تبدیلی کے لئے تیار ہوجاؤ

Fauzia photo

فوزیہ رحمٰن خان

ہرسال کی طرح امسال بھی ۸؍مارچ کو عالمی یوم خواتین جوش وخروش سے منایا جارہا ہے ۔ اس مرتبہ یعنی سال ۲۰۱۷ء کا موضوع ’بی بولڈ فار چینج‘ رکھا گیا ہے،یعنی ’تبدیلی کے لیے حوصلہ کے ساتھ تیار ہوجاؤ۔‘مگر تبدیلی کے لیے تعلیم ازحد ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں جنس اور تعلیم کے میدان میں ۱۹۹۳ء سے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم’ نیرنتر‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ’ہندوستان میں ۲۸ء۷ کروڑبالغان ایسے ہیں جو پڑھ لکھ نہیں سکتے ہیں،یہ آبادی دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے، فیصد کے حساب سے اندازہ لگایا جائے تو یہ دنیا کی کل آبادی کا۳۷؍فیصدحصہ بنتی ہے۔‘ اس میں بھی اگر تعلیم نسواں کی بات کی جائے توسال ۲۰۱۱ء کی مردم شماری کے مطابق خواتین کی شرح خواندگی ۶۵ء ۴۶فیصد ہے جبکہ مردوں کی شرح خواندگی ۸۰؍فیصد سے زیادہ ہے۔ نیرنتر کے مطابق حال ہی میں حکومت ہند نے ’ساکشربھارت‘ مہم کو سال ۲۰۱۷ء میں بند کرنے کا فیصلہ لیا ہے، جس سے حصولِ تعلیم کو فروغ ہو رہا تھا۔

ایک پروگرام میں ڈاکٹر اسلم جمشید پوری، مولانا محمد علی جوہرؔ کا نظریۂ تعلیم پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’تعلیم نسواں کے سلسلہ میں مولانا محمدعلی جوہر بڑے روشن خیال تھے،اس وقت جب عورتوں کا پردہ بہت زیادہ اہمیت رکھتا تھااور ان کا باہر نکلنا محال تھا،اس ماحول میں بھی جوہرؔ صاحب نے خواتین کی تعلیم کی وکالت کی تھی۔مولانا جوہرؔ چاہتے تھے کہ مسلم خواتین پردے کی عظمت برقرار رکھتے ہوئے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں جو ان کا بنیادی حق ہے۔‘

مذکورہ دونوں باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جب ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آج بھی ہمارے معاشرے میں کچھ لوگوں نے خواتین کو گھر کا کام کرنے والی نوکرانی سے زیادہ اہمیت نہیں دی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ آج بھی خواتین مردوں کے سامنے کمزور مانی جاتی ہیں ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ جو مرد اپنی بیوی، بیٹی اور بہن کو جاہل اورگنواربول کر طعنے دیتے ہیں وہی دوسری عورتوں کی تعریف کرتے نہیں تھکتے ہیں کہ فلاں ڈاکٹر ہے، فلاں ماسٹر ہے اوروہ انجینئر ہے۔ لیکن اگر یہ مرد طعنے دینے کے بجائے انہیں بھی اس لائق بنانے میں ان کی مدد کریں تو شاید کوئی بھی عورت جاہل نہ رہے۔ مردوں کو چاہیے کہ وہ بھی اپنی شریک حیات، بیٹی اور بہن کو آگے بڑھنے کا موقع دیں،انہیں بھی وقت ضرورت ملازمت کرنے کے قابل بنائیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر خود خواتین کیا چاہتی ہیں؟ وہ ملازمت کرنا چاہتی ہیں یا صرف اپنے آپ کو تعلیم یافتہ بناکر گھر کی زینت بنائے رکھنا چاہتی ہیں۔اس سلسلہ میں دہلی میں واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ کے فائن آرٹ کی طالبہ کہکشاں پروین کہتی ہیں: ’’لڑکیوں کو ملازمت کرنی چاہیے، کیونکہ لڑکیوں کا با اختیار ہونا بہت ضروری ہے۔ ملازمت کرنے کی وجہ سے وہ معاشی طور پر آزادی محسوس کرتی ہیں۔ اگر ان کی زندگی میں کوئی مصیبت آئے تو وہ خود اس کا سامنا کرسکتی ہیں۔ خاص طورسے شادی کے بعد ملازمت کرنے سے ان کی اور ان کے گھر والوں کی معاشی مدد بھی ہو تی ہے۔‘‘انگریزی میں ماسٹر ڈگری حاصل کرچکی سریتا کماری کے مطابق ’’بیشک عورتوں کو ملازمت کرنی چاہیے، ملازمت کرنے سے نہ صرف ہماری ضرورتیں پوری ہوتی ہیں، بلکہ ہماری خود کی عزت بھی برقرار رہتی ہے۔ اپنے پیروں پر کھڑے ہونگے تو کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑ ے گی اور خود اعتمادی بنی رہے گی۔‘‘ ریاست بہار کے ضلع دربھنگہ کی باشندہ اور میتھلا یونیورسٹی سے انگلش میں ایم اے کی تعلیم حاصل کرنے والی کویتا کماری کے مطابق’عورتوں کو ملازمت ضرور کرنی چاہیے، اگر ان کی خود کی مرضی ہو توملازمت کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ معاشی اعتبار سے بے فکر ہو جائیں گی جس سے اگر ان کی زندگی میں کبھی بھی ان کے گھر والوں پر کوئی پریشانی آتی ہے تو وہ خود بھی ان کی مدد کر سکتی ہیں۔ ملازمت کرنے سے ان کی اپنی شناخت بھی بنے گی۔ دوسرے لوگوں کے درمیان بہت کچھ سیکھنے کو بھی ملے گا۔ اپنے کام میں لگے رہنے سے ادھر ادھرکی باتوں پر بھی دھیان نہیں جائے گا جس کی وجہ سے اکثر گھر برباد ہو جاتے ہیں ۔ میراتو یہ بھی ماننا ہے کہ لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیاں بھی اپنے والدین کی خدمت کرسکتی ہیں۔ شادی کے بعد لڑکیاں اپنے والدین کے یہاں موجود رہ کر ان کی خدمت نہیں کر سکتی ہیں لیکن دور رہ کر ان کی تھوڑی سی معاشی مدد تو کر ہی سکتی ہیں۔ اگر ایسے میں وہ خود ملازمت کرے گی تو سسرال والوں کو بھی کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔‘
صحافتی تعلیم حاصل کرکے دوردرشن میں ملازمت کرنے والی نازیہ خان پرجوش انداز میں کہتی ہیں: ’’میں ملازمت کر کے بہت خوش ہوں، مجھے ملازمت کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی، ہمارے گھر والوں کو بھی کو ئی پریشانی نہیں ہے بلکہ وہ لوگ بھی خوش ہیں اور میری سمجھ سے ہر لڑکی کو تعلیم کے بعد ملازمت کرنی ہی چاہیے۔‘‘ اردو گورنمنٹ مڈل اسکول حمزہ پور، شیر گھاٹی ضلع گیا کی سینئر ٹیچر محترمہ رخسانہ خاتون اپنے نپے تلے انداز میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتی ہیں: ’’خواتین کبھی گھر کی زینت ہواکرتی تھیں اور آج بھی ہیں مگر عورتوں کو ملازمت کرنی چاہیے کیونکہ اس مہنگائی کے دور میں بچوں کی تعلیم پر جتنا خرچ ہوتا ہے اس کی بھر پائی ایک کمائی میں ہونا مشکل ہے۔ اس لیے خواتین کو بھی ملازمت ضرور کرنی چاہیے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ملازمت نہیں کرنے سے ان کی حاصل شدہ تعلیم بیکار ہو جاتی ہے، وہ جو بھی تعلیم حاصل کرتی ہے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے، جبکہ ملازمت کرنے سے وہ سب پڑھا ہوا نہ صرف تازہ رہتا ہے بلکہ دن بدن اس میں اضافہ ہی ہوتا رہتا ہے۔ مگر ملازمت کرنے میں کچھ پریشانیاں بھی ہوتی ہیں جیسے ہم اگر کہیں جانا چاہیں تو ملازمت کی ذمہ داریوں کی وجہ سے نہیں جا سکتے ۔مختصر یہ کہ ملازمت کرنے میں نقصان اور فائدے دونوں ہی ہیں لیکن میں اپنے ملازمت کرنے اور نہ کرنے والے زمانہ کا موازنہ کرتے ہوئے اپنی بہنوں کو یہی مشورہ دینا چاہتی ہوں کہ عورتوں کو ملازمت ضرور کرنی چاہیے۔‘‘

ان خواتین کی باتوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اب ہمارا معاشرہ کہاں جانے کو تیار ہے۔ ایک زمانہ تک اپنے اپنے گھروں میں قید رہ کر گھر کے کسی کونے میں سسکیاں بہانے والی خواتین نے اب یہ طے کررکھا ہے کہ ہم اپنے خون کو اپنی آنکھوں کے ذریعہ آنسوؤں کی شکل میں برباد کرنے کے بجائے مثبت تبدیلی کا رخ اختیار کرتے ہوئے ترقی کی منازل طے کریں گے۔
fauziahasan91@gmail.com

چرخہ فیچرس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *