پاکستان میں صاحب عقل کی بھرمار ہے!

asfarاسفر فریدی

پاکستان کے ساتھ شروع ہی سے ایک بڑی پریشانی یہ رہی ہے کہ اس کے بارے میں تصور کرنے والے سے لے کر اس کا نظام چلانے والے تک، سبھی یک طرفہ سوچنے کے مریض رہے ہیں۔ انہیں اپنی سوچ میں آنے والی باتوں کے الگ الگ نتائج کا دور دور تک احساس نہیں ہوتا۔ اگر یہ بات ان کے ذہن میں آتی تو غیرمنقسم ہندوستان میں جوکچھ لوگ دوسروں کے کندھوں پر بندوق رکھ کر پاکستان کے نام کی گولیاں چلارہے تھے، وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ پاکستان کا تصور کرنے والے جہاں صرف چند لاکھ اور کروڑ زندہ انسانوں کے بارے میں سوچ سکے ، وہاں وہ برصغیر کی خاک میں مدفون کروڑوں افراد کی منتقلی کے حوالے ان کا کوئی لایحۂ عمل سامنے نہیں آیا۔ اسی طرح وہ آئندہ نسل کے تعلق سے بھی اپنی کوئی پختہ رائے لوگوں کے سامنے نہیں پیش کرسکے۔ اسی لیے پاکستان کا خواب دیکھنے والوں کی عقل سلیم پر غصہ کرنے سے زیادہ کبھی رونا آتا ہے تو کبھی ہنسی آتی ہے۔ غلط سیاست کے نتیجے میں دنیاکے نقشہ پر وجود میں آنے والے اس ملک کے ارباب حل و عقد اکثر کوئی نہ کوئی ایسا کام کرجاتے ہیں، جو ذہن و عقل سے عاری ہوتا ہے، اور لوگوں کو بے ساختہ ہنسی آجاتی ہے۔ اس کی تازہ مثال ’کل بھوشن یادو‘کی گرفتاری ہے۔
حکومت پاکستان اور اس ملک پر مسلط وہاں کی فوج کے اہلکاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ غیرملکوں میں ہندوستان کے لیے جاسوسی کی ذمہ داری سنبھالنے والے شعبہ ’ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ‘ (راو) کا ایک جاسوس ایران کے راستے پاکستان میں داخل ہوتے وقت گرفتار ہوا ہے۔ غیرقانونی طریقے سے پاکستان کی سرحد میں داخل ہونے والا کل بھوشن یادوکے پاس سے اس کا پاسپورٹ بھی برآمد ہوا ہے۔ یہ پاسپورٹ اس نے مہاراشٹر کے پونہ شہر سے بنوایا تھا۔ پاکستان کی طرف سے جو ویڈیو جاری کی گئی ہے ، اس میں کل بھوشن یادو نے اپنے تمام ’کارناموں‘ کی پوری داستان بیان کردی ہے۔ اس سے ظاہرہوتا ہے کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور دوسرے خطوں بالخصوص کراچی میں ہندوستانی انٹیلی جنس تخریبی کارروائیں کرواتی ہے۔ وہ پاکستان میں سرگرم حکومت مخالف گروپوں کی بھی حمایت کرتی ہے۔
ایڈٹ شدہ اس ویڈیو یا پھر یو کہیں کہ ’اقرار نامہ‘ کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے جیسے جناب کل بھوشن یادو صاحب اس دنیا میں بس یہی بتانے کے لیے آئے ہوں کہ پاکستان کی سرزمین پر ہندوستان کیا کیا اور کس کس طرح کررہا ہے۔ ان کے اقبالیہ بیان سے مجھے کم وبیش پانچ سال پرانا ایک واقعہ یاد آتا ہے جب افغانستان سے ’کسی طرح بھاگ کر ہندوستان آئے ایک خاندان کے سرپرست نے خود کو آئی ایس آئی کا ستایا ہوا‘ بتاکر ہندوستان سے مراعات حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان صاحب سے بات کرنے کا مجھے موقع ملا تھا۔ پہلے تو وہ اپنی سبھی باتوں کے لیے ثبوت کی بات کررہے تھے، لیکن جب ان سے ثبوت پیش کرنے کے لیے کہا گیا تھا تو انہوں نے چند ایک ایسے کاغذات پیش کیے جو دنیا میں کہیں بھی اردو فارسی یا دری زبان پڑھنے لکھنے والے لوگ بنا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک کاغذ پر قلم سے لکھا تھا کہ آپ کو فلاں کام کے لیے اتنے ہزار روپے دیے جائیں گے، اور اگر آپ نے کام نہیں کیا تو انجام برا ہوگا۔ یہ اور اسی طرح کی کئی ایسی باتیں تھیں جن سے صاف اندازہ ہورہا تھا کہ جناب نے ابھی جھوٹ بولنے میں بھی بہت کچے ہیں۔ اس تناظر میں جب پاکستان کے ذریعہ ہندوستانی جاسوس کا اقبالیہ ویڈیو دیکھتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی نے پٹھان کوٹ حملہ میں اپنی سرزمین کے استعمال ہونے کے ثبوت سے دنیا کا دھیان بھٹکانے کے لیے جو راستہ چنا، اس پر ٹھیک سے اس نے خود کام نہیں کیا تھا۔ اس لیے اس کے پاؤں بار بار لڑکھڑا رہے ہیں۔
اب ذرا غور کیجیے، ہندوستان کے لیے جاسوسی کے کام پر مبینہ طور سے مامور یہ شخص کہتا ہے کہ وہ اپنے بدلے ہوئے نام یعنی مبارک حسین پٹیل کے طور پر کئی بار پاکستان بالخصوص کراچی جا چکاہے۔ کبھی اس پر کسی کو شک و شبہ نہیں ہوا ۔ وہ ایران کے ساحلی شہر چابہار میں اپناایک چھوٹا سا کاروبار کرتا ہے ۔ یہ کاروبار دراصل اس کے کام پرپردہ ڈالنے کے لیے ہے۔ اس سے پہلے جناب ہندوستانی بحریہ میں مامور تھے ، اور اونچے عہدوں تک ترقی بھی ہوئی۔ کم وبیش ۱۴؍برسوں تک بحریہ میں اپنی خدمات انجام دینے کے بعد دسمبر ۲۰۰۱؍ میں جب ہندوستانی پارلیمنٹ پر حملہ ہوا، اس کے بعد وہ جاسوسی کے کاموں میں اپنی خدمات پیش کرنے لگے، یہاں تک دو سال پہلے ’راو‘ نے انہیں اپنی خدمات پر مامور کیا۔مذکورہ ویڈیو میں کل بھوشن یادو اس طرح بات کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں جیسے وہ اپنا آموختہ سنارہے ہوں۔ اس ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے ’راو‘ کے ایک سینئر اہلکار نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ ہم دنیا کے معروف جاسوسی ادارو ں میں نہ سہی ، لیکن ہم بیوقوف نہیں ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ انٹیلی جنس شعبہ میں کام کرنے والا شخص نہ صرف اپنا پاسپورٹ لے کر ایک ’دشمن‘ ملک میں داخل ہوتا ہے اور پھر اپنے چہرے پر کسی بھی طرح کا شکن لائے بغیر اپنی ایجنسی کے سبھی کارناموں کی کہانی بتاتے ہیں۔ جاسوسی کی الف بے سے ناواقف شخص بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ گلی محلوں کا ایک چھوٹا موٹا چور بھی اپنی کارستانی کا اس طرح اعتراف نہیں کرتا ہے۔ اس لیے یہ بات تو صاف ہے کہ پاکستان نے غیرمعمولی اقدام کرتے ہوئے بلوچستان میں ہندوستان کے ’رول‘ کو ثابت کرنے کے لیے جس ویڈیو کو جاری کیا تھا، وہی ویڈیو اس کی عقل پر ماتم کررہی ہے۔
اس ویڈیو کے جاری کیے جانے کا وقت بھی پاکستانی اہلکاروں کی عقل پر سوال کھڑے کررہا ہے۔ واضح ہوکہ یہ ویڈیو اس وقت جاری کیا گیا ہے جبکہ پاکستان کی ایک ٹیم پٹھان کوٹ ہوائی اڈہ پر ہوئے دہشت گردانہ حملوں کی جانچ کے لیے ہندوستان میں ہے۔ ہندوستان نے جہاں پاکستان کو دہشت گردانہ حملوں کی جانچ میں بہ نفس نفیس شامل ہونے کی اجازت دے کر ایک اہم قدم اٹھایا ہے، اسی طرح پاکستان کی منتخبہ حکومت نے بھی مثبت جواب دیا ہے۔ لیکن اس سب کے درمیان پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی اپنا وہی پرانا اور گھناؤنا کھیل کھیلنے میں مصروف ہے ، جس میں خود اس کے اپنے ہاتھ بارہا گندے ہوتے رہے ہیں۔
لیکن پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے گندے کھیل سے حکومت ہند اور خاص طور سے یہاں کے جاسوسی شعبہ کی ذمہ داریاں ختم نہیں ہوجاتیں۔ انہیں اپنے اہلکاروں پر خصوصی طور سے نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ کل بھوشن یادو کی باتوں سے تو یہی لگتا ہے کہ وہ دوسروں کے ہاتھوں کھیل رہا ہے۔ انٹیلی جنس کے میدان میں اس طرح کا کھیل بہت پرانا ہے جب ایک ایجنسی دوسرے ایجنسی کے ایجنٹ کو اپنے لیے استعمال کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔انٹیلی جنس اور خاص طور سے ملک سے باہر خفیہ اطلاعات جمع کرنے کے کاموں میں مصروف ہندوستان کے کئی اہلکاروں نے پیٹھ میں خنجر گھونپنے کا کام کیاہے۔ اس میں سب سے معروف کیس ربندر سنگھ کا ہے۔ ایسے میں ظاہر ہے ہمیں اپنے گھر پر زیادہ نظر رکھنا ہوگی کیونکہ اپنے یہاں یہ مثل بہت مشہور ہے کہ ’گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے‘۔اتفاق سے پاکستان کے چند ایک اہلکار جو اپنے ملک سے محبت کی بجائے ہندوستان سے دشمنی کو اپنی زندگی کا نصب العین سمجھتے ہیں، وہ بھی کچھ اسی طرح کا کام کررہے ہیں۔ یہ ان کی عقل کا ثبوت ہے ، جس پر جتنا ماتم کیجیے ، کم ہے۔

(بشکریہ روزنامہ انقلاب، نئی دہلی)

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *