عوامی مسائل کے حل میں حصہ داری !

Asif Iqbalمحمد آصف ا قبال

یہ عجب اتفاق ہے کہ ایک جانب ملک کی نو ریاستوں میں سوکھا پڑا ہے اور کسان حد درجہ متاثر ہے تو وہیں پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کا عمل جار ی ہے۔ عجب اتفاق ہم نے اس لیے کہا کہ انتخابی موسم ہی تو دراصل وعدوں اور جملوں کا موسم بہار ہوتا ہے۔ لیکن توجہ طلب پہلو یہ ہے کہ وہ کون سی بات ہے کہ جس کے نتیجہ میں پچھلے وعدے پورے نہ کرتے ہوئے بھی مزید وعدوں اور جملوں کے بیان کرنے میں دقت نہیں ہوتی بلکہ حوصلہ بھی ملتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ دور جمہوریت اور جمہوری نظام کا دور کہلاتا ہے۔ جہاں عوام اپنی پسند کے نمائندے منتخب کرنے کے مجاز ہوتے ہیں۔ اوریہی وہ نکتہ ہے کہ چونکہ عوام اپنی پسند کا نمائندہ خود منتخب کررہے ہیں، لہذا ان کی پسند کے سابقہ و موجودہ نمائندے بتاتے ہیں کہ اگر وہ ان کو منتخب کر لیں گے تو وہ کیا کچھ ان کے لیے کریں گے، جنہوں نے انہیں منتخب کیا۔ پھر یہی وجہ انتخاب انہیں یہ حوصلہ اور جرات بھی بخشتی ہے کہ وہ مزید وعدے اور جملے عوام کے درمیان عوامی جلسوں میں اداکریں۔ جمہوری نظام میں ہم سب اس بات سے بھی بخوبی واقف ہیں کہ جہاں سیاسی لیڈران وعدے کرنے اور جملے بازی سے نہیں ہچکچاتے وہیں عوام بھی اس ماحول کے عادی ہو چکے ہیں۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ وہ بھی سیاسی جلسوں کو سیاسی جملے بازی سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ اور وہ یہ یقین بھی کر چکے ہیں کہ ان جلسوں میں کیے گئے وعدے حقیقتاً پورے نہیں ہونے ہیں۔ اس سب کے باوجود چونکہ سیاست سے ہمارا راست یا بلاواسطہ تعلق استوار ہوتا ہے لہذا خوشی کے ساتھ یا اظہار ناپسندیدگی کے، ہمیں بھی اس مرحلے سے گذرنا پڑتا ہے۔ دوسری جانب ووٹ حاصل کرنا اور ووٹوں کی گنتی جس میں کوئی کسی سے آگے تو کسی سے پیچھے ہوتا ہے، کی بنیادیں بھی وہ نہیں ہیں جو بظاہر نظر آتی ہیں۔ یہ پوری تصویر جو پیش کی گئی ہے جہاں ایک جانب دلچسپ ہے تو وہیں حد درجہ تشویشناک بھی ہے۔ اور ہماری تشویش بھی بس یہی ہے کہ عوام کے پیش نظر ووٹ دینے اور نہ دینے، حکومت کے انتخاب اور ردّ کے جو پیمانہ قائم ہوتے جا رہے ہیں، مستقبل قریب میں وہ مزید سنگین شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ لہذا وہ افراد اور گروہ جو خود کوموجودہ سیاست سے الگ رکھنا چاہتے ہیں اور جن کے پیش نظر ایک صاف ستھری زندگی کے معنی، اس میدان غلاظت سے دوری اختیار کرنے کے سوا اور کچھ نہیں، ان کی یہ فکر و نظریہ کم از کم موجودہ دور میں صحیح قرار نہیں دی جا سکتی۔ حالات کے پیش نظر صاف ستھری زندگی گذارنے والوں کو چاہیے کہ وہ ایک بار پھر اپنی فکر اور نظریہ پر نظر ثانی فرمائیں۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ ہر شخص سیاسی جماعت سے وابستہ ہو یہ لازم نہیں ہے۔ اس کے باوجود ہر شخص سیاسی میدان میں جاری کھیل سے کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی مرحلہ میں متاثر وملوث ہے اور جبکہ وہ متاثر بھی ہیں اورملوث بھی توکیونکر مسائل کے انبار سے وہ خود کو الگ کرپائیں گے؟ یہ کیسے مانا جاسکتا ہے کہ مسائل جن میں ہر صبح اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے، مسائل کے اضافہ میں، آپ، آپ کا کردار،اعمال اور افکار و نظریات شامل نہیں ہیں؟ ساتھ ہی یہ بات بھی خوب اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ شراکت داری متحرک رہ کر ہی نہیں جمود کی حالت میں زیادہ ہوا کرتی ہے۔

دوسری جانب گذشتہ دنوں ہندوستان میں امام کعبہ کی آمد جو گرچہ ویزا نہ ملنے کی وجہ سے منتظمین کے لیے باعث تشویش تھی، آخر کار حکومت نے ویزا فراہم کیا اور حرم شریف کے امام ہندوستان تشریف لائے۔ ان کی آمد ہندوستانی مسلمانوں کے لیے باعث خوشی ہے۔ اور جس تپاک سے ہندوستانی مسلمانوں نے ساتھ ہی مختلف مسالک کے علماء کرام نے ان کا استقبال کیا ہے وہ خود قابل دید ہے۔ امام حرم سے محبت، ان کی عزت اوران کا تقدس امت مسلمہ میں اگر پایا جاتا ہے توغالباً اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ بذات شخص مقدس ہیں بلکہ یہ تمام دلچسپیاں اور محبتیں جو چھلکتی ہیں تو صرف اس بنا پر کہ وہ اُس مقدس مقام سے وابستہ ہیں جسے اللہ اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی دیگر عبادت گاہوں میں اعلیٰ ترین مرتبہ عطا کیا ہے۔ پھر اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے مقام حرم کو پرامن حرم بنایا ہے، ایک ایسا پرامن جائے قیام جہاں ہر طرح کے ثمرات کھنچے چلے آتے ہیں۔یہی بات قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے: “یا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے ایک پر امن حرم کو ان کے لیے جائے قیام بنا دیا جس کی طرف ہر طرح کے ثمرات کھنچے چلے آتے ہیں، ہماری طرف سے رزق کے طور پر؟ مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ اور کتنی ہی ایسی بستیاں ہم تباہ کر چکے ہیں جن کے لوگ اپنی معیشت پر اِترا گئے تھے۔ سو دیکھ لو، وہ ان کے مسکن پڑے ہوئے ہیں جن میں ان کے بعد کم ہی کوئی بسا ہے، آخر کار ہم ہی وارث ہو کر رہے۔‘‘ (القصص:۵۸-۵۷) لہذا اہل حرم، خادم حرمین و شریفین اور ائمہ حرمین، جو بارہا حکومت کی جانب سے طے شدہ مقاصد کے تحت مختلف ملکوں کا دورہ کرتے ہیں، ان تمام کو اس آیت کی روشنی میں نہ صرف اپنی حقیقی حیثیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے بلکہ چاہیے کہ وہ، ان تمام قوت باطلہ کا آلۂ کار بننے سے بھی گریز کریں، جن کے شر سے آج پوری دنیا میں فساد برپا ہے۔ اور اگر ایسا نہیں ہوا، تو پھر یاد رکھنا چاہیے کہ حدود حرم اور مسجد حرام میں نماز کی ادائیگی کی جو اہمیت ہے وہ حدودِ حرم اور مسجد سے باہر نہیں ہے۔ ٹھیک اسی طرح جو محبت اور عزت امت مسلمہ سے آج انہیں حاصل ہے، اگر انہوں اپنی حیثیت کے برخلاف عمل کیا یا انہوں نے قوت باطلہ کا آلۂ کار بننا ہی پسند کیا، تو مجموعی طور پر امت مسلمہ بھی مجبور ہوگی کہ انہیں ان کی اصل حیثیت سے واقف کرا دیا جائے۔ اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:”شد رحال (بغرض ثواب رخت سفر باندھنا) صرف تین مسجدوں ہی کی طرف کیا جائے۔ مسجد حرام، میری یہ مسجد (یعنی مسجد نبوی) اور مسجد اقصیٰ (بیت المقدس)”(صحیح بخاری)۔ اور یہ سب جانتے ہیں کہ اگر کوئی شخص مسجد شعب یا مسجد جمیزہ کی طرف ’شد رحال ‘کر کے جائے گا تو ہم کہیں گے کہ یہ جائز نہیں ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ شد رحال صرف تین مسجدوں ہی کی طرف کیا جائے۔ اگر حرم کی ہر مسجد کی طرف شد رحال جائز ہوتا تو پھر دسیوں بلکہ سیکڑوں مسجدوں کی طرف شد رحال جائز ہوتا۔ پس یہ حدیث کافی ہے امت مسلمہ کے لیے اور ائمہ ولیڈران امت کے لیے بھی کہ وہ اپنی حیثیت اور حدودِ شرعی کا پاس و لحاظ رکھیں۔

آخری بات جو قابل تذکرہ اورقابل تعریف ہے، وہ بہار حکومت کا شراب نوشی پر مکمل پابندی کا اعلان اور پہلے مرحلہ میں مکمل عمل درآمد ہے۔ اس کے باوجود ام الخبائث سے پاک ریاست کا تصور تب ہی ممکن ہے جبکہ ریاست کے شہری بھی حکومت کے فیصلہ کوتعاون فراہم کریں۔ واقعہ تو یہ ہے کہ اسلام نے شراب کو حرام قرار دیا ہے۔ ساتھ ہی ان تمام نشہ آور اشیاء کو بھی جو انسان کو خیر و فلاح سے نکال کر شروفساد میں مبتلا کرنے والی ہیں۔ اس کے باوجود حددرجہ افسوناک صورتحال یہ ہے کہ تمام ہی مقامات پر مسلمانوں کی نسل نوخیز اس نشہ کی بدترین لت میں مبتلا ہوتی جا رہی ہے۔ اور اگر عام شہریوں کی بات کی جائے تو ان کی اکثریت نہ اس کو برائی مانتی ہے، نہ اس کے سامنے حرام و حلال کا مسئلہ ہے اور نہ ہی معاشرتی سطح پر اس کا بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔ برخلاف اس کے ان کے یہاں شراب عام مشروب کی طرح استعمال کی جاتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ صحت کے نقطۂ نظرسے اور خاندنی مسائل میں وہ اس کو مضر سمجھتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ قوتِ اقتدار ہی ہے جوہر قسم کے فیصلے لینے میں رکاوٹ نہیں بنتی۔ اور اگر فیصلہ جو لیا گیا ہے وہ عوام کے لیے بھی سود مند ہو تو پھر عوام بھی بھرپور انداز میں تعاون دیتے ہیں۔ اس صورت میں ملک کی راجدھانی دہلی پر نظر ڈالی جائے تو یہاں بھی شراب پر پابندی نہیں ہے۔دہلی ملک کی راجدھانی ہے، اس لحاظ سے اسے مثالی ہونا چاہیے تھا، لیکن آج تک کسی بھی حکومت نے اس جانب توجہ نہیں دی۔اس موقع پر میں اپیل کروں گا ان حضرات سے جو شراب کو حرام قرار دیتے ہیں،انہیں اس جانب پیش قدمی کرنی چاہیے۔ ساتھ ہی عام باشندگان دہلی کے تعاون سے حکومت کو متوجہ و مجبور کرنا چاہیے کہ وہ یہاں بھی شراب پر مکمل پابندی عائد کریں۔ ممکن ہے عوامی رجحان اور منظم و منصوبہ بند طویل مدتی سعی و جہد کے نتیجہ میں یہاں بھی حکومت فیصلہ لینے پر مجبور ہو جائے۔ اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ عمل ہر لحاظ سے نہ صرف قابل تعریف بلکہ منکر کے ازالہ اور معروف کے قیام میں داخل ہوجائے گا۔ پھر یہ اور ان جیسے دیگر اعمال شہادت دیں گے کہ واقعی ہمیں نہ صرف عوام الناس بلکہ ان کے مسائل سے بھی حقیقی دلچسپی ہے!

maiqbaldelhi@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *