کام نہیں سوچ چھوٹی ہوتی ہے

Nikhat Parweenنکہت پروین

اگر کبھی خدا میرے خواب میں آئے اور پوچھے کہ کیا نعمت دوں تو میں علم کی نعمت مانگوگی،یہ کہنا ہے راجدھانی دہلی کے آزادپور میں رہنے والی سنیتا کماری کا جنہوں نے تیسرے درجہ کے بعد آگے کی پڑھائی نہیں کی ، لیکن اب جبکہ ان کی عمر تقریباََ۳۴؍سال ہو گئی ہے اور وہ روزانہ دوسری لڑکیوں کو نوکری پر جاتے ہوئے دیکھتی ہیں تو انہیں احساس ہوتا ہے کہ کاش بچپن میں میں نے بھی ٹھیک طرح سے پڑھائی کی ہوتی تو آج میں بھی کسی اچھی آفس میں کام کرتی نہ کہ لوگوں کے گھروں میں ۔
سنیتا سن ۲۰۰۲؍ میں اپنے شوہر اور تین بیٹیوں کے ساتھ دہلی میں رو زگار کی تلاش میں آئی کیونکہ گاؤں میں ہونے والی کھیتی سے گھر کا خرچ چلانا مشکل ہو رہا تھا ۔یہاں ایک اچھی زندگی گذر بسر کرنے کے لیے سنیتا نے کس طرح اپنے شوہر کا ساتھ دیا اس بارے میں تفصیل سے بتاتے ہوئے وہ کہتی ہیں: میں کانپور کے نزدیک ضلع اناؤ کے گاؤں چندری کھیڑا کی رہنے والی ہوں ۔خاندان میں صرف میں اور میرا بھائی ہے۔ ماں باپ پڑھے لکھے تو نہیں تھے لیکن انہوں نے مجھے اور میرے بھائی دونوں کو تعلیم حاصل کرنے کا برابر برابر موقع دیامگر میں نے کبھی تعلیم کو سنجیدگی سے نہیں لیا ۔کسی طرح جب تیسری جماعت پاس کر گئی تو پڑھائی سے رشتہ توڑ لیا اور صر ف گھر کے کاموں اور کھیل کود میں میرا دل لگنے لگا۔ابھی سولہ سترہ سال کی عمرکو پہنچی تھی کہ میری شادی ہو گئی اور اس کے ٹھیک ایک سال بعد بڑی بیٹی پشپا کی پیدائش ہوئی۔ وہ صحیح وقت کو یاد کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہتی ہیں : ٹھیک طرح سے تو یاد نہیں لیکن اتنا یاد ہے کہ شادی کے چھ سال کے اندر میں تین بیٹیوں کی ماں بن چکی تھی لیکن جب شوہر کی کھیتی باڑی سے گھر چلانا دشوار ہوا تو اپنی جیٹھانی کے کہنے پر ہم نے اس شہر کا رخ کیا۔ یہاں آکر بھی احساس ہوا کہ صرف شوہر کی کمائی سے گھر نہیں چل پائے گا تو میں نے کام کرنے کا فیصلہ لیا۔ حالانکہ میں جانتی تھی کی میں زیادہ پڑھی لکھی تو ہوں نہیں اس لیے کوئی بڑی نوکری کر نہیں پاؤں گی ۔آخر کار اپنی جیٹھانی کی مدد سے سب سے پہلے دو گھروں میں کھانا بنانے اور صاف صفائی کا کام شروع کیا جس سے مہینہ میں۷۰۰؍روپے کما لیتی تھی زیادہ کچھ تو نہیں لیکن اس سے میرے گھر کا کرایہ نکل جاتا تھا۔ شوہر نے ایک کوچنگ میں ۲۰۰۰؍روپے پر چپراسی کی نوکری کی اور آج ایک جنرل اسٹور کی دکان پر کام کرتے ہیں اور آرڈر پر لوگوں کے گھروں تک سامان بھی پہنچاتے ہیں۔ میں اب بھی کام کر رہی ہوں، فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے کم گھروں میں کام کرتی تھی آج زیادہ گھروں میں کرتی ہوں اور زیادہ پیسے کما تی ہوں نہ کروں تو اس مہنگائی میں کام کیسے چلے گا۔ بڑی بیٹی کی تو شادی کر دی لیکن باقی دونوں بیٹیاں اب بھی پاس ہی کے ایک سرکاری اسکول میں پڑھنے جاتی ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ وہ دونوں میری جیسی بالکل نہیں ہیں بلکہ خوب دل لگا کر پڑھائی کر رہی ہیں۔ اس لیے مجھے بھی ان کی خاطر محنت کرنا اچھا لگتا ہے۔ دونوں جہاں تک پڑھنا چاہے میں ضرور پڑھاؤں گی۔ جب میری بیٹیوں کے خواب پورے ہو جائیں گے سمجھوں گی کہ میری قربانیاں کامیاب ہوئیں۔photo of nikhat art 3
ماں کی قربانیوں کو بیٹیاں کس طرح دیکھتی ہیں ،اس بارے میں سنیتا کی چھوٹی بیٹی شالینی کہتی ہے: ہم جانتے ہیں کہ ماں ہمارے لیے ہی صبح سے لے کر شام تک اتنی محنت کرتی ہیں تاکہ ہمارا مستقبل سنور سکے۔ شاید اس لیے ماں ہم سے بار بار دل لگا کر پڑھنے کو کہتی ہیں۔ میں سرکاری نوکری کرنا چاہتی ہوں یا فیشن ڈیزائنربننا چاہتی ہوں کیونکہ مجھے سلائی کرنا کافی پسند ہے۔
بیٹی کے سپنے اور سنیتا کی محنت سے ان کے شوہر خوش ہیں یا نہیں، اس سوال کے جواب میں وہ کہتے ہیں: جسے ایسی بہادر بیوی اور بیٹی ملی ہو وہ خوش کیسے نہیں ہوگا؟ ہاں شروع شروع میں اس بات کا تھوڑ ا افسوس ضرور ہوتا تھا کہ میرا کوئی بیٹا نہیں ہے تو بڑھاپا کیسے کٹے گا لیکن میری بیوی نے کم پڑھی لکھی ہونے کے باوجود جس طرح بیٹیوں کی پرورش کی ہے، اس پر مجھے فخر ہے ۔اب بڑھاپے کی فکر نہیں ستاتی۔ ہاں یہ بات اور ہے کہ کچھ لوگ مجھے طعنہ دیتے ہیں کہ میری بیوی لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہے، ان کے جوٹھے برتن صاف کرتی ہے، جبکہ اوروں کی بیویاں اچھے دفتروں میں جاکر کام کرتی ہیں، تب میں ایسے لوگوں کو ایک ہی جواب دیتا ہوں کہ کام نہیں سوچ چھوٹی ہوتی ہے، مجھے ہمیشہ اپنی بیوی پر فخر تھا اور رہے گا۔
سنیتا کے شوہر کی یہ باتیں ان تمام لوگوں کے لیے ایک ہدایت ہے جو کم پڑھی لکھی خواتین کو معاشرے کا ایک الگ حصہ مانتے ہیں۔ یوم خواتین کے اس موقع پر سنیتا کی محنت اور ان کے شوہر کے اس جذبے کو ہم سب کا سلام !

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *