پرس بنی اسکول کے نئے تعمیر شدہ بلڈنگ کے چھت سے پانی ٹپکنے کی شکایت

 
بملیش کمار بھارتی کی رپورٹ ✍️
سمری بختیار پور…… بنما اٹہری  بلاک کے مڈل  اسکول کے  نئے تعمیر شدہ عمارت  کو  اسکول کے حوالے کرنے سے قبل ہی  پانی ٹپکنے لگا  ہے. اس سے  نئے تعمیری  عمارت کے  کوالٹی پر ہی سوالیہ نشان لگ گیا ہے  . عمارت کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ مختص   شدہ رقم کے حساب سے قوانین اور کوالٹی  کو طاق پر رکھ کر مکمل طور پر ناقص کوالٹی  کا  بلڈنگ  تیار کیا گیا ہے. مقامی لوگوں کے مطابق   اسکول کے  احاطے میں جتنے بھی عمارت زیر تعمیر حالت میں ہیں  یا بنا ہوا  ہے ان تمام عمارتوں اور ٹوائلٹ سمیت كچن شیڈ سے  پانی تو ٹپکتا ہی ہے اس کے علاوہ  دیوار سے پلاسٹر  بھی جھڑ رہے ہیں. گاؤں والوں نے یہ بھی  دعوی کیا ہے کہ ہیڈ ماسٹر  کے   ذریعہ کوالٹی کو طاق پر رکھ کر  تمام عمارات کی تعمیرات کرائی گئی ہے یا کرا رہے ہیں  لیکن محکمہ کے افسران جھانکنے تک نہیں  آتے  ہیں .  اس لئے ہیڈ ماسٹر اپنی مرضی کے مطابق  عمارت کی  تعمیرکروا رہے ہیں.
          مفصل  معلومات کے مطابق مڈل سکول پرسبنی کے احاطے  میں  سروسکچھا ابھیان اور محکمہ عمارات  کی تعمیر کے سیکشن  سے سابق  ہیڈ ماسٹر برهمدیو بیٹھا کی طرف کئی قسم کے بلڈنگ کی  تعمیر کرایا جا رہا ہے اور یہ سب زیر تعمیر ہے. بتایا جا رہا ہے کہ مالی سال 9-10، 10-11 اور 11-12 سمیت دیگر مالیاتی سال میں قریب 55 سے 60 لاکھ روپے سے بھی زیادہ کے  رقم سے کئی قسم کے عمارت  کی تعمیر کا کام چل رہا ہے.  بتایا  جا رہا ہے کہ شمال کی سمت میں ایک بڑی عمارت تعمیر کی گئی ہے جو ابھی ادھورا  بنا ہوا ہے. اس عمارت  میں ایک ساتھ قریب 12 لاکھ روپے کی لاگت سے 4 اےسي ار، قریب  ساڑھے 9 لاکھ روپے کی لاگت سے   3 اےسي ار، اور قریب  ساڑھے چار لاکھ روپے کی  لاگت سے 1 ایچ ایم کے کمرہ کا عمارت سب کو ایک ساتھ ملا کر بنایا گیا ہے. اس عمارت  کا حال یہ ہے کہ چھت تو ڈھلائی کر دی گئی ہے لیکن نہ تو دیوار پلاسٹر کیا گیا ہے اور  نہ تو کھڑکی  وغیرہ ہر جگہ لگایا گیا ہے اور نہ ہی سرزمین کی پلاسٹر ہوئی ہے. گاؤں والوں کے مطابق پانی ان تمام عمارتوں کی چھت سے ٹپک  رہی ہے. یہ عمارت مکمل کر کے ابھی تک اسکول کے حوالے تک نہیں کیا گیا ہے  جبکہ نامکمل  تعمیر شدہ عمارت یوں ہی بیکار پڑا ہوا  ہے. چونکہ اس عمارت کو اسکول کو منتقل نہیں کیا جاسکا ہے  اسلئے ان   عمارتوں کے  اندر اور باہر گاؤں والوں کے ذریعہ مویشیوں کو باندھا جا رہا ہے.
 دوسری   طرف دکھن کی طرف ابھی قریب   14 لاکھ کی لاگت سے 4 اے سی آر عمارت کے تعمیر کا کام چل رہا ہے. اس بلڈنگ کے اندر کے سرزمین کا پلاسٹر اب تک نہیں کیا گیا ہے مگر عمارت کے ڈینٹنگ پینٹنگ کا کام چل رہا ہے مگر قابل غور بات یہ ہے کہ اس بلڈنگ سے بھی برسات کا پانی ٹپکنے لگا ہے.
اس کے علاوہ مقامی لوگوں کے مطابق ٹوائلٹ و کچن شیڈ کا بھی وہی حال ہے. اب سوال یہ ہے کہ سبھی طرح کے عمارتوں کے تعمیر کا مقررہ وقت سالوں قبل  ختم ہو گیا ہے اس کے بعد اب گھٹیا بلڈنگ کی تعمیر کر اسکول کے حوالے کرنے کی جلد بازی میں تیار کی جا رہی ہے مگر اس کے باوجود متعلقہ افسران جھانکنے تک نہیں پہنچ رہے ہیں کہ زیر تعمیر بلڈنگز کی کوالٹی کیسا ہے. گاؤں والوں کی مانیں تو سبھی بلڈنگ کی گٹھیا تعمیر کا کام چل رہا ہے یا ہو چکا ہے اور وہ بھی اس ہیڈ ماسٹر برہمدیو بیٹھا کے ذریعہ جو سالوں قبل ریٹائرڈ ہو چکے ہیں.
ادھر ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر برہمدیو بیٹھا نے سبھی الزامات کو بے بنیاد بتاتے ہوئے کہا کہ مقررہ مختص  رقم کے مطابق سبھی بلڈنگ کا  تعمیر کرایا جا رہا ہے اور کوالٹی سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے.
اس معاملے میں اسکول کی موجودہ ہیڈ ماسٹر شوبھا کماری کے مطابق زیر تعمیر سبھی بلڈنگوں کا چارج سابق ہیڈ ماسٹر بیٹھا جی کے ذریعہ مجھے  نہیں سونپا گیا ہے اسلئے پتہ نہیں چل پا رہا ہے کہ کون بلڈنگ کتنے کی لاگت سے بنائی جا رہی ہے یا بنائی گئی ہے.
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *