نتیش کمار لوگوں کو قانون توڑنے کے لیے اکسا رہے ہیں: بی جے پی

پٹنہ(نامہ نگار):
بی جے پی کے سینئر رہنما اور بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر پریم کمار نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار پر لوگوں کو قانون توڑنے کے لیے اکسانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں قانون کی حکمرانی کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف نتیش کی حکومت میں صحافیوں پر حملے ہورہے ہیں اور دوسری جانب وہ لوگوں کو شراب کی دکان اور بھٹی کو توڑنے کے لیے اکسا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ قانون بحال کرنے کی بجائے قانون توڑنے کی بات کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شراب بندی کا کام حکومت، پولیس اور قانون کا ہے، لیکن نتیش کماراس کی ذمہ داری عام لوگوں پر تھوپ رہے ہیں۔
ڈاکٹر پریم کمار نے سہسرام میں ہندی روزنامہ دینک بھاسکرکے صحافی دھرمیندر سنگھ کے قتل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہفتہ کی صبح انہیں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ اس سے پہلے ۱۱؍نومبر کو پربھات خبر کے صحافی پربھات رنجن کے ساتھ آرپی ایف کے ایک اے ایس آئی نے پٹنہ میں بدسلوکی کی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے چوتھے ستون پر حملے سے عام لوگوں کی حکمرانی کا یہ نظام خطرے میں پڑگیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پہلے سیوان میں ہندی روزنامہ ’ہندوستان‘ کے صحافی راجدیو رنجن کا قتل کیا گیا، پھر بہار شریف میں دینک جاگرن کے دفتر میں گھس کر صحافیوں کو جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی۔ اسی طرح گیا میں دینک جاگرن کے صحافی متھلیش پانڈے کا گولی مار کر قتل کیا گیا۔ ادھر پٹنہ میں ودیاساگر نام کے صحافی کے ساتھ مارپیٹ کی اور ان سے آٹھ ہزار روپے لوٹ لیے۔ پریم کمار نے نتیش کمار سے پوچھا ہے کہ وہ بتائیں کہ ریاست میں قانون کا راج کہا ں ہے؟ انہوں نے کہا کہ دراصل پورے بہار میں کہیں بھی قانون کی حکمرانی نہیں ہے بلکہ جنگل راج چل رہا ہے۔ پریم کمار نے اس کے ساتھ ہی وزیر اعلیٰ سے استعفیٰ دینے کا بھی مطالبہ کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *