پٹھان کوٹ حملے کی جانچ کے لیے پاکستانی تفتیشی ٹیم پہنچی ہندوستان

کانگریس نے ٹیم میں آئی ایس آئی افسر کو شامل کرنے پر اٹھایا سوال

PM Modi does aerial survey of Pathankot Air Force base

نئی دہلی، ۲۸ مارچ (نامہ نگار): پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملے کی جانچ کرنے کے لیے پاکستان کی تفتیشی ٹیم، جے آئی ٹی آج ہندوستان پہنچ گئی۔ ابھی ان کی میٹنگ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کے ہیڈکوارٹر میں چل رہی ہے۔ پاکستانی تفتیشی ٹیم کل، یعنی ۲۹ مارچ کو پٹھان کوٹ کا دورہ کرے گی۔

ذرائع کے مطابق، پاکستان کی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) میں پنجاب کاؤنٹر ٹیررزم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اے آئی جی رائے طاہر بطور کنوینر، انٹیلی جنس بیورو لاہور کے ڈپٹی ڈائرکٹر جنرل عظیم ارشد، آئی ایس آئی کے لیفٹیننٹ کرنل تنویر احمد، پاکستان کی ملٹری انٹیلی جنس کے لیفٹیننٹ کرنل عرفان مرزا اور گجرانوالا سی ٹی ڈی کے تفتیشی افسر شاہد تنویر شامل ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ پاکستانی دہشت گردوں نے اس سال کے شروع میں، ۲ جنوری کو پنجاب کے پٹھان کوٹ ایئر فورس اسٹیشن پر حملہ کرکے دو جوانوں کو شہید کر دیا تھا۔ اس حملے میں سبھی چاروں دہشت گرد بھی مارے گئے تھے۔

دریں اثنا، کانگریس پارٹی نے پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملے کی جانچ کے لیے پاکستانی سے آنے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) میں وہاں کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے رکن کو شامل کیے جانے پر سوال اٹھایا ہے۔ کانگریس ترجمان رندیپ سُرجے والا نے یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’’پاکستان نے جے آئی ٹی ٹیم کے دورہ سے متعلق لیٹر روگیٹری مہیا نہیں کرایا ہے، اس کے بغیر پرازِکیوشن کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ ہر کسی کو حیرانی ہے کہ آخر یہ ساری تفتیش کس لیے ہے۔ پاکستان کی بدنامِ زمانہ آئی ایس آئی کا ایک افسر جے آئی ٹی کا حصہ کیوں ہے؟ خطرناک دہشت گرد تنظیم جیش محمد، اس کا سربراہ مولانا مسعود اظہر، اس کا بھائی عبدالرؤف، جو پٹھان کوٹ حملہ کے آقاؤں میں سے ایک تھا، ان سب کے رول کی جانکاری سب کو ہے اور سبھی اسے تسلیم کرتے ہیں۔ باوجود اس کے، پاکستانی حکومت نے آج تک نہ تو جیش محمد پر پابندی لگائی ہے، نہ مولانا مسعود اظہر یا اس کے بھائی یا پھر دوسرے ہینڈلر کاشف جان کو ہی گرفتار کیا ہے۔‘‘

سرجے والا نے مزید کہا کہ ’’انھیں (پاکستان جے آئی ٹی کو) بے روک ٹوک رسائی فراہم کرائی جا رہی ہے اور ہندوستانی حکومت کے ذریعہ ریڈ کارپیٹ پر ان کا استقبال کیا جا رہا ہے۔ یہ عدالتی نظام اور قومی سلامتی کو لے کر سنگین سوال کھڑا کرتی ہے۔‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *