اردو افسانوں میں جمود سا آ گیا ہے: رحمن عباس

نئی دہلی، ۱۹؍ فروری (نامہ نگار)
Rاردو زبان و ادب کے حوالے سے جن ناموں کا چرچہ ہے ، ان میں رحمن عباس اور ان کے نئے ناول ’روحزن‘ کو اہمیت حاصل ہے۔ رحمن عباس اس لیے چرچہ میں ہیں کیونکہ انہوں نے ’روحزن ‘ لکھا اور ’روحزن‘ اس لیے شائع ہونے سے پہلے ہی معروف ہوگیا کہ اس کے لکھنے والے کا نام رحمن عباس ہے اور عرشیہ پبلی کیشنز نے اسے شائع کیا۔
ممبئی میں مقیم رحمن عباس مانتے ہیں کہ ہندوستان میں ادب ترقی کررہا ہے اور خاص طور سے یہاں کی مقامی زبانوں میں جو ادبی تخلیقات ہورہی ہیں، وہ بہت ترقی یافتہ ہیں۔ ہندی کے ساتھ ہی مراٹھی ، بنگالی اور انگریزی میں بڑے بڑے لکھنے والے لکھ رہے ہیں اور اچھا لکھ رہے ہیں۔ جہاں تک اردو کی بات ہے ، اس میں فی الحال ادبی تخلیقات کم ہورہی ہیں۔ خاص طور سے ناول ابھی بھی بہت کم لکھے جارہے ہیں۔ اس کے باوجود وہ مایوس نہیں ہیں۔ ان کی سوچ میں ان کے نئے ناول ’روحزن ‘ کی وجہ سے تبدیلی آئی ہے۔ رحمن عباس کہتے ہیں کہ اس ناول کے شائع ہونے سے پہلے ہی اس کے خریدار مل گئے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر لوگوں تک یہ بات ٹھیک ڈھنگ سے پہنچائی جائے کہ کون کیا لکھ رہا ہے اور کیسا ادب شائع ہورہا ہے ، تو اس سے قارئین کو کتابوں تک پہنچنے میں آسانی ہوگی اور کتابیں بھی قارئین تک پہنچ سکیں گی۔
لیکن اردو ناول کے منظرنامہ سے پرامید رحمن عباس افسانہ کی صورتحال سے مایوس نظر آئے۔ ان کا کہنا ہے کہ افسانوں میں تکرار کی کیفیت زیادہ ہے اور ایک جمود سا آگیا ہے۔ اچھے افسانے تخلیق ہونگے تو انہیں اچھا قاری بھی ملے گا۔ رہی بات مجموعی طور پر اردو ادب کے منظرنامہ کی تو اس سے مایوس نہیں ہونا چاہیے ، البتہ یہ ضرور ہے کہ ناول لکھنے کی طرف رجحان کا بڑھنا ضروری ہے کیونکہ جب تک چیزیں لکھی نہیں جائیں گی تب تک یہ کیسے کہا جائے گا کہ تخلیقی ادب کا معیار بلند ہے یا پست۔


صرف ۴۳؍ سال کی عمر میں چار ناول اور تنقید مضامین پر مشتمل ایک کتاب کے خالق رحمن عباس ہندوستانی ادب اور عالمی ادب کے مابین موازنہ کو بہت زیادہ درست نہیں مانتے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی ادب کا پیمانہ وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ جو اچھا ادب ہوتا ہے ، بڑی تخلیق ہوتی ہے ، اس کو پڑھنے والے بھی بڑی تعداد میں مل جاتے ہیں۔ ا س لیے اردو والوں کو بھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ انہیں سب سے پہلے ادبی تخلیقات پر توجہ دینی چاہیے ، اس کے بعد ہی فیصلہ ہوسکے گا کہ کون سی تخلیق بہتر ہے۔

اردوکے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس زبان کے جاننے اور چاہنے والوں پر یہ لازم ہے کہ وہ نہ صرف اردو کی ادبی تخلیقات بلکہ دوسری زبانوں کے ادب کو بھی پڑھیں اور اپنا ضمیر روشن کریں۔
’نیوزان خبر‘ کے قارئین کے لیے اپنی زبان سے اپنا تعارف پیش کرتے ہوئے رحمن عباس نے بتایا کہ ان کا پہلا ناول ’نخلستان کی تلاش‘ سنہ ۲۰۰۴ء میں شائع ہوا۔ اس کتاب کے حوالے سے پاکستان کے معروف شہر کراچی میں مقیم مایا مریم لکھتی ہیں : ’’اس ناول کی اشاعت پر ایک طوفان ادب کی دنیا میں آیا جو اب فکشن کی تاریخ کا حصہ بن گیاہے۔‘‘ان کا دوسرا ناول ’ ایک ممنوعہ محبت کی کہانی ‘ ہے ۔ اسے نامور نقاد گوپی چند نارنگ نے ’کثیرالجہات ناول‘ کہا جبکہ تیسرا ناول ’خدا کے سائے میں آنکھ مچولی‘ ۲۰۱۱ء میں شائع ہوا۔ اس ناول پر مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکادمی نے فکشن کی بہترین کتاب کے انعام سے نوازا تھا جسے اترپردیش کے دادری علاقہ میں محمد اخلاق کے بے رحمانہ قتل کے خلاف احتجاج کے طور پر رحمن عباس نے واپس کردیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *