نئی ٹکنالوجی نے اردو کوہمارے گھروں تک پہنچادیا ہے: اشفاق حسین

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اردو میں اشفاق حسین (کناڈا) کا توسیعی خطبہ
Ashfaque Hussain with Prof Shahzad and Prof Shehpar Rasool at JMI

تصویر : (دائیں سے بائیں) پروفیسر شہزاد انجم، اشفاق حسین اور پروفیسر شہپر رسول

نئی دہلی، ۱۵؍فروری:

بچپن سے سنتا آ رہا ہوں اردو خطرے میں ہے اور اسلام خطرے میں ہے۔ الحمد للہ دونوں کا فروغ ہو رہا ہے۔ نئی ٹکنالوجی نے ہمارے گھروں تک اردو پہنچا دی ہے۔ کناڈا کے اردو اخبارات کا معیار ہندوستان کے کسی بھی اردو اخبار سے کم تر نہیں۔ میں جس ادارے ’’ایشین ٹیلی ویژن نیٹ ورک‘‘ میں کام کرتا ہوں وہاں اس وقت سات چینلوں پر اردو کی خبریں پیش کی جاتی ہیں۔ ٹورنٹو میں اردو کے متعدد شعرا و ادبا اور قارئین سے آپ کی ملاقات ہو سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار اشفاق حسین (کناڈا)نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اردو میں ’’کناڈا میں اردو‘‘ کے موضوع پر توسیعی خطبہ پیش کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ اردو کیامہاجری ادب میں زبان و ثقافت کی حفاظت پر فطری توجہ ہے۔ ابتدا میں کناڈا میں کسی بھی زبان کے فروغ کے لیے دشواریاں تھیں لیکن بعد میں وہاں ملٹی کلچر اور ملٹی لینگول پالیسی کی بدولت اردو اور ہندی اخبارات کو بڑا فروغ حاصل ہوا۔ ابتدا میں قینچی جرنلزم کا طریقہ اختیار کیا گیا لیکن نئی ٹکنالوجی نے پوری دنیا میں انقلاب برپا کر دیا۔ اخبارات، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور انٹر نیٹ کی سہولت حد درجہ بڑھ گئی۔ ۱۹۸۰ء میں اردو کے سترہ اخبارات کناڈا سے نکل رہے تھے۔ آج بھی ٹورنٹو سے تقریباً پندرہ اردو اخبارات نکلتے ہیں۔ کناڈا میں مہاجرین کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ ان کی وجہ سے ہماری ثقافت زندہ رہے گی۔ اسلام کا بہت بڑا سرمایہ اردو میں ہے۔ کناڈا میں قرآن اور اردو پڑھانے کا ذوق و شوق ہے۔ اردو جنوبی ایشیا کی بڑی زبان ہے جو وہاں کے لوگوں کی ضرورت بھی ہے۔ آج وہاں کئی ادیبوں کی بڑی اچھی لائبریریاں ہیں۔ وہاں کے لوگوں کو کتابیں خریدنے اور پڑھنے کا شوق ہے۔ مشاعرے اور ادبی تقریبات کناڈا میں وہاں کی ثقافتی ضرورت ہیں۔ فیض صاحب کے مشورے سے میں نے ادبی رسالہ ’’اردو انٹر نیشنل‘‘ آٹھ برسوں تک نکالا جسے اکیڈمک ورلڈ نے اعتبار بخشا، یہ میرے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے۔ اشفاق حسین سے حاضرین نے کناڈا میں اردو کے تعلق سے کئی سوالات کیے جس کا جواب انہوں نے بحسن و خوبی دیا۔
مہمان مقررکا خیر مقدم کرتے ہوئے صدر شعبۂ اردو پروفیسر شہپر رسول نے کہا کہ اشفاق حسین کی حیثیت اردو کے سفیر کی ہے۔ اردو زبان و ادب اور اس کی سرگرمیوں سے انہیں غیر معمولی سروکار ہے۔ فیض احمد فیض سے انہیں گہرا عشق ہے۔یہ بنیادی طور پر شاعر ہیں لیکن ان کی ایک اہم شناخت فیض شناس کی بھی ہے۔ پروفیسر شہزاد انجم نے اشفاق حسین سے اپنے دیرینہ مراسم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اشفاق حسین کا اردو شعر و ادب سے گہرا کمٹمنٹ ہے۔ میں نے گذشتہ پچیس برسوں میں یہ محسوس کیا ہے کہ اشفاق حسین کا ہر لمحہ اردو زبان و ادب کے فروغ و فکر میں بسر ہوتا ہے۔ اشفاق حسین نے ہند و پاک کی عظیم شخصیات کا انٹر ویو لیا اور متعدد اہم فنکاروں کے ساتھ کافی وقت گذارا لیکن ان کے مزاج میں حد درجہ انکساری اور خاکساری ہے جو ان کا قد بڑھا دیتی ہے۔ جلسے کا آغاز شعبہ کے ریسرچ اسکالر شاہنواز فیاض کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ جلسے کے اختتام پر پروفیسر احمد محفوظ نے اشفاق حسین کے خطبے پر تبصرہ کرتے ہوئے اس توسیعی خطبے کو بے حدمعلوماتی قرار دیا اورساتھ ہی تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ جلسے کی نظامت پروفیسر شہزاد انجم نے کی اور آخر میں اشفاق حسین نے اپنی نظمیں اور غزلیں پیش کیں جنہیں سامعین نے بے حد پسند کیا۔ اس جلسے میں پروفیسر وہاج الدین علوی، پروفیسر عراق رضا زیدی، پروفیسر کوثر مظہری، ڈاکٹر خالد جاوید، ڈاکٹر سہیل احمد فاروقی، ڈاکٹر ندیم احمد، ڈاکٹر عمران احمد عندلیب، ڈاکٹر خالد مبشر، ڈاکٹر مشیر احمد کے علاوہ بڑی تعداد میں طلبا و طالبات اور ریسرچ اسکالروں نے شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *