زمین دینے کے لئے ڈونر تیار… مگر محکمہ تعلیم کو دلچسپی نہیں

جھونپڑی میں چل رہا ہے اسکول
بملیش کمار بھارتی کی رپورٹ ✍️
سمری بختیار پور…… محکمہ تعلیم اپنے ہر ایک قسم کے كارناموں سے ہمیشہ ہی  شہ سرخیوں میں رہتا آ رہا ہے. لیکن اس بار کا کارنامہ ان سرخیوں سے  کچھ ہٹ کر ہے جو موضوع بحث بھی بنا ہوا ہے  اور افسوس ناک بھی  ہے.
         زمین ڈونر  اپنی  كھتياني 10 ڈيسمل زمین اسکول کے نام کرنے کے لئے محکمہ تعلیم کو چیخ چیخ کر تحریری طور پر دینا چاہ رہا ہے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ اس زمین ڈونر کا زمین محکمہ تعلیم لینا نہیں چاہ رہا ہے یا دلچسپی نہیں دکھا رہا ہے. یہ شاید  محکمہ تعلیم کا پہلا  انوکھا کارنامہ ہوگا  کہ اسے زمین مل رہی ہو اور وہ لینا نہیں چاہتا ہو. لہذا اس طرح کے کارناموں کی وجہ سے جہاں اسکول کے ہیڈ ماسٹر اور زمین ڈونر  برسوں سے پریشان ہوکر نیچے سے اوپر تک کے افسران  کے دفاتر کا چکر کاٹتے-کاٹتے تھک ہار چکے ہیں وہیں اب تک عمارت وهن اسکول جھونپڑی میں ہی چل رہا ہے. اب اسکول کو دوسرے اسکول میں شفٹ کرنے کا بحث بھی شروع ہو گیا ہے.
         جی ہاں بات کی جا رہی ہے بنما اٹہری بلاک  کے این پی ایس  اسکول سهريا ہریجن ٹولا کی. اس اسکول کے قیام کا  نوٹیفکیشن  سال 2006 میں ہوا تھا. اسکول میں ہیڈ ماسٹر سمیت دو استاد چندر پوددار اور وکیل پاسوان تعینات ہیں  جس میں 187 بچوں کا داخلہ رجسٹر پر درج  ہے.
ضلع آفیسر کو زمین ڈونر کی  جانب سے سال 2017 میں ہی رجسٹریشن کے لئے درخواست: –
زمین ڈونر  سهريا گاؤں کے واسدیو سادا نے اگست 2017 میں ضلع مجسٹریٹ  کو زمین رجسٹریشن  کے سلسلے میں دیئے درخواست میں کہا ہے کہ نئے پرائمری اسکول سهريا ہریجن ٹولا کے اسکول کی تعمیر کیلئے میں اپنا 10 ڈيسمل كھتياني زمین معزز گورنر بہار  کے نام سے مفت میں  عطیہ کرنا چاہتا ہوں. جس کے لئے میرا زمین رجسٹریشن کے لئے منظور کیا جائے.
ہیڈ ماسٹر بولے : –
ہیڈ ماسٹر چندر پو پودار نے بتایا کہ ڈونر اسکول کو  زمین عطیہ میں دینے کے لئے  تیار ہے. اس کے لئے میں  اور زمین ڈونر  برسوں سے بلاک  سے لے کر اوپر کے تمام عہدیدار اور حکام سب کو درخواست دیتے دیتے تھک ہار چکے ہیں لیکن کسی قسم کی اب تک کوئی پیش رفت  نہیں ہو پائی  ہے. اسلئے  اسکول کو جھونپڑی میں چلانے کو مجبور ہیں.
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *