قانون الہی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی

اسلامی شریعت اور مسلم مسائل پر کنونشن سینٹر جامعہ ہمدرد میں دو روزہ قومی فقہی سیمینار کا اہتمام

نامہ نگار

نئی دہلی

 ہم پیغمبر انسانیت کے امتی ہیں، ہمارے نبی آخر الزماں علیہ الصلوۃ و السلام فطری مساوات کے پیامبر ہیں اور آپ کی تعلیمات فطری ہیں جو صالح انسانی معاشرہ کی تعمیر و تشکیل کی ضمانت ہیں۔ دنیا میں دو تین قسم کی حکومتیں آج دنیا میں موجود ہیں اور نبوی تعلیمات ہر طرح کی حکمرانی اور مملکت و بر اعظم کے لیے رہنما ہدایت ہیں لیکن ہم نے تعلیمات رسول سے غافل ہو کر اپنے کو ذلت میں ڈال رکھا ہے۔ البتہ آپ فخر کیجیے کہ آپ ایک انتہائی تاریخی اور مثالی جمہوری مملکت کے ہندوستانی شہری ہیں۔ ان خیالات کا اظہار یہاں جامعہ ہمدرد کے کنونشن سینٹر میں شعبہ علوم اسلامی کے زیر اہتمام دو روزہ قومی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی سفیر شام برائے ہند ڈاکٹر ریاض کمال عباس نے کیا۔ اس موقع پر مفتی محمد نظام الدین رضوی مصباحی نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ مجھے دانشوروں کی فہم و فراست اور تجربہ کار و جہاں دیدہ ہونے میں کوئی کلام نہیں اور کسی تبصرے کا ہرگز کوئی حق نہیں لیکن ایک بات ادب سے عرض ہے کہ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین پر قانون الٰہی پر قیاس نہ کیا جائے اور قانون الہی کا قانون انسانی سے مقابلہ و موازنہ نہ کیا جائے، کیونکہ یہ عقل مندی نہیں، کج فہمی اور عقلی گم رہی ہے۔ اس لیے ہم سب کو اپنے فہم و ادراک کے مطابق اپنی علمی و تحقیقی اور فکری فن کاری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایک شخص سعودی عرب سے ہندوستان آیا جہاں رمضان کی انتیس تاریخ تھی تو اسے روزہ رکھنا چاہیے، اس لیے کہ قرآن کی تعلیم کا یہی تقاضا ہے لیکن یہ کہنا ہرگز دانشوری نہیں کہ اس کے تیس روزے مکمل ہو چکے، اس لیے اب وہ روزہ کیوں رکھے گا ؟ ڈاکٹر محمد احمد نعیمی نے قرآن کریم کی تلاوت سے افتتاحی تقریب کا آغاز کیا۔

سیمینار کے ڈائریکٹر پروفیسر غلام یحیی انجم مصباحی صدر شعبہ علوم اسلامی جامعہ ہمدرد نے سبھی مہمانوں کا تعارف پیش کرتے ہوئے خیر مقدم کیا اور جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر پروفیسر سید احتشام حسنین نے شال اور گلدستوں سے مہمانوں کا استقبال کیا۔ مفتی محمد مکرم احمد نقشبندی نے کہا کہ یہ فقہی سیمینار جامعہ ہمدرد میں اس لیے ضروری ہے تا کہ شعبہ علوم اسلامی کے طلبہ و محققین بھی مفتیان کرام سے رہنمائی حاصل کر سکیں اور قریب سے دیکھ سکیں کہ مفتیان کرام کیسے بحث و مذاکرہ کرتے ہیں۔

المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی ایران کے نمائندے ڈاکٹر رضا صالح انصاری نے کہا کہ فقہی سیمینار کا یہ موضوع نہایت وسیع اثرات کا حامل ہے۔ اس لیے یہ   اقدام انتہائی قابل تعریف و تحسین ہے۔ اگر جامعہ ہمدرد کے ارباب اختیار چاہیں تو ہم اسے وسیع پیمانے پر کر سکتے ہیں۔ ہم صرف یہ ضرور کہیں گے کہ حلال محمد ہمیشہ حلال اور حرام محمد تا قیامت حرام رہے گا۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ اس لیے ہمیں ایسے امور و مسائل میں عقل کے بے لگام گھوڑے نہیں دوڑانا چاہیے۔ پرو وائس چانسلر پروفیسر احمد کمال نے کہا کہ فقہی باریکیوں سے نا واقف حضرات کو ٹی وی کے فقہی مذاکرات میں شریک نہیں ہونا چاہیے جبکہ صدر اجلاس سید احتشام حسنین نے کہا کہ فقہی سیمینار کا یہ موضوع جامعہ ہمدرد کے لیے نہایت موزوں ہے، اس لیے کہ انسانی سماج کی حفظانی اور تعلیمی رہنمائی کے ساتھ دینی مذہبی رہنمائی بھی فطری ہمدردی ہے اور جامعہ ہمدرد کا یہی مقصد ہے۔ ہم اپنے مسلم سماج کے نوجوانوں اور عوام و خواص سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ مسئلے پر فیس بک پر بحث و مذاکرہ نہ کریں، وہ اپنی بات کہنے کا ایک برقی میڈیم ہے، نہ کہ خالص فقہی شرعی مسائل پر بحث و مزاکرہ بلکہ تکرار کا مقام نہیں۔ اخیر میں مہمانان گرامی نے پروفیسر غلام یحیی انجم مصباحی کی تازہ ترین کتاب “قرآن کریم کے ہندوستانی تراجم و تفاسیر کا اجمالی جائزہ” اور شعبہ علوم اسلامی جامعہ ہمدرد کے لکچرر ڈاکٹر محمد احمد نعیمی کی کتاب “ہندو مذہب اور اسلام، ایک تقابلی جائزہ” کی رونمائی کی اور مبارکباد پیش کیا۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر آبرو امان اندرابی نے انجام دیے اور ہدیہ تشکر سمیہ احمد نے پیش کیا۔

سیمینار کا پہلا باضابطہ سیشن آرکائیو ہال میں شروع ہوا جس کی صدارت شاہ محمد تقی الدین منیری نے کی سید فضل اللہ چشتی نے نظامت کے فرائض انجام دیے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *