امت شاہ این آر سی اور سٹیزن شپ بل کے بارے میں گمراہ کر رہے ہیں : مولانا محمد ولی رحمانی

امت شاہ این آر سی اور سٹیزن شپ بل کے بارے میں گمراہ کر رہے ہیں : مولانا محمد ولی رحمانی

پارلیامنٹ میں امت شاہ کے این آر سی اور سٹیزن شپ امینڈمنٹ بل کے بارے میں دھوکہ پر مبنی بیان پر حضرت امیر شریعت کانقطۂ نظر

پٹنہ:(عادل فریدی)امیر شریعت بہار ، اڈیشہ و جھارکھنڈمفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے وزیر داخلہ ہند امت شاہ کے ذریعہ پارلیامنٹ میں این آر سی اور سٹیزن شپ امینڈمنٹ بل کے تعلق سے گمراہ کن بیان پر اپنے نقطۂ نظر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امت شاہ اپنے بیانوں سے دھوکہ دے رہے ہیں ، ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ این آر سی پورے ملک میں نافذ ہو گا اور اس میں مذہبی بنیادوں پر بھید بھاؤ نہیں کیا جائے گا اور دوسری طرف وہ سٹیزن شپ امینڈمنٹ بل لا کر مسلمانوں کے علاوہ تمام مذاہب کے لوگوں کو این آر سی سے مستثنیٰ کررہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب مسلمانوں کے علاوہ سبھی لوگوں کو آپ شہریت دے دیں گے تو لازماً وہ این آر سی میں شامل ہو جائیں گے ،خواہ ان کے پاس کو ئی لیگل ڈوکومنٹ ہو یا نہ ہو، یہ بات امت شاہ کولکاتا میں بھی کہہ چکے ہیں، تو اب رہ گئے صرف مسلمان تو انہیں این آر سی کے ذریعہ پریشان کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ امت شاہ نے پارلیامنٹ میں این آر سی اور سٹیزن شپ بل سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں بد ھ کو پارلیامنٹ میں کہا کہ این آر سی کو پورے ملک میں نافذ کیا جائے گا اور اس کی بنیاد پر ہی اب شہریت کی شناخت کی جائے گی، انہوں نے مذہبی بنیادوں پر بھید بھاؤ کا انکار کرتے ہوئے کہا کہ مذہب کی بنیاد پر این آر سی میں کوئی امتیاز نہیں برتا جائے گا۔این آر سی کی بنیاد پر صرف شہریت کی شناخت کی جائے گی اور اس کا تعلق کسی مذہب سے نہیں ہو گا، اس لیے این آر سی کے تعلق سے کسی بھی مذہب کے لوگوں کو ڈرنے یا خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے، یہ ایک ایسا پروگرام ہے ، جس کے ذریعہ سبھی ہندوستانی شہریوں کو رجسٹرڈ کیا جائے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ شہریت ترمیمی بل (سٹیزن شپ امینڈمنٹ بل)الگ معاملہ ہے ، اور این آر سی الگ معاملہ ہے۔

حضرت امیر شریعت مد ظلہ نے کہا کہ امت شاہ کا مذکورہ بالا بیان گمراہ کن اورفریب آمیز ہے ، انہوں نے کہا کہ سب لوگ جانتے ہیں کہ شہریت ترمیمی بل الگ ہے اور این آر سی الگ ہے ، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان دونوں میں گہر ا رشتہ ہے ، اور اس رشتے کا اظہار امت شاہ کولکاتا میں بھی اپنے بھاشن میں کرچکے ہیں اور کئی جگہ انٹرویو میں بھی اس بات کا اقرار کر چکے ہیں کہ این آر سی اکیلے نہیں آئے گا بلکہ شہریت ترمیمی بل کے ساتھ آئے گا ۔پہلے شہریت ترمیمی بل کے ذریعہ پاکستان ، بنگلہ دیش اور افغانستان وغیرہ ملکوں سے آئے ہوئے سبھی ہندو، سکھ، جین ، بودھ اور کرشچن کو ہندوستا ن کی شہریت دے دی جائے گی، اس کا مطلب یہ ہے کہ خواہ وہ قانونی طور پر ہندوستان میں داخل ہوئے ہو ں یا غیر قانونی طریقہ پر اور ان کو اس کے لیے کسی بھی دستاویز کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، اس میں مسلمانوں کو چھوڑ دیا گیا ہے ، جو سراسر مذہبی بنیاد پر تفریق ہے ۔سرکار کھلے عام مذہبی منافرت اور تعصب کا کھیل بہت ہی بے شرمی کے ساتھ کھیل رہی ہے۔

یہ بات بھی سب کو معلوم ہے کہ مذہبی منافرت سے بھر پور یہ شہریت ترمیمی بل پارلیامنٹ میں بہت پہلے ٹیبل ہو چکا ہے اور اس پر کارروائی بھی ہو چکی ہے۔اب سرکار اس کو اسی سرمائی اجلاس میں پاس کرانے کے درپے ہے ۔اس کے بعد امت شاہ کے بیان کے مطابق این آر سی پورے ملک میں نافذ ہو گا تو آپ ہی بتائیے کہ اس کا نفاذ کس پر ہو گا ؟ظاہر ہے مسلمانوں پر ۔اسی لیے میں شروع سے کہتا رہا ہوں کہ این آر سی صرف مسلمانوں کو پریشان کرنے کے لیے ہے ۔امت شاہ نے کئی بار اپنے بیان میں نفرت انگیز لہجے میں کہا ہے کہ ایک ایک گھس پیٹھیے(مطلب مسلمان)کو چن چن کر ہندوستان سے نکال دیں گے ، غیر مسلموں کو خوش کرنے اور اپنا ووٹ بینک مضبوط کرنے کے لیے امت شاہ چاہے جوکچھ بولیں لیکن انہیں بھی معلوم ہے کہ کسی کو ملک سے نکالنا اتنا آسان نہیں ہے ، اس میں کئی قسم کی قانونی پیچیدگیاں ہیں۔ ہاں وہ اس کے ذریعہ مسلمانوں کو پریشان کر سکتے ہیں ، اسی بہانے ان کو اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کا موقع مل جائے گا ، اور مذہبی منافرت کا شکار عوامی بھیڑ جس کو گذشتہ پانچ ۔چھ سالوں میں بی جے پی اور اس کے ہم نواؤں نے سرکاری مشینری کااستعمال کرتے ہوئے تیار کیا ہے ، اسی پر خوش ہو جائے گی کہ مسلمان پریشان ہو رہے ہیں اور سرکار سے ترقی، تعلیم، روزگار ، مہنگائی جیسے بنیادی مسئلوں پر سوال نہیں کرے گی ۔

امیر شریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب مد ظلہ نے یہ بھی کہا کہ مسلمان بی جے پی اور امت شاہ کی چالوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں ، اس لیے وہ دھوکہ دینا اور گمراہ کرنا بند کریں اور یہ بتائیں کہ جو این آر سی وہ نافذ کرنے والے ہیں اس کی بنیا د کیا ہو گی اور کون کو ن سے دستاویزات اس کے لیے ضروری ہوں گے۔

حضرت امیر شریعت مد ظلہ نے مسلمانوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اپنے طور پر کاغذات کے اعتبار سے مضبوط رہیں ، دستاویزات تیار کر لیں اور خوف و دہشت میں بالکل مبتلا نہ ہوں ۔ اس ملک کی آزادی کے لیے مسلمانوں نے دوسروں سے زیادہ قربانیاں دی ہیں ، اور دوسروں سے زیادہ اس ملک کوبنایا سنوارا ہے ۔ اس ملک پر مسلمانوں کا حق ہے ،ملک کے آئین نے انہیں اس میں برابر کا حق دیا ہے ، یہ حق ان سے کوئی چھین نہیں سکتا اور کوئی بھی طاقت مسلمانوں کو اس ملک سے بے دخل نہیں کر سکتی ۔ حکومتیں آتی جاتی رہیں گی ، یہ ملک باقی رہے گا، آئین باقی رہے گا ، مسلمان باقی رہیں گے، ان شاء اللہ!!!

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply