رئیس الدین رئیس شعری افق کا روشن ستارہ تھے: پروفیسر ارتضیٰ کریم

قومی اردو کونسل میں رئیس الدین رئیس کے انتقال پر تعزیتی نشست

Irteza Karimنئی دہلی، یکم اپریل(پریس ریلیز) اردو کے معروف شاعر رئیس الدین رئیس کے انتقال پر قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاصر غزلیہ شاعری میں رئیس الدین رئیس کی اپنی ایک الگ شناخت تھی۔ وہ اپنے مختلف شعری اسلوب کی وجہ سے ادبی حلقوں میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ آسماں حیران ہے، زمیں خاموش ہے اور سمندر سوچتا ہے، جیسے شعری مجموعوں سے انہوں نے غزلیہ شاعری کے سرمائے میں گراں قدر اضافہ کیا ہے۔ رئیس الدین رئیس معاصر شعری افق کا ایک روشن ستارہ تھے۔
پروفیسر ارتضیٰ کریم نے ان کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ رئیس الدین رئیس متواضع اور خلیق شخص تھے۔ شاعری کے علاوہ انہوں نے تنقیدی مضامین بھی لکھے ہیں۔ خاص طور پر شعری مجموعوں کے حوالے سے ان کی تحریریں اعتبار کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ رئیس الدین رئیس بہت دنوں سے علیل تھے۔ اس کے باوجود تخلیق سے رشتہ قائم تھا۔ حال ہی میں ان کا تازہ شعری مجموعہ بھی شائع ہوا تھا، جسے ادبی حلقوں میں سراہا گیا۔ پروفیسر کریم نے کہا کہ رئیس الدین رئیس کا تعلق علی گڑھ کی اس ادبی نسل سے تھا جس نے معاصر غزلیہ شاعری کو احساس و اظہار کے اعتبار سے تازگی اور توانائی عطا کی تھی۔
رئیس الدین رئیس کے انتقال کی خبر ملتے ہی قومی اردو کونسل کے صدر دفتر میں تعزیتی نشست منعقد کی گئی جس میں پرنسپل پبلی کیشن آفیسر ڈاکٹر شمس اقبال، اسسٹنٹ ڈائریکٹر (اکیڈمک) ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی، ریسرچ آفیسرشاہنواز خرم، ڈاکٹر عبدالحئی، ڈاکٹر عبدالرشید اعظمی اور جے این یو کے گیسٹ فیکلٹی ڈاکٹر محمد عمران کے علاوہ کونسل کے دیگر افراد بھی موجود تھے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *