فن خطاطی کو کوئی خطرہ نہیں : ایرانی سفارتکار

نئی دہلی، ۱۸نومبر: اطلاعاتی ٹکنالوجی کے اس عہد میں بھی خطاطی کا فن ایران میں کافی مقبول ہے اور مستقبل میں بھی اس پرکوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ یہ بات جامعہ ملیہ اسلامیہ میں منعقدہ اردو کونسل کے کتاب میلے میں خطاطی کی نمائش دیکھنے آئے ایک ایرانی وفد کے سربراہ حجتہ اللہ عابدی نے کہی۔
urdu1نئی دہلی میں واقع ایران کلچرل ہاؤ س کے ڈپٹی قونصلر حجتہ اللہ عابد ی نے قو می اردو کونسل کی خطاطی کے شعبے میں خدمات کو سراہتے ہوئے کہاکہ ہندوستان میں اس فن کا زندہ رہنا قابل ستائش ہے۔ وفد میں شامل محسن فولادی نے خطاطی کے حوالے سے کہاکہ بچوں کو وہی خط سکھانا چاہیے جس میں ان کی دلچسپی ہو۔یہ وفد خطاط، پینٹر، ڈیزائنراورکلچرل سینٹر کے افسران پر مشتمل تھا۔کتاب میلے میں آج ادبی و ثقافتی پروگرام کے تحت چہار بیت کا انعقاد کیا گیا۔ ایک زمانے میں اس فن کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔ یہ فنعصر حاضر میں تقریباً معدوم ہوتا جارہا ہے۔ اس کی بازیافت کی غرض سے قومی اردو کونسل نے کتاب میلے میں چہار بیت کوبھی شامل کیا ہے۔اس میں خلیفہ اقبال الدین اورہم نوا نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ قابل ذکر ہے چہار بیت اردو کا ایک کلاسیکی آرٹ
ہے۔ میلے کے ثفافتی پروگرا م میں شرکت کرنے والے شائقین نے اس کلاسیکی آرٹ کو بہت سراہا۔

کل ہند کیلی گرافی آرٹ نمائش اور تربیتی پروگرام برائے خطاط میں ماہر خطاط کے پیش کردہ نمونے شائقین کی توجہ کا مرکز رہے۔

واضح رہے کہ خطاطی کے پہلے بیچ کا کورس مکمل ہوگیا۔اس موقع پر کورس پورا کرنے والے طلبہ و طالبات کو کونسل کے پرنسپل پبلی کیشن آفیسرڈاکٹر شمس اقبال کے ہاتھوں مومنٹو اور سند دیے گئے ۔


آج کے دوسرے ثقافتی پروگرام میں ہمدرد پبلک اسکول کی جانب سے رنگارنگ پروگرام پیش کیے گئے۔ اس کا آغاز محمد احسان نے قرآن پاک کی تلاوت سے کیا۔ اس پروگرام میں بچوں نے غزل سرائی، ڈرامہ ، مونو ایکٹنگ، گروپ نغمہ اور لوک گیت پیش کیے ۔ یہ پروگرام قومی ترانہ کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *