پٹھان کوٹ حملے سے جڑے کئی سوالات جواب طلب ہیں

RR Tiwariراجیو رنجن تیواری
پٹھان کوٹ حملے کی سرخیاں ہر کسی کو سوچنے پر مجبور کر رہی ہیں کہ آخر اچانک کیا ہوا کہ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کی نرمی اور پاکستان کے دورے کے فورا بعد اتنی بڑی واردات ہوگئی. سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ اس حملے کو وزیر اعظم کے پاکستان دورے سے جوڑنا کتنا درست ہے. تاہم روایت کے مطابق اپوزیشن پارٹیاں تو مرکزی حکومت اور وزیر اعظم کو کٹہرے میں کھڑا کر رہی ہیں، جس کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے. اس سب کے باوجود غور کرنے والی بات یہ ہے کہ جس دن مودی نے لاہور جا کر نواز شریف سے ملاقات کی، اسی دن سے وہاں کے شدت پسندوں کے کان کھڑے ہو گئے. حافظ سعید نے تو کھلے عام بھارت اور پاکستان دونوں کے خلاف آگ اگلی تھی. اس لیے سرے سے یہ مسترد کردینا بھی ٹھیک نہیں ہے کہ اس واقعہ کو وزیر اعظم کے پاکستان دورے سے جوڑا نہیں جا سکتا.
قابل ذکر ہے کہ جس طرح بھارت میں مختلف ذات و مذہب کے بے لگام انتہا پسند کسی کی بات نہیں سنتے، ٹھیک اسی طرح پاکستان میں شدت پسندوں کے سامنے حکومت کو ہمیشہ ہی جھکنا پڑتا ہے. ظاہر ہے مودی – شریف ملن کو وہاں کے شدت پسند ہضم نہیں کر پا رہے ہیں اور پٹھان کوٹ جیسے واقعات کو انجام دینے پر تلے ہوئے ہیں. اس لیے فطری بات ہے کہ پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ پاکستان دورے پر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں. اسی مسترد نہیں کیا جا سکتا. حملے کے بعد كانگریسيوں نے تو احتجاجی مظاہرے بھی کیے. پاکستان کے خلاف جم کر نعرے بازی کی اور مودی-نواز کے پتلے پھونکے. دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ پاکستان سے روس کے شہر اوفا میں بات چیت اور مودی کے لاہور دورے کے بعد بھارت کو یہ صلہ ملا ہے. کانگریسی لیڈر اشونی کمار نے کہا کہ وزیر اعظم نے پاکستان جا کر دوستی کا ہاتھ بڑھایا، لیکن ہمیں بدلے میں یہ ملا ہے. حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی سفارتکاری اور خارجہ پالیسی پر دوبارہ غور کرے. دریں اثنا، پاکستان نے بھی دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی ہے. اس بارے پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے. اس سب کے باوجود اس حملے پر بھارت میں سخت رد عمل ہو رہا ہے اور پاکستان کے کردار پر سوال اٹھ رہے ہیں.
یاد رہے کہ پنجاب کے پٹھان کوٹ میں واقع ہندوستانی فضائیہ کے اڈے پر دہشت گردانہ حملے میں سکیورٹی فورسز نے سبھی چھ دہشت گردوں کو ڈھیر کر دیا. گھنٹوں کی مشقت کے بعد ملی اس کامیابی پر وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اور وزیر اعظم نریندر مودی نے سکیورٹی فورسیز کو مبارکباد دی. ہلاک دہشت گردوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان سبھی کا جیش محمد سے تعلق تھا. جیش محمد پاکستان کی خطرناک شدت پسند تنظیم ہے. دوجنوری کی صبح ہوئے اس حملے میں فضائیہ کے ایک کمانڈو سمیت سات جوان شہید ہوئے. دہشت گردوں سے تصادم میں ۲۰ افراد زخمی بھی ہوئے. اس کے فورا بعد فضائیہ کے اس اڈے کو فوج اور نیم فوجی دستے نے سیل کر دیا تاکہ اگر کوئی دہشت گرد چھپنے میں کامیاب رہا ہو تو وہ فرار نہ ہو سکے. دہشت گردانہ حملے کے پیش نظر دہلی سمیت ملک کے تمام بڑے شہروں اور حساس علاقوں میں ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے. اس سے پہلے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال سمیت تینوں فوج کے سربراہان نے وزیر دفاع منوہر پاریکر کو کارروائی کے بارے میں بریف کیا. وہیں وزیر دفاع نے وزیراعظم سے پالم ہوائی اڈہ پرملاقات کی اور تازہ صورتحال سے واقف کرایا.
انٹیلی جنس ایجنسیوں کو پٹھان کوٹ حملے کے دہشت گردوں کے فون کالز کی تفصیلات مل گئی ہیں. اس کے تحت رات ڈیڑھ سے پونے دو بجے کے درمیان دہشت گردوں نے پاکستان میں چار فون کالز کیے تھے. ذرائع کے مطابق، دہشت گرد ۳۰ دسمبر کو گرداس پور سے متصل سرحد سے بھارت میں گھسے تھے. بتایا جاتا ہے کہ دہشت گردوں کو بہاولپور میں ٹریننگ ملی اور ان کے ہینڈلر کا نام محمد اشفاق اور حاجی عبداللہ ہے. سبھی چھ دہشت گردوں کو فضائیہ کے طیارے کو اڑانے کا ٹاسک دیا گیا تھا. اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ دہشت گرد دو گروپوں میں تقسیم ہو کر حملے کے لیے نکلے ہیں. اس لیے مختلف علاقوں میں تلاشی مہم چلائی گئی.
پتہ نہیں کیوں اتنا سب ہونے کے باوجود پاکستان کے ساتھ نرمی دکھا کر حکومت کیا پیغام دینا چاہتی ہے. وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پاکستان کے ساتھ نرمی دکھاتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارا پڑوسی ملک ہے. ہم صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ تمام پڑوسی ملکوں کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں. اتنا ہی نہیں حملے کے بعد مرکزی حکومت کے سینئر وزیر پاکستان کے خلاف بولنے میں احتیاط برتتے نظرآئے. مودی کے حالیہ لاہور سفر اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی پہل اس کی وجہ مانی جا رہی ہے. سکیورٹی فورسز نے ‘جیش محمد’ لکھا ہوا کاغذ کا ایک ٹکڑا دہشت گردوں کی کار سے برآمد کیا ہے. گرداس پور سے اغوا کار کے ڈرائیور کو دہشت گردوں نے صبح میں گولی مار دی تھی. پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملے کی جانچ این آئی اے کے حوالے کر دی گئی ہے. وزارت داخلہ، آرمی سے منسلک ٹھکانے اور تمام اہم مقامات پر سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے.
غور طلب ہے کہ نئے سال کی آمد پر یکم جنوری کو ہی قومی سلامتی کے مشیراجیت ڈووال نے فضائیہ، فوج اور این ایس جی کو دہشت گردانہ حملوں کی بابت الرٹ کیا تھا. کانگریس نے مودی حکومت کی پاکستان پالیسی پر سوال اٹھایا اور ساتھ ہی وزیر اعظم کو پڑوسی ملکوں سے مضبوطی کے ساتھ معاملہ کرنے کے ان کے وعدے کی یاد دلائی.

کانگریس کی طرف سے کہا گیا کہ یہ واقعی شدید تشویش کی بات ہے کہ وزیر اعظم کے لاہور دورہ اور نواز شریف سے ملاقات کے سات دن کے بعد پاکستان سے ایک دہشت گرد گروپ پنجاب میں ہمارے ہراول سیکورٹی ٹھکانوں پرحملے کرتا ہے. اس سے دو چیزیں بہت واضح ہیں. پہلی بات یہ کہ وزیر اعظم کے پاکستان جانے کے باوجود آئی ایس آئی ہندوستان کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئی ہے اور دہشت گردوں کی مدد کر رہی ہے. اس کے علاوہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں جو بھارت مخالف سرگرمیوں کے لیے دہشت گرد کیمپ چلائے جا رہے ہیں، انہیں پاکستان کے مقتدرہ اداروں کی حمایت جاری ہے. یہ بات بھی اہم ہے کہ گذشتہ ۲۰ سال تک پرامن رہنے کے بعد پنجاب میں اچانک ایسی سرگرمیاں نظر آرہی ہیں.

اس میں کوئی شک نہیں کہ پٹھان کوٹ میں واقع فضائیہ کے اڈہ پر گھسے دہشت گردوں کو جوانوں نے مار گرایا، لیکن اس حملے نے ملک کی سلامتی تیاریوں کی قلعی کھول دی ہے. خاص طور پر تب، جبکہ حملے کے بارے میں انٹلی جنس الرٹ ہو، دفاع کی تیاریاں بھی کی جائیں، اس کے باوجود حملہ ہو جائے. اس حملے کے بارے میں دہشت گرد پلاٹ کے بارے میں سیکورٹی عملے کو مکمل معلومات تھی. انٹلی جنس ریکارڈنگ سے پتہ چل چکا تھا کہ دہشت گرد گھس چکے ہیں اور اسی علاقے میں حملہ کرنے والے ہیں. اسی فضائیہ اڈہ میں فوج کے اسپیشل فورسز کے دو دستے تعینات کیے گئے. اس کے علاوہ فضائیہ کے گروڑ کمانڈو الگ موجود تھے. اس کے باوجود دہشت گرد نہ صرف سیکورٹی کا پہلا گھیرا توڑنے میں کامیاب رہے بلکہ انہوں نے تین جوانوں کو شہید بھی کر دیا. تاہم وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے اس کو بھول ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر دہشت گرد آگے بڑھ جاتے تو انتہائی نقصان ہوتا. غور طلب ہے کہ سیکورٹی ایجنسیوں کے کان تبھی کھڑے ہو گئے تھے، جب دہشت گردوں نے گرداس پور ضلع کے ایس پی کو اغوا کیا تھا. انہوں نے ایس پی کو چھوڑ دیا اور ڈرائیور کو مار کر کار لے کر بھاگ کھڑے ہوئے. یہ پہلا موقع نہیں ہے جب حفاظتی انتظامات میں چوک ہوئی ہو. تمام تیاری، اخراجات اور دعووں کے باوجود گذشتہ چھ ماہ میں یہ تیسرا بڑا دہشت گردانہ حملہ ہے. چوک بی ایس ایف کی بھی ہے اور ریاستی پولیس کی بھی. پنجاب کے وزیر اعلی پرکاش سنگھ بادل کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کو روکنے کی ذمہ داری ریاست کی نہیں ہے. ہم الرٹ تھے، اسی لیے نقصان کم ہوا. ادھر، شیو سینا لیڈر سنجے راوت نے کہا کہ یہ حملہ بغیر کسی سابق پروگرام کے وزیر اعظم کے لاہور میں رکنے کے بعد ہوا ہے. انہوں نے کہا کہ ہم سیاست نہیں کرنا چاہتے لیکن یہ حقیقت ہے کہ امن مذاکرات اور دہشت گردانہ حملے ساتھ ساتھ ہو رہے ہیں. بہر حال، اس حملے کو مودی کے لاہور دورہ سے جوڑا جائے یا نہیں، یہ بڑا سوال ہے. لیکن حالات تو اچھے اشارہ نہیں دے رہے ہیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *