موصل کو آزاد کرانے کی مہم شروع

بغداد(ایجنسیاں):
عراق کے معروف شہر موصل کو دہشت گرد گروہ داعش کے چنگل سے آزاد کرانے کے لیے عراقی مسلح افواج اور مقامی جنگجوؤں نے مشترکہ مہم شروع کر دی ہے۔ ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ارنا کے مطابق اس آپریشن میں زمینی افواج کے ساتھ ہی عراقی کردستان کی پیشمرگہ فورسیز کے سیکڑوں جنگجو حصہ لے رہے ہیں۔ عراقی صوبہ نینوا کے عام شہریوں کے علاوہ الحشد اور الشعبی نامی قبائل بھی دہشت گردوں کے خاتمے اور موصل کی آزادی کی مہم میں پیش پیش ہیں۔ واضح ہوکہ عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی نے ۱۶؍ اکتوبر کو اس آپریشن کے سلسلے میں ٹیلی ویزن کے ذریعے باضابطہ طورپر اطلاع دی تھی۔operation-starts-against-isis-in-mosul

عراقی کردستان کی پیشمرگہ فورسز کے ۵۰؍ہزار جوان تاریخی شہر موصل کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کروانے کے اس آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ ادھر دہشت گرد گروہ داعش اپنے خلاف عراقی فضائیہ کے حملوں کو ناکام بنانے کے مقصد سے تیل کے کنوئیں میں آگ لگا رہا ہے۔ اس دوران عراقی کردستان کے صدر مسعودبارزانی نے عراقی کردستان علاقہ کی سرکاری ویب سائٹ پر اعلان کیا ہے کہ موصل کو داعش کے قبضے سے آزاد کروانے کے لیے سبھی انتظامات کرلیے گئے ہیں۔
عراق کے شمالی حصے میں واقع موصل ایک تاریخی شہر ہے۔ اس کی آبادی کم وبیش ۲۵؍لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ عراق کی راجدھانی بغداد سے تقریباً ۴۰۰؍ کلومیٹر شمال میں دریائے فرات کے مغربی کنارے پر واقع اس شہر پر ۱۰؍جون ۲۰۱۴ء کو داعش نے قبضہ کر لیا تھا۔ اس دہشت گرد گروہ کے قبضے والے علاقے میں موصل سب سے بڑا شہرہے۔ اس کو آزاد کرانے کے لیے عراق کی مسلح افواج اور عراقی کردستان کی پیشمرگہ فورسزکے ساتھ ہی مقامی باشندوں اور قبائل کے جنگجوؤں پر مشتمل تقریباً ایک لاکھ جوان حصہ لے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ عراقی فضائیہ کے ساتھ ہی اتحادی ملکوں کی فضائیہ بھی موصل کو آزاد کرانے کی مہم میں تعاون کررہی ہیں۔ اس سب کے باوجود داعش آسانی سے پیچھے نہیں ہٹ رہا ہے۔ امریکی فوجی حکام کے مطابق داعش کے دہشت گردوں کی تعداد پانچ ہزار کے قریب ہے جبکہ اس گروہ کے حامی اسے سات ہزار بتاتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *