یکساں سول کوڈ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے: نتیش

ہندوستان کثرت میں وحدت والا ملک ہے، یہ اس کی خصوصیت ہے، یکساں سول کوڈ کی بات کرنے سے پہلے اس کا مسودہ لانا چاہیے، ریاستی حکومتوں کو سوالنامہ بھیج کر ان سے رائے لی جا رہی ہے، یہ ٹھیک طریقہ نہیں ہے۔ وزیر اعظم ملک کو بتائیں کہ نوٹ بندی سے کتنا فائدہ ہوا ہے، شراب بندی کی حمایت میں انسانی زنجیر بنا کر تاریخ رقم کی گئی۔

پٹنہ:

جنتادل متحدہ کے صدر اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے یکساں سول کوڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف مسلمانوں یا اقلیتوں کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے۔ اس کے بارے میں بات کرنے سے پہلے اس کا مسودہ لاناچاہیے۔ اس پر پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں بحث ہو، مختلف طبقوں اور گروہوں کی رائے لی جائے، اور پھر اس کے مطابق عمل کیا جائے۔ جس طرح یکساں سول کوڈ کو لانے کی بات کی جارہی ہے، وہ ٹھیک نہیں ہے۔ ہندوستان کثرت میں وحدت والا ملک ہے۔ یہ اس کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ یہاں مختلف مذاہب اور رسم ورواج کے ماننے والے رہتے ہیں۔ سبھی اپنے اپنے مذہبی عقیدوں اور رسم ورواج کے مطابق چلتے ہیں۔ ہندوستان کے آئین نے اس کا حق دیا ہے۔ یکسا ں سول کوڈ نافذ ہوگا تو بہت سے قوانین کو بدلنا ہوگا۔ اس کو ریاستی حکومتوں سے سوال پوچھ کر نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے۔ بہار نے اس مسئلے پر مرکز کو جواب بھیج دیا ہے۔ اس معاملے میں جنتاد ل متحدہ ایک دو دن میں اپنے موقف کا اعلان کردے گا۔

نوٹ بندی کا فیصلہ کرکے مرکزی حکومت نے ایک بڑا اور اہم قدم اٹھایا ہے۔ کہا گیا کہ کالادھن پر حملہ کے مقصد سے یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔ کالے دھن پر حملہ ہونا چاہیے۔ اس کو ہم نے ٹھیک سمجھا، اس لیے نوٹ بندی کی حمایت کی۔ اس کو پوری تیاری کی ساتھ لاگو نہیں کیا گیا۔ اس لیے لوگوں کو پریشانی ہوئی۔ وزیر اعظم نے نوٹ بندی کے سلسلے میں لوگوں سے ۵۰؍ دن مانگے تھے، ۷۷؍ دن ہو گئے ہیں۔ انہیں لوگوں کو نوٹ بندی کے اچھے بہتر نتائج سے آگاہ کرنا چاہیے۔ ہم بھی جاننا چاہتے ہیں کہ کتنا کالادھن آیا، کون لوگ پکڑے گئے۔ لیکن صرف نوٹ بندی سے کالادھن پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔ اس کے لیے بے نامی جائیداد اور ہیرے جواہرات کے کاروبار کے ساتھ ہی شیئر بازار پر کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ نقدی میں کالادھن بہت کم تھا، یہ بات سب جانتے ہیں۔ زیادہ تر کالادھن ریئل اسٹیٹ اور ہیرے جواہرات کے ساتھ ہی شیئر بازار میں لگے ہیں۔ اس پر کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔

Karpuri Thakur Jayanti

سیاسی پارٹیوں کے چندے میں شفافیت لانا ضروری ہے۔ الیکشن کمیشن نے دو ہزار روپے سے زیادہ چندہ دینے والوں کا نام پتہ لکھنے کی ہدایت دی ہے۔ لیکن صرف دو ہزار روپے سے زیادہ کیوں، ایک ایک روپے کا حساب ہونا چاہیے۔ کون کتنا چندہ دے رہا ہے، اس سب کا حساب ہونا چاہیے۔

بہار میں شراب بندی اور نشہ سے پاک معاشرے کی حمایت میں بننے والی انسانی زنجیر کا انعقاد تاریخی رہا۔ تین کروڑ سے زیادہ لوگوں نے اس میں حصہ لیا۔ لیکن کچھ لوگوں کو بلاوجہ کی نکتہ چینی کی عادت ہوتی ہے۔ ان کے بڑے لیڈر نے تو یہاں آکر شراب بندی کی حمایت کی، مگر یہ لگاتار مخالفت میں بیان دیے جارہے ہیں۔ سنجے سنگھ ان کو جواب دے رہے ہیں۔ ایسے لیڈروں کا منھ بند کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وزیر اعظم بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں شراب بندی کریں۔ گجرات کا وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے ریاست میں شراب بندی کر رکھی تھی۔ الگ الگ جگہوں سے شراب ضبط ہونے کو کچھ لوگ حکومت اور قانون کی ناکامی بتارہے ہیں۔ اب ان کو کون سمجھائے۔ ہندوستان میں قتل کے خلاف کب سے قانون بنا ہوا ہے۔ قتل کرنے والے کو پھانسی اور عمر قید کی سزا کا ضابطہ ہے، کیا قتل کی واردات رک گئی؟ لیکن کیا صرف اس لیے کہ قتل ہونے کا سلسلہ نہیں رکا ہے، اس قانون کو ختم کردیا جانا چاہیے؟ ہم لوگ سب پر نظر رکھے ہوئے ہیں، قانون اپنا کام کر رہا ہے۔ بدعنوانی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ جو ادھر ادھر کرتے ہیں، وہ پکڑے جائیں گے، انہیں چھوڑا نہیں جائے گا۔ لیکن صرف قانون اور حکومت سے کام نہیں چلے گا، عوام کو بیدار ہونا ہوگا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *