منور سلیم نے۶۰؍ہزار کروڑ کی وقف جائیدادوں کو ملی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں نے پارلیمنٹ میں بہ آواز بلند یہ بات کہی ہے کہ مرکزی حکومت ہندوستانی مسلمانوں کی غربت کو دیکھتے ہوئے ملک کے کونے کونے میں خرد برد ہوتی وقف جائیدادوں کو واپس دلانے کی مضبوط اور بنیادی کوشش کرے جو ہمارا حق ہے ۔ نجمہ ہپت اللہ کے بیان پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے منور سلیم نے کہا کہ دہلی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں خود حکومت نے وقف جائیدادوں پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ اگر نجمہ ہپت اللہ واقعی وقف جائیداد کے سلسلے میں حساس ہیں تو انہیں مودی حکومت سے سب سے پہلے اس جائیداد کو واپس دلانے کی شروعات کرنی چاہیے ورنہ ملک کی تقریباً ۶۰؍ہزار کروڑ کی وقف جائیداد کو واپس دلانے کا مطالبہ لے کر مجھے بھی نجمہ ہپت اللہ کی رہائش گاہ پر دھرنا دینے پر مجبور ہونا پڑے گا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *