نتیش کا مودی پر نشانہ، صفائی مہم لوہیا نے شروع کی تھی

پٹنہ(نامہ نگار):

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے معروف سماجوادی رہنما ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کی ۴۸؍ویں برسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ہی وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ نتیش نے ڈاکٹر لوہیا کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ آج جو سوچھ بھارت کی بات

ڈاکٹر رام منوہر لوہیا
ڈاکٹر رام منوہر لوہیا

زور شور سے کی جارہی ہے، اس کی اصل مہم ۱۹۵۰ء کی دہائی میں ہی شروع ہوگئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں صاف صفائی کی مہم چلانے کی مہم ڈاکٹر لوہیا نے شروع کی تھی۔ وہ اس مسئلے کو بہت اہمیت اور سنجیدگی کے ساتھ اٹھاتے تھے۔ نتیش نے بتایا کہ ڈاکٹر لوہیا اکثر کہا کرتے تھے کہ یہ جو عورتیں باہر میں بیت الخلاء کے لیے جاتی ہیں، ہمارے لیے بہت ہی بدقسمتی کی بات ہے۔ ملک میں صاف صفائی کے سلسلے میں ان کی سنجیدگی اور فکر کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ایک بار انہوں نے یہاں تک کہا تھا کہ اگر پنڈت نہرو گاؤوں اور شہروں میں بیت الخلاء بنوا دیں تو میں ان کی مخالفت کرنا چھوڑ دونگا۔
نتیش کمار نے مزید کہا کہ ڈاکٹر لوہیا کی سیاسی فکر سماجوادی نظریہ پر مبنی تھی اور وہ ملک کے ہرایک شہری کی ترقی دیکھنے کے خواہاں تھے۔ اس کے لیے انہوں نے نوجوانوں، دانشوروں، کسانوں اور مزدوروں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے ساتھ ہی اپوزیشن پارٹیوں کو بھی متحد کیا۔ وہ پہلے لیڈر تھے جنہوں نے حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی۔ جب تک وہ پارلیمنٹ کے ممبر نہیں بنے تھے تب تک کسی نے حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش نہیں کی تھی۔
ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کی پیدائش ۱۲؍مارچ ۱۹۱۰ء کو اترپردیش کے اکبرپور میں ہوئی تھی۔ جب وہ محض دو سال کے تھے ،ان کی والدہ چندا کا انتقال ہوگیا۔ ان کے والد ہیرالال نے ان کی پرورش کی۔ انہوں نے بنارس ہندو یونیورسٹی سے انٹر کیا اور کلکتہ یونیورسٹی کے تحت اس وقت چلنے والے ودیا ساگر کالج سے ۱۹۲۹ء میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے ’ہندوستان میں نمک پر ٹیکس‘ کے موضوع پر جرمنی کی فریڈرک ولیم یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی۔
ڈاکٹر لوہیا ایک عظیم مجاہد آزادی تھے۔وہ ۱۹۳۴ء میں کانگریس کی بایاں بازو کی شاخ کانگریس سوشلسٹ پارٹی کے قیام کے ساتھ ہی اس کے ایگزیکٹیو ممبر بنے۔ وہ دوسری عالمی جنگ کے دوران برٹش رائل آرمی میں ہندوستانیوں کی بھرتی کی مخالفت کے سبب ۱۹۳۹ء اور پھر ۱۹۴۰ء جیل گئے۔ انہوں نے ۱۹۴۲ء کی ’انگریزو بھارت چھوڑو‘ کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس کی وجہ سے انہیں کافی شہرت ملی۔ اس دوران ۱۹۴۴ء میں وہ پھر جیل میں بند کیے گئے جہاں وہ ۱۹۴۶ء تک رہے۔انہوں نے ۱۹۴۸ء میں کانگریس سوشلسٹ پارٹی سے استعفیٰ دے دیا اور جب ۱۹۵۲ء میں پرجا سوشلسٹ پارٹی قائم ہوئی تو اس میں شامل ہوگئے اور مختصر مدت کے لیے اس کے جنرل سکریٹری بھی رہے لیکن ۱۹۵۵ء میں مستعفی ہوگئے۔ اسی سال انہوں نے سوشلسٹ پارٹی قائم کی اور اس کے چیئرمین بنے۔ وہ ۱۹۶۳ء میں لوک سبھا کے لیے چنے گئے۔ انہوں نے کسانوں کی مدد اور کھیتی باڑی کے مسائل کو حل کرنے کے مقصد سے ’ہندکسان پنچایت‘ نام کی تنظیم قائم کی۔ وہ بہت سے معاملات میں ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہرلعل نہرو کی شدید مخالفت کیا کرتے تھے۔ انہوں نے نہرو کے بارے میں ’ایک دن میں ۲۵؍ہزارروپے‘ کے عنوان سے ایک مضمون تحریر کیا تھا۔ اس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ایک دن میں وزیر اعظم پر جو اتنی بڑی رقم خرچ کی جاتی ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے جو ایک غریب ملک برداشت کرسکتا ہے۔ بہت سی کتابوں کے مصنف ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کا انتقال ۱۲؍اکتوبر ۱۹۶۷ء کو ۵۷؍سال کی عمر میں نئی دہلی میں ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *