دیش بھکت اور دیش دروہی!

Asif Iqbalمحمد آصف ا قبال
فی الوقت ہندوستان میں بڑے زور و شور سے نیشنلزم کی بحث جاری ہے،جو خاصی دلچسپ بنتی جا رہی ہے۔کہا جا رہا ہے کہ جس کو دیش سے محبت ہے وہ “بھارت ماتا کی جے “کا نعرہ لگائے گا اور جس کو دیش سے محبت نہیں وہ یہ نعرہ نہیں لگائے گا۔دوسرے لفظوں میں جو دیش بھکت ہے اور نعرہ بھی لگاتا ہے تو مخصوص نعرے کی آڑ میں اس کا ہر عمل حلال تسلیم کیا جائے گا ۔دوسری جانب جو یہ نعرہ نہیں لگاتا وہ دیش دروہی ہے ۔اس کے باوجو دکہ اس کے تمام اعمال ملک کے لیے مثبت ہیں لیکن اس کے کسی عمل پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔لیکن جن لوگوں نے نعرہ کو بطور ایشو اٹھایا تھا معلوم نہیں کیوں اور کیسے اچانک خود اپنے ہی بیان سے پلٹ گئے ۔یا یہ کہیے کہ اپنے بیان کی تشریح نئے انداز میں پیش کردی۔ان کا کہنا ہے کہ جمہوریت میں سب آزاد ہیں۔کسی کو کسی بھی مخصوص نعرہ لگانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔اس موقع پر ضروری تھا کہ مسلمانوں کے اکابر علماء کرام مسلمانوں کو اس نعرہ ،اور اس کی ادائیگی میں قباحت کے بارے میں مدلل انداز میں سمجھاتے تاکہ اگر یہ سوال دوبارہ اٹھایا جائے یا نہ بھی اٹھایا جائے تب بھی مسلمانوں کو لازماً یہ معلوم ہونا چاہیے کہ یہ یا اس طرح کے دیگر نعروں کی ادائیگی میں قباحت کیا ہے؟اور وہ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟غالباً انہیں حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہندوستان کے اکابر علماء کرام کا اتفاق ہے کہ ہمیں بحیثیت مسلمان یہ نعرہ نہیں لگانا چاہیے۔اعتراض کی وجہ بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ پہلی بات تو یہ کہ بھارت ماتا کی جے پر اصرار اُسی وقت ممکن ہے جبکہ آئین میں اس کا ذکر ہو۔اور دوسری بات یہ کہ چونکہ بھارت ماں کی ایک تصویر اور مورتی بنائی جاتی ہے،جس کے آگے ہاتھ جوڑ کر یا اعتقاداً پوجا پاٹ بھی ہوتی ہے،اور آئندہ اس کے مزید امکانات ہیں،لہذا اس صورت میں یہ عمل ہمارے لیے نہ صرف ایک مشرکانہ عمل ہے بلکہ وحدانیت کے تصور میں شرک کی آمیزش بھی ہے۔ان دونوں ہی صورتوں میں ہم اس نعرہ سے اتفاق نہیں کر سکتے۔برخلاف اس کے قومی ترانہ جن گن من سے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔پھر اگر ان دومسئلوں کو پس پشت ڈال دیا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ آیا مسلمانوں نے ملک کے لیے ماضی میں کیا کچھ قربانیاں دی ہیں؟تو تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک ،اس کی آزادی اور اس کی سلامتی ،بقا اور تحفظ کے لیے مسلمانوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں ۔لہذا نعرہ لگانے یا نہ لگانے سے کسی فرد ،گروہ یا قوم کی محبت اور نفرت کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔

دوسر ی جانب ریاست مہاراشٹر کے پونے میں شنی شنگناپور مندرمیں خواتین کے داخلہ پر طویل مدت سے شور برپا ہے۔ترپتی دیسائی نامی خاتون اور ان کی دیگر خواتین ساتھیوں نے ایک طویل عرصہ سے جدوجہد جاری کی ہوئی ہے۔ان خواتین کی طویل جدوجہد ہی کا نتیجہ ہے کہ آخر کاربمبئی ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ دیا کہ مندر میں تمام خواتین کو جانے کی اجازت ہے۔ کورٹ کے فیصلہ کو روبہ عمل لانے کے لیے بی جے پی کے وزیر اعلیٰ فڈ نویس نے بھی کہا ہے کہ نہ صرف شنی شنگنا پور مندر میں بلکہ ریاست کے تمام مندروں میں خواتین کو جانے اور وہاں پوجا پاٹ کرنے کی اجازت ملے گی۔اس سب کے باوجود جب خواتین مندر میں پوجا پاٹ کرنے کے لیے مندر میں داخل ہو رہی تھیں تو مقامی لوگون نے جن میں خواتین بھی شامل تھیں، ہنگامہ کیا اور اس عمل کی مخالفت کی۔لہذا پولیس نے ترپتی دیسائی اور ان کی ۲۶؍خواتین ساتھیوں کو حراست میں لے لیا۔توجہ طلب پہلو یہ ہے کہ ایشور،بھگوان،یا خدا کی عبادت جو ایک انسان کی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے،اس میں یہ تفریق کہ مرد پوجا کرسکتے ہیں اور عورتیں نہیں،یہ کس حد تک صحیح ہے؟اسی درمیان گذشتہ دنوں شہر ممبئی کے ساحلی علاقہ میں حاجی علی نامی درگاہ پر بھی خواتین کو جانے اور وہاں پوجاپاٹ کرنے کی آواز،مسلم خواتین کی جانب سے اٹھی تھی۔ اس وقت ان دونوں “عبادت گاہوں”میں خواتین پر بابندی کیوں ہے؟سوال سامنے آئے تھے۔لیکن یہاں اور وہاں میں دلچسپ اور واضح فرق غالباًیہی ہے کہ درگاہوں اور قبروں پر جانا،دعائیں کرنا،منتیں مانگنا،یہ تمام اعمال اسلام میں عبادت کے زمرے میں نہیںآتے ۔ اس کے برخلاف مورتی پوجا ،اس کے آگے ہاتھ جوڑکر خاص انداز میں اشلوک پڑھنا ،ہندو مذہب یا کلچر میں عبادت سمجھاجاتا ہے۔ یہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ بندے اور بھگوان کا رشتہ استوار ہوتا ہے جبکہ درگاہوں پر جانے سے بندے اور اس کے خدا کا رشتہ استوار نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے عبادت کے زمرے میں رکھا جاسکتا ہے۔

تیسری جانب آج کل ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات شروع ہونے جا رہے ہیں۔جہاں برسراقتدار ریاستی حکومتیں اپنے وجود کو برقرار رکھنے میں کوشاں ہیں تو وہیں اپوزیشن پارٹیاں موجودہ حکومتوں کی بدنظمیوں اور وعدہ خلافیوں کو عوام کے سامنے لانے میں کوشاں ہیں۔ساتھ ہی اگر وہ کامیاب ہوتی ہیں توریاست کو مزید کیسے بہتر بنائیں گی اورمتعلقہ حلقہ میں بے روزگاری،غربت،تعلیم ،صحت ودیگر مسائل کو کیسے حل کریں گی،یہ سب بتانے اور سمجھانے میں مصروف ہیں۔پانچ ریاستیں ،آسام،مغربی بنگال،کیرل،تمل ناڈو اورپوڈوچیری (پانڈیچیری)، جہاں اسمبلی الیکشن ہونے والے ہیں ان میں مغربی بنگال اور آسام کی ریاستوں میں ۴؍اپریل کو پہلے مرحلہ کا الیکشن ہوچکا ہے۔ ان دونوں ہی ریاستوں میں مسلمانوں کی قابل لحاظ آبادی ہے۔آسام میں۳۴ء ۲ فیصدمسلمان آبادہیں تووہیں مغربی بنگال میں۲۷ء۱ فیصد۔مغربی بنگال میں تین اضلاع،مرشد آباد، مالدہ اور اتردیناجپور ایسے ہیں، جہاں بالترتیب ۷۰ء ۲ فیصد،۵۱ء ۲۷ فیصد اور۵۰ء ۹۲فیصد مسلمان آباد ہیں ۔وہیں ساؤتھ۲۴؍ پرگنا،نارتھ ۲۴؍پرگنا،نادیہ،بیر بھوم،ہاؤڑا،کوچ بہار،وہ اضلاع ہیں جہاں مسلمانوں کی آبادی۲۵؍سے۳۵؍فیصد کے درمیان موجود ہے۔دوسری جانب ریاست آسام کی بات کی جائے تو ڈھوبری میں۷۹ء ۶۷ فیصد،بیرپیٹا میں ۷۰ء ۷۴ فیصد ،دھررنگ میں ۶۴ء ۳۴فیصد مسلمان آباد ہیں۔وہیں بون گے گاؤں،گول پاڑہ،ہیلا کنڈی،کریم گنج،موری گاؤں،ناگاؤں جیسے اضلاع میں مسلمانوں کی آبادی۵۰؍سے۶۰؍فیصد کے درمیان ہے ۔اس کے باوجود افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہی وہ دوریاستیں ہیں جہاں مسلمانوں کی معاشی و معاشرتی صورتحال حد درجہ مسائل سے دوچار ہے۔
اوپنین پولکی روشنی میں یہ بات صاف ہوتی نظر آرہی ہے کہ مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کسی بھی صورت میں حکومت تشکیل نہیں دے سکتی ہے۔سی ووٹر اوپنین پول ۲۰۱۶ء نے ترنمول کانگریس کو ۱۶۰؍سیٹوں پر سب سے آگے دکھایا ہے،وہیں کانگریس کو ۲۱؍،بایاں محاذ کو۱۰۶،بی جے پی کو۴؍اور دیگر کو تین سیٹوں پر کامیابی دکھائی ہے۔ اس کے برخلاف آسام کے اوپنین پول میں بی جے پی کو کہیں آگے تو کہیں پیچھے دکھایا جا رہا ہے۔نیوز نیشن نے کانگریس کو ۵۸۔۵۴،بی جے پی کو۵۴۔۵۰،اے آئی یو ڈی ایف کو۱۷۔۱۳؍اور دیگر کودو سے چار سیٹیوں پر کامیاب دکھایا ہے۔وہیں ٹائمز ناؤ سی ووٹر نے کانگریس کو۵۳، بی جے پی اور ان کی حلیف کو ۵۵،اے آئی یو ڈی ایف کو۱۲؍اور دیگر کوصفرسے دوسیٹوں پرکامیاب دکھایا ہے۔دیگر اوپنین پول نے بھی اسی کے آس پاس اپنے نمبر دیے ہیں۔ریاست آسام کے حالیہ اسمبلی انتخابات میں بدرالدین اجمل کی اے آئی یو ڈی ایف اہم کردار ادا کرسکتی ہے،اگر وہ بی جے پی کو روکنا چاہے اور کانگریس کے ساتھ حکومت بنائے۔لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ جموں وکشمیر کی طرح آسام میں بھی کانگریس کے بعد دوسرے نمبر پر کامیابی حاصل کرنے والی پارٹی بی جے پی کی حمایت سے حکومت تشکیل دے اور اس کا قیاس اس لیے زیادہ ہے کہ مرکز میں برسراقتدار پارٹی کے تعاون سے جب کبھی بھی ریاست میں حکومت تشکیل دی جاتی ہے تووہ تمام سہولتیں باآسانی حاصل ہو جاتی ہیں جو کسی بھی دیگر سیاسی پارٹی کے ساتھ حکومت بنانے میں حاصل نہیں ہوتیں۔ مغربی بنگال و آسام دونوں ہی ریاستوں میں ۴؍اپریل کو پہلے مرحلہ کا الیکشن ہوچکا ہے۔جہاں آسام میں کل ۱۲۶؍ میں سے۶۵؍سیٹوں پر تو وہیں مغربی بنگال میں کل۲۴۰؍ میں سے ۱۸؍سیٹوں پرووٹنگ ہوئی ۔دیکھنا یہ ہے کہ ۱۹؍مئی ۲۰۱۶ء کو آنے والے نتائج ملک اور ریاست کی کیا تصویر پیش کرتے ہیں۔اور غالباً یہی وہ نتائج ہوں گے جن کی بنا پر ایک بار پھر ممکن ہے دیش بھکت اور دیش دِروہی کے نعروں کا دوسرا مرحلہ شروع کیا جائے!

maiqbaldelhi@gmail.com

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *