پطرس بخاری کی مزاح نگاری کا جائزہ

(مضامین پطرس کے حوالہ سے )
محمد خوشتر
IMG-20151102-WA0009
حضرت انسان ہنسنے ہنسانے والا ایک ظریف جانور ہے ۔ مزاح کے لیے انسانوں نے طرح طرح کے قصے، لطیفے ، چٹکلے اور مزاحیہ و طنزیہ موضوع پر مشتمل مضامین لکھے تاکہ ایک خوشگوار ماحول پیدا ہو۔ ہنسی اور طنز و ظرافت کا مقصود لطف اندوز ہونے کے ساتھ ہی معلومات میں اضافہ، نقصاندہ چیزوں سے احتراز اور فائدہ مند اشیاء سے استفادہ کرنا ہے۔ مزاحیہ لکھنے والوں میں کئی قد آور شخصیتیں گذری ہیں، انہیں میں سے ایک مشہور و معروف طنز و مزاح نگار سید احمد شاہ المعروف پطرس بخاری کی ذات ہے جو کہ طنز و مزاح کی دنیا میں اپنی ایک انفرادی شان کے ساتھ پہچانے جاتے ہیں۔ پطرس بخاری نے طنز و ظرافت میں کم لکھا، مگرجو لکھا بہت لکھااور جامع ، منظم ، مربوط و بیحد انتخاب شدہ لکھا۔ ’’مضامین پطرس ‘‘کے نام سے شائع ان کی مزاحیہ تخلیقات کا جائزہ لینے سے پیشتر بہتر ہے کہ طنز و مزاح کو سمجھا جائے۔
مزاح کسی خامی، کسی بدصورتی، کسی بے تکے پن پر خوش دلی سے ہنسنے کا نام ہے ۔ اس میں غم، غصہ، تلخی کا گذر نہیں۔
طنزنگاری: کسی بدی کو اور زیادہ برابناکر اس طرح پیش کرنا کہ لوگ اس بدی سے نفرت کرنے لگیں اور اسے مٹانے کے درپے ہوجائیں۔ اس لئے یہاں بہت شدت ہوتی ہے۔ (اردو نثر کا تنقیدی مطالعہ،ص۲۳۵)
احمد شاہ پطرس بخاری کے مضامین کتابی شکل میں منظر عام پر آکر قبولیت عوام و خواص کی سند پاچکے ہیں۔ یہ کتاب طنز و مزاح میں ایک نئے باب کا اضافہ کرتی ہے اور اپنی اہمیت و افادیت تسلیم کراتی ہے۔’’ مضامین پطرس‘‘ نامی اس کتاب میں کل گیارہ مضامین ہیں جوان کی طنز و مزاح میں انفرادیت کی عکاس اور بین ثبوت ہیں۔ اس کتاب میں سب سے پہلے انہوں نے اظہار عقیدت کے طورپر اپنے محسن و مربی استاد محترم پروفیسر مرزا سعید احمد صاحب کا شکریہ ادا کیا ہے۔ پھردیباچہ کی ابتدایوں ہوتی ہے:’’ اگریہ کتاب آپ کو کسی نے مفت بھیجی ہے تو مجھ پر احسان کیا ہے۔ اگر آپ نے کہیں سے چرائی ہے تو میں آپ کے ذوق کی داد دیتا ہوں۔ اپنے پیسوں سے خریدی ہے تو مجھے آپ سے ہمدردی ہے۔ اب بہتر یہی ہے کہ آپ اس کتاب کو اچھا سمجھ کر اپنی حماقت کو حق بجانب ثابت کریں‘‘۔ دیباچہ اپنی اور کتاب کی اہمیت کو واضح کررہاہے۔ پطرس بخاری کے عنوان سے ذیلی ہیڈنگ ’’کیا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور‘‘ مشہور مزاح نگار رشید احمد صدیقی نے تحریر کیا ہے۔ اس کا دوجملہ دیکھیں ’’ظرافت نگاری میں پطرس کا ہمسران کے ہم عصروں میں کوئی نہیں۔ بخاری کی ظرافت نگاری کی مثال داغ کی غزلوں اور مرزا شوق کی مثنویوں سے دے سکتے ہیں‘‘۔ ان دو جملوں سے طنز و مزاح میں ان کا مقام و مرتبہ متعین کرنا کوئی دشوار کام نہیں۔ کتاب کے پہلے مضمون ’’ہاسٹل میں پڑھنا‘‘(ہم طلباء بھی ہاسٹل میں مقیم ہیں) کے تحت ایک جگہ یوں لکھتے ہیں کہ ’’تھرڈ ڈیویژن میں پاس ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی نے ہم کو وظیفہ دینا مناسب نہ سمجھا۔ چونکہ ہمارے خاندان نے خدا کے فضل سے آج تک کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلا یا اس لیے وظیفے کانہ ملنا بھی خصوصاً ان رشتے داروں کے لیے جو رشتے کے لحاظ سے خاندان کے مضافات میں بستے تھے ،فخرومباہات کا باعث بن گیا اور مرکزی رشتہ داروں نے تو اس کو پاس وضع اور حفظ مراتب سمجھ کر ممتحنوں کی شرافت و نجابت کو بے انتہاء سراہا۔ بہرحال ہمارے خاندان میں فالتوروپے کی بہتات تھی، اس لیے بلاتکلف یہ فیصلہ کرلیاگیا کہ نہ صرف ہماری بلکہ ملک و قوم اور شاید بنی نوع انسان کی بہتری کے لیے یہ ضروری ہے کہ ایسے ہونہار طالب علم کی تعلیم جاری رکھی جائے۔‘‘ اسی موضوع کے تحت ایک جگہ یوں تحریر کرتے ہیں : ’’جس میں لکھنے کو جگہ تو ضرور دی گئی لیکن ایک مناسب حد تک تاکہ طبیعت پر کوئی ناجائز بوجھ نہ پڑے اور فطرت اپناکام حسن و خوبی کے ساتھ کر سکے ۔‘‘ ایک مقام پر ہیڈماسٹر کی زبانی یوں ادا کراتے ہیں۔ ’’گھرپاکیزگی اور طہارت کا ایک کعبہ اور ہاسٹل گناہ و معصیت کا ایک دوزخ ہے۔ مزید یوں کہ کالج کا ہاسٹل جرائم پیشہ اقوام کی ایک بستی ہے اور جو طلبہ باہر کے شہروں سے ہاسٹل آتے ہیں اگر ان کی پوری نگہداشت نہ کی جائے تو وہ اکثر یاتوشراب کے نشے میں چورسڑک کے کنارے کسی نالی میں گرے ہوئے پائے جاتے ہیں یا کسی جوئے خانے میں ہزارہاروپے ہار کر خودکشی کرلیتے ہیںیا پھر فرسٹ ایئر کا امتحان پاس کرنے سے پہلے دس بارہ شادیاں کربیٹھتے ہیں‘‘۔ اخیر پیراگراف میں ہاسٹل کے متعلق واحد متکلم کا استعمال کس پیرایہ میں ہوا دیکھتے چلیں : ’’تعلیمی زندگی کا ایک وسیع تجربہ اپنے ساتھ لیے ہاسٹل میں آرہے ہیں جس سے ہم طلبہ کئی نئی پود کو مفت مستفیدفرمائیں گے، اپنے ذہن میں ہم نے ہاسٹل میں اپنی حیثیت ایک مادر مہربان کی سی سوچ لی جس کے اردگرد ناتجربہ کار طلبہ مرغی کے بچوں کی طرح بھاگتے پھریں گے۔ سپر نٹنڈنٹ صاحب کو جو کسی زمانے میں ہمارے ہم جماعت رہ چکے تھے لکھ بھیجا کہ جب ہم ہاسٹل میں آئیں گے تو فلاں فلاں مراعات کی توقع آپ سے رکھیں گے ،اور فلاں فلاں قواعد سے اپنے آپ کو مستثنیٰ سمجھیں گے۔ اور یہ سب کر چکنے کے بعد ہماری بدنصیبی دیکھیے کہ جب نتیجہ نکلا تو ہم پاس ہوگئے۔ ہم پہ تو جو ظلم ہوا سو ہوا۔ یونیورسٹی والوں کی حماقت ملاحظہ فرمائیں کہ ہمیں پاس کر کے اپنی آمدنی کا ایک مستقل ذریعہ ہاتھ سے گنوابیٹھے۔‘‘
پطرس بخاری کا دوسرا مضمون ’’سویرے جو کل آنکھ میری کھلی‘‘ اس میں نوم و بیداری کی کیفیت کو قارئین کی خدمت میں ایک مزاحیہ مکالمہ کی صورت میں پیش کیا ہے۔ ایک جگہ تحریر ہے: ’’لالہ جی صبح کے وقت دماغ کیا صاف ہوتا ہے ،جو پڑھو خدا کی قسم یاد ہوجاتا ہے۔ بھئی خدانے بھی صبح کیاعجیب چیز پیدا کی ہے۔ یعنی اگر صبح کے بجائے صبح صبح شام ہوا کرتی تو دن کیا بری طرح کٹا کرتے‘‘۔ لفظوں کے ہیر پھیر سے ایسا سماں باندھا کہ قاری پڑھتے پڑھتے ہنسنے اور ہنستے ہنستے غورو فکر اور سوچ میں غرق ہوجاتا ہے یہ آپ کے فن کی عظمت کی دلیل ہے۔
مضامین پطرس کاتیسرا مضمون ہے ’کتے‘۔ اس کا پہلا جملہ ہی طنز و مزاح سے پر ہے، آپ بھی دیکھیں: ’’علم الحیوانات کے پروفیسروں سے پوچھا، سلوتریوں سے دریافت کیا ، خودسرکھپاتے رہے لیکن کبھی سمجھ میں نہ آیا کہ کتوں کا فائدہ کیا ہے ‘‘؟ آگے کتے کی عادت متوارثہ جوکہ بھونکنے سے متصف ہے ، اس کا خلاصہ کس طرح اور کس انداز سے کیا،دیکھیں،یہ ہنسنے میں مدد کرے گا: ’’اب جناب وفاداری اگر اسی کا نام ہے کہ شام کے سات بجے سے جو بھونکنا شروع کیا تو لگاتار بغیر دم لیے صبح کے چھ بجے تک بھونکتے چلے گئے۔ ‘‘کتے کے بھونکنے کی مثال ان کی اس روایت میں دیکھیں : ’’رات کے گیارہ بجے ایک کتے کی طبیعت جو ذرا گدگدائی تو انہوں نے باہر سڑک پر آکر’’طرح‘‘ کا ایک مصرع دے دیا۔ ایک آدھ منٹ کے بعد سامنے کے بنگلے میں سے ایک کتے نے مطلع عرض کیا۔ اب جناب ایک کہنہ مشق استاد کو جو غصہ آیا ایک حلوائی کے چولہے میں سے باہر لپکے اور بھنا کے پوری غزل مقطع تک کہہ گئے۔ اس پر شمال مشرق کی طرف سے ایک قدرشناس کتے نے زوروں کی داددی۔ اب تو حضرت وہ مشاعرہ گرم ہوا کہ کچھ نہ پوچھیے۔ کمبخت بعض تو دو غزلے ، سہ غزلے لکھ لائے تھے۔ کئی ایک نے فی البدیہہ قصیدے کے قصیدے پڑھ ڈالے۔ وہ ہنگامہ گرم ہوا کہ ٹھنڈا ہونے میں نہ آتا تھا۔ ہم نے کھڑکی میں سے ہزاروں دفعہ ’’آرڈر آرڈر‘‘ پکارا لیکن ایسے موقعوں پر پردھان کی کوئی نہیں سنتا۔ انگریزی کی ایک مثل ہے کہ ’’بھونکتے ہوئے کتے کاٹا نہیں کرتے ‘‘ یہ سچاسہی لیکن کون جانتا ہے کہ ایک بھونکتا ہوا کتاکب بھونکنا بند کردے اور کانٹا شروع کردے؟
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے سگِ رہ بری ملا ہے
مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا
اسی طرح ممتاز مزاح نگار کا ایک مضمون بنام ’’اردو کی آخری کتاب‘‘ ہے۔ اس میں بخاری نے بہت ہی چھوٹے چھوٹے جملے میں بہت انمول طریقے سے مزاح سے پرباتیں انوکھے انداز سے کہی ہیں۔ ملاحظہ کریں : ’’ماں محبت بھری نگاہوں سے بچہ کے منہ کو تک رہی ہے اور پیار سے حسب ذیل باتیں پوچھ رہی ہے کہ:
(۱) وہ دن کب آئے گا جب تو میٹھی میٹھی باتیں کرے گا؟
(۲) بڑا کب ہوگا، مفصل لکھو؟
(۳) دولہا کب بنے گا اور دلہن کب بیاہ کرلائے گا؟اس میں شرمانے کی ضرورت نہیں۔
(۴) ہم بڈھے کب ہوں گے؟
(۵) تو کب کمائے گا؟
(۶)آپ کب کھاؤگے اور ہمیں کب کھلاؤگے؟ باقاعدہ ٹائم ٹیبل بنا کر واضح کرو۔
اسی مضمون میں ایک ذیلی ہیڈنگ’’دھوبی آج کپڑے دھورہا ہے ‘‘ کا آخری پیراگراف دلچسپی اور طنزو مزاح سے خالی نہیں۔لکھتے ہیں:’’میاں دھوبی! کتاکیوں پال رکھا ہے ؟ صاحب کہاوت کی وجہ سے اور پھر یہ تو ہمارا چوکیدار ہے۔ دیکھیے! امیروں کے کپڑے میدان میں پھیلے بڑے ہیں۔ کیا مجال کوئی پاس آجائے۔ جو لوگ ایک دفعہ کپڑے دے جائیں پھر واپس نہیں لے جاسکتے۔ میاں دھوبی ! تمہارا کام بہت اچھاہے۔ میل کچیل سے پاک صاف کرتے ہو۔ننگا پھراتے ہو۔‘‘
پانچواں مضمون کانام ہم آپ کے حوالہ کررہے ہیں وہ اس طرح ہے :’’میں ایک میاں ہوں‘‘۔اس مضمون میں شوہر و بیوی اور دوستوں کے حالات کو مزاحیہ اور پر تکلف انداز میں پیش کیا ہے۔ میاں بیوی کی باتیں، غصہ ،لن ترانی، طعن و تشنیع، اتارچڑھاؤ ،لڑائی جھگڑا، کیفیت ، احساسات ،کشمکش وشبہات کو پطرس نے کھلے انداز میں لکھ کر سبھی کو ہنسنے اور خط اندوزی کا موقع عنایت کیا ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں: ’’تین چار دن کا ذکر ہے کہ صبح کے وقت روشن آراء نے مجھ سے میکے جانے کی اجازت مانگی۔ جب سے ہماری شادی ہوئی ہے روشن آراء صرف دودفعہ میکے گئی ہے ، اور پھر اس نے کچھ اس سادگی اور عجز سے کہا کہ میں ان کار د نہ کر سکا۔ کہنے لگی ’’تو پھر میں ڈیڑھ بجے کی گاڑی سے چلی جاؤں‘‘ میں نے کہا: اور کیا ؟
وہ جھٹ تیاری میں مشغول ہوگئی اور میرے دماغ میں آزادی کے خیالات نے چکر لگانے شروع کیے،یعنی اب بے شک دوست آئیں، بے شک اودھم مچائیں۔ میں بے شک گاؤں ،بے شک جب چاہوں اٹھوں، بے شک تھیٹرجاؤں۔‘‘ مضمون کے آخری پیراگراف میں ا س طرح سے قلم کی جولانی دکھائی ہے: ’’صحن میں پہنچے ہی تھے کہ باہر کا دروازہ کھلا اور ایک برقعہ پوش خاتون اندر داخل ہوئی۔ منہ سے برقعہ الٹا تو روشن آراء۔ دم خشک ہوگیا۔ بدن پر ایک لرزہ سا طاری ہوگیا، زبان بند ہوگئی۔ سامنے وہ روشن آراء جس کو میں نے تاردے کر بلایا تھاکہ تم فوراً آجاؤ۔ میں بہت اداس ہوں، اور اپنی یہ حالت کہ منہ پر سیاہی ملی ہے ، سرپر وہ لمبوتری سی کاغذ کی ٹوپی پہن رکھی ہے اور پھر چلم ہاتھ میں اٹھائے کھڑے ہیں اور مردانے کمرے سے قہقہوں کاشوربرابر آرہا ہے۔ روح منجمد ہوگئی اور تمام حواس نے جواب دے دیا۔ روشن آراء کچھ دیر تو چپکی کھڑی دیکھتی رہی اور پھر کہنے لگی۔ بس میں کیا بتاؤں کہ کیا کہنے لگی؟ اس کی آواز تو میرے کانوں تک جیسے بے ہوشی کے عالم میں پہنچ رہی تھی۔
’’مرید پور کا پیر‘‘ یہ مضمون بھی نہایت ہی دلچسپ ہے ۔مرید پورگزٹ کے ایڈیٹر کا حلیہ اس طرح بیان کرتے ہیں:’’رنگ گندمی، گفتگو فلسفیانہ، شکل سے چور معلوم ہوتے ہیں۔ کسی صاحب کو ان کا پتا معلوم ہو تو مریدپور کی خلافت کمیٹی کو اطلاع پہنچادیں اور عنداللہ ماجور ہوں،نیز کوئی صاحب ان کو ہرگزہرگز کوئی چندہ نہ دیں ورنہ خلافت کمیٹی ذمہ دار نہ ہوگی۔ مصرع و جملۂ مشہور میں تحریف کرکے مزاح کا عمدہ پہلونکالا ہے۔ اسی مضمون میں تحریف ہے: ’’خاروطن از سبیل وریحان خوشتر۔۔۔ اور جملہ ’’اس طرح کی تین چار براہین قاطع، خار کن کی جگہ خاک اور قاطع کی جگہ جامع ہے ۔ مرید پور کا پیراس حقیقت پر روشنی ڈالتا ہے کہ تقریر کی صلاحیت یادداشتوں کی شکل میں جیب کے اندر نہیں دماغ کے اندر ہوتی ہے۔‘‘
’’انجام بخیر‘‘ میں پطرس نے مکالمہ کی صورت کو بحسن و خوبی انجام خیرکے ساتھ پیش کیا ہے ۔اس کا منظر جو کھینچا ہے اسے انہی کے لفظوں میں دیکھیں: ’’ایک تنگ و تاریک کمرہ جس میں بجز ایک پرانی سی میز اور ایک لرزہ براندام سی کرسی اور اس کے علاوہ کوئی فرنیچر نہیں۔ زمین پر ایک طرف چٹائی بچھی ہے جس پر بے شمار کتابوں کا انبارلگا ہے۔ اس انبار میں سے جہاں تک کتابوں کی پشتیں نظر آتی ہیں وہاں شیکسپئر، ٹالسٹائی، ورڈزورتھ وغیرہ مشاہیر ادب کے نام دکھائی دیتے ہیں۔ باہر کہیں پاس ہی کتے بھونک رہے ہیں۔ قریب ہی ایک برات اتری ہوئی ہے۔ بینڈ کی آواز بھی سنائی دے رہی ہے جس کے بجانے والے دق، دمہ ، کھانسی اور اسی قسم کے دیگر امراض میں مبتلا معلوم ہوتے ہیں۔ ڈھول بجانے والے کی صحت البتہ اچھی ہے۔
’’سنیما کا عشق‘‘ پڑھنے کے لائق ہے۔ ویسے تو ان کا ہر ایک مضمون اور ہر مضمون کا مواد پڑھنے ، سننے ، سمجھنے اور دل کو خوش رکھنے کے لیے یہ خیال اچھا ہے سے تعلق رکھتا ہے ۔خیر، یہ دیکھیں اورلطف حاصل کریں:’’اس کے بعد غصہ میں آنکھیں بند کر لیتا ہوں اور قتل عمد،خودکشی،زہر خورانی وغیرہ معاملات پر غور کرنے لگتا ہوں۔ دل میں کہتا ہوں ایسی کی تیسی اس فلم کی ، سوسوقسمیں کھاتا ہوں کہ پھر کبھی نہ آؤں گا اور اگر آیا بھی تو اس کمبخت مرزا سے ذکر تک نہ کروں گا۔پانچ چھ گھنٹے پہلے آجاؤں گا اوپر کے درجے میں سب سے اگلی قطار میں بیٹھوں گا۔ تمام وقت اپنی نشست پراچھلتا رہوں گا۔ بہت بڑے طرے والی پگڑی پہن کرآؤں گا۔اپنے اور کوٹ کو دو چھڑیوں پر پھیلا کر لٹکا دوں گا ،بہرحال مرزا کے پاس تک نہ پھٹکوں گا۔ لیکن اس کمبخت دل کو کیا کروں؟ اگلے ہفتے پھر کسی اچھی فلم کا اشتہار دیکھتا ہوں تو سب سے پہلے مرزا کے ہاں جاتاہوں اور گفتگو پھر وہیں سے شروع ہوتی ہے کہ کیوں بھئی مرزا ! اگلی جمعرات سنیما چلوگے نا؟
اس مضمون میں لفظوں کا انتخاب اور واقعات کا تانابانا بن کر کس طرح سے مزاح پیدا کیا ہے اور ہلکی سی طنز آمیزی سے بھی کام لیا ہے۔ مضمون ’’میں اور میل‘‘ یہ سین دیکھیں اور حظ حاصل کریں: ’’جب میں اس کے لیے دروازہ کھولتا ہوں یا اس کے سگریٹ کے لیے دیا سلائی جلاتا یا اپنی سب سے زیادہ آرام دہ کرسی اس کے لیے خالی کردیتا تو وہ میری خدمات کو حق نسوانیت نہیں بلکہ حق استادی سمجھ کر قبول کرتی۔ میل کے چلے جانے کے بعد ندامت بتدریج غصے میں تبدیل ہوجاتی۔ جان یا مال کا ایثار سہل ہے لیکن آن کی خاطر نیک سے نیک انسان بھی ایک نہ ایک دفعہ تو ضرورناجائز ذرائع کے استعمال پر اتر آتا ہے۔‘‘
مرحوم پطرس کا مضمون بعنوان’’ مرحوم کی یاد میں ‘‘پرمزاح جملوں مگر طنز سے مملو ہے ۔اس طرح نذر قارئین ہے :’’ جو پچھلے سال مرزا صاحب یہاں بیچنے کو لائے تھے ، پہچانی تم نے ؟ بھئی صدیاں ہی گذر گئیں ، لیکن اس سیکل کی خطا معاف ہونے میں نہیں آتی۔ میں نے کہا واہ! مرزا صاحب کے لڑکے اس پر کالج آیا جایا کرتے تھے تو ان کو ابھی کالج چھوڑے دو سال بھی نہیں ہوئے۔ مستری نے کہا : ہاں وہ تو ٹھیک ہے لیکن مرزا صاحب خود کالج میں پڑھتے تھے تو ان کے پاس بھی یہی سائیکل تھی‘‘۔ اس مضمون سے یہ فیضان و عرفان بھی حاصل ہوتا ہے کہ مرزا کے پردے میں ہزاروں ایسے چالاک ، عیار و مکار اور دھوکہ باز لوگ ہیں جو دوستی کی آڑ میں بھولے بھالے لوگوں کو ٹھگ لیتے ہیں اور اپنے دامن سحر میں جکڑلیتے ہیں۔
آخری مضمون جو مضامین کے مجموعہ میں شامل ہے ،اس کا عنوان ہے ’’لاہور کاجغرافیہ ‘‘ ۔اس کا پورا جغرافیہ مزاح سے بھرا ہے تو طنز کا ہلکا سا شگوفہ بھی چھوڑا ہے۔ وہ اس طرح کہ:’’لاہور تک پہنچنے کے کئی راستے ہیں۔ دوان میں سے بہت مشہور ہیں۔ ایک پشاور سے آتا ہے اور دوسرا دہلی سے۔ وسط ایشیاء کے حملہ آور پشاور کے راستے اور یوپی کے حملہ آوردہلی کے راستے وارد ہوتے ہیں۔ اول الذکر اہل سیف کہلاتے ہیں اورغزنوی یا غوری تخلص کرتے ہیں۔ مؤخر الذکر اہل زبان کہلاتے ہیں۔ یہ بھی تخلص کرتے ہیں اور اس میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ ’’قابل دید مقامات‘‘ کے ذیلی عنوان کے تحت ایک موقعہ پر یوں قلم گویا ہے: ’ ’ لیکن جب سے لاہور میں دستور رائج ہوا ہے بعض اشتہارات پختہ سیاہی سے خود دیوار پر نقش کردیے جاتے ہیں جس سے یہ دقت بہت حد تک دفع ہوگئی ہے۔ ان دائمی اشتہاروں کی بدولت اب یہ خدشہ نہیں رہا کہ کوئی شخص اپنایا اپنے کسی دوست کا مکان صرف اس لیے بھول جائے کہ پچھلی مرتبہ وہاں چار پائیوں کا اشتہار لگاتھااور لوٹنے تک وہاں اہالیان لاہور کو تازہ اور سستے جوتوں کا مژدہ سنایا جارہا ہے ۔ چنانچہ اب وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ جہاں بحروف جلی’’ محمد علی دندان ساز‘‘ لکھا ہے وہ دفتر انقلاب ہے، جہاں ’’بجلی پانی بھاپ کا بڑا اسپتال‘‘ لکھا ہے وہاں ڈاکٹر اقبال رہتے ہیں۔’’ خالص گھی کی مٹھائی‘‘ امتیاز علی تام صاحب کا مکان ہے ۔’’ کرشنا بیوٹی کریم‘‘شالامارباغ کو اور ’’کھانسی کامجرب نسخہ‘‘ جہانگیر کے مقبرے کو جاتا ہے۔ بیدار سب ہیڈنگ میں ایک عمدہ پیراگراف دیکھیں: ’’ لاہور کی سب سے مشہور پیداوار یہاں کے طلبہ ہیں جو بہت کثرت سے پائے جاتے ہیں۔‘‘ انہوں نے طلباء کی مختلف قسموں کا تذکرہ کیا ہے، ایک قسم یہ بھی ہے جو باعث دلچسپی ہے: ’’چوتھی قسم خالی طلباء کی ہے ۔ یہ طلباء کی خالص ترین قسم ہے۔ ان کا دامن کسی قسم کی آلائش سے تر ہونے نہیں پاتا ۔ کتابیں، امتحانات، مطالعہ اور اس قسم کے خرخشے کبھی ان کی زندگی میں خلل انداز نہیں ہوتے۔ جس معصومیت کو ساتھ لے کر کالج میں پہنچے تھے اسے آخر تک ملوث ہونے نہیں دیتے، تعلیم اور نصاب اور درس کے ہنگاموں میں اس طرح زندگی سر کرتے ہیں جس طرح بتیس دانتوں میں زبان رہتی ہے۔
حاصل مطالعہ یہ ہے کہ پطرس نے اپنے مزاحیہ مضامین میں فنی تکمیل کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے۔ مضمونوں میں خالص مزاح پیدا کر کے اپنے آپ کو ثبت دوام بخشا۔ خیال کی ندرت سے مزاح پیدا کرنا ان کا ایک آرٹ ہے۔ لفظوں کے انتخاب اور استعمال سے اچھی طرح مزاح پیدا کرلیتے ہیں۔ فکر انگیزی اور پیروڈی یعنی تحریف ان کے مضامین کی جان ہے اور یہ خوبی جابجادیکھنے کو ملتی ہے۔ بنا بریں ،ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پطرس بخاری طنز و مزاح کے بلند مقام و مرتبہ پر فائز تھے،ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔ اپنی اسی سعی کورکو محترمہ سنبل نگار کی اس رائے پر ختم کرتے ہیں۔
’’پطرس بخاری ہماری زبان کے بلند پایہ فنکارہیں۔ ندرت و نفاست ان کی تحریروں کی خصوصیت ہے۔ خالص مزاح نگاری میں آج تک اردو میں کوئی ان کی ہمسری نہ کر سکا۔ یقین ہے کہ ان کی ظریفانہ تحریریں ہماری آنے والی نسلوں کو سرور و انبساط کی لازوال دولت عطا کرتی رہیں گی‘‘۔
حوالہ جاتی کتب
نام کتب نام مصنف
(۱) مضامین پطرس پطرس بخاری
(۲) اردو نثر کا تنقیدی مطالعہ سنبل نگار فاطمہ
(مضمون نگار حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *