بنگلورو میں بدھ کو نظر آئے گا اپوزیشن کا اتحاد

کماراسوامی نے نئی دہلی میں راہل گاندھی سے ملاقات کی-

بنگلورو، نامہ نگار:

کانگریس کی سربراہی میں بدھ کو یہاں بی جے پی مخالف پارٹیوں کا اتحاد دیکھنے کو مل سکتا ہے- دراصل جنتادل سیکولر کے لیڈر ایچ ڈی کمارسوامی بدھ کو کانگریس کی حمایت سے اپنی حکومت بنائیں گے- کمارسوامی بطور وزیر اعلی حلف لیں گے- اس تقریب میں شرکت کے لیے بی جے پی مخالف پارٹیوں کے ساتھ ہی ان سبھی جماعتوں کو بھی دعوت دی گئی ہے جو این ڈی اے سے باہر ہیں- اطلاع کے مطابق حلف برداری کی اس تقریب میں کانگریس صدر راہل گاندھی کے علاوہ سماجوادی پارٹی کے صدر اکھیلیش یادو، بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی، ترنمول کانگریس کی صدر اور مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی، راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر تیجسوی یادو اور اسی سال این ڈی اے سے ناطہ توڑنے والے آندھرا پردیش کے وزیر اعلی اور تیلگودیسم پارٹی کے سپریمو این چندرا بابو نائیڈو بھی شرکت کریں گے-

ایچ ڈی کماراسوامی کی حلف برداری تقریب میں اتنی ساری پارٹیوں کے لیڈران کے جمع ہونے کو ۲۰۱۹ کے لوک سبھا الیکشن کے لیے بی جے پی مخالف پارٹیوں کے اتحاد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے- دراصل کانگریس کی حمایت سے جے ڈی ایس کو حکومت بنانے کا موقع بڑی مشکل سے ملا ہے-

قابل ذکر ہے کہ ۱۲ مئی کو کرناٹک کی ۲۲۴ رکنی اسمبلی کی ۲۲۲ سیٹوں ہی پر انتخابات ہوئے تھے- نتائج کے اعلانات کے بعد کسی بھی سیاسی جماعت کو واضح اکثریت نہیں مل پائی تھی- لیکن نتیجہ آنے کے ساتھ ہی ۷۸ سیٹیں جیتنے والی کانگریس نے ۳۸/ سیٹوں پر کامیاب ہونے والی جے ڈی ایس کو غیرمشروط حمایت دینے کا اعلان کر دیا- اس سے کرناٹک کی سیاسی صورت حال دلچسپ ہو گئی- اس دوران اسمبلی الیکشن میں سب سے زیادہ ۱۰۴ / سیٹوں پر جیت کا پرچم لہرانے والی بی جے پی نے بھی حکومت سازی کا دعوی کر دیا- بی جے پی قانون سازیہ پارٹی کے لیڈر بی ایس یدیورپا کے دعوے کو گجرات سے تعلق رکھنے والے کرناٹک کے گورنر وجوبھائی والا نے تسلیم کرلیا اور انہیں ۱۷ مئی کو وزیر اعلی کا حلف بھی دلوا دیا- اس سے قبل کانگریس اور جے ڈی ایس نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا کر معاملے کو نیا موڑ دے دیا تھا- سپریم کورٹ نے آدھی رات کے بعد سماعت شروع کی اور جمعرات کو صبح پانچ بجے کے قریب فیصلہ سناتے ہوئے حلف برداری تقریب پر روک لگانے سے انکار کر دیا- لیکن اسی سے جڑے ایک دوسرے معاملے میں عدالت عظمی نے بی جے پی لیڈر یدیورپا کے وکیل سے سخت سوال پوچھ لیا کہ وہ اکثریت کیسے ثابت کریں گے- سپریم کورٹ نے اس کے ساتھ ہی کرناٹک پولیس کے اعلی اہلکاروں کو سبھی اراکین اسمبلی کو پوری سیکورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی- نتیجہ کے طور پر اراکین اسمبلی کی خرید و فروخت کے سبھی امکانات معدوم ہوتے چلے گئے- اس کے ساتھ ہی یہ پیغام بھی عام ہوتا چلا گیا کہ بی جے پی اپنی حکومت بنانے کے لیے اراکین اسمبلی کو خریدنے کی کوشش کر رہی ہے- اگرچہ اقتدار کے لیے کم و بیش سبھی پارٹیاں ایسا کرتی ہیں لیکن کوئی بھی یہ نہیں چاہتی کہ عوام میں اس کی ایسی شبیہ بنے- شاید یہی سوچ کر بی جے پی کے لیڈران پیچھے ہٹ گئے اور بی ایس یدیورپا نے ۱۹/ مئی کو ایوان میں اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کرانے سے پہلے ہی اپنے عہدے سے استعفی دے دیا- اس کے بعد گورنر نے کماراسوامی کو حکومت بنانے کی دعوت دی ہے-  پچھلے سال ۱۶/ مارچ کو پنجاب میں کیپٹن امریندر سنگھ کی قیادت میں حکومت بننے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کانگریس ملک کی کسی ریاست میں اقتدار کا حصہ بنے گی- اطلاع کے کرناٹک حکومت میں ایک نائب وزیر اعلی کے ساتھ ہی کانگریس کی طرف سے ۲۲ وزراء بھی ہونگے۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *