حق تو قلم سے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے

Siddiqصدیق احمد صدیقیؔ

ہمارے جمہوری ملک میں ہڑتالوں اور مظاہروں کا معمول بن چکا ہے اور ہو بھی کیوں نہ عوام کو اس کی راہ دکھانے والے ان کے سیاسی رہبر و رہنما ہی تو ہیں جو حقوق حاصل کرنے کا اسی کو واحد ذریعہ بتاتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ پر امن احتجاج کے ذریعہ اپنے مسائل کے لیے لڑائی لڑنا عوام کا جمہوری حق ہے ۔مگر توجہ طلب امر یہ ہے کہ کیا احتجاجی مظاہروں سے واقعی مسائل کا حل نکل سکتا ہے، اور کیا ہمارے پرامن احتجاج واقعی پر امن رہتے ہیں ؟ اگر ریاست جموں و کشمیر کی بات کریں اور بالخصوص وادی کے حالات پر ایک نظر ڈالیں تو احتجاج و مظاہرے اور ان سے پیدا شدہ حالات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ کشمیر جنت بے نظیر کی جو تصویر دکھائی دیتی ہے وہ سب جانتے ہیں۔ احتجاجی مظاہرے، سنگ بازی اور بدلے میں گولی باری۔ قطعی یہ مطلب نہیں کہ عوام کو اپنے مسائل و مطالبات اور اپنے حقوق کے لیے لڑنا نہیں چاہیے۔ مگر لڑائی کا وہ انداز اختیار کرنا چاہیے جس سے ہمارے مسائل بھی حل ہو جائیں اور کوئی جانی و مالی نقصان بھی نہ ہو ۔یہ بھی سچ ہے کہ احتجاج کی کوئی بھی صورت ہو نقصان ہمارا ہی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ہم احتجاج درج کرانے کے لیے سڑک بند کر تے ہیں مگر اس سے نقصان عوام کا ہی ہوتا ہے ۔کسی بیمار کو اسپتال وقت پر نہ پہنچنے کی وجہ سے اس کی جان چلی جاتی ہے۔ ہم اپنی دکانیں بند کر لیتے ہیں تو نقصان ہمارا ہی ہوتا ہے۔ ہم اسکول اور کاروباری دفاتر بند کروا دیتے ہیں تو ہمارے ہی بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے اور پھر یہ بھی سچ ہے کہ جب مظاہرین کوحفاطتی دستے روکتے ہیں تو پھر ہم حفاظت کے بجائے حماقت پر اتر آتے ہیں جس کی وجہ سے سنگ بازی اور گولیوں کا تبادلہ ہوتا ہے۔ ایسے واقعات میں بہت ساری جانیں بھی تلف ہو چکی ہیں ۔ ایسے میں اگر ہم سب کوئی ایسا راستہ نکالیں جس کی وجہ سے ہمارے مسائل بھی حل ہوجائیں اورنقصان بھی نہ اٹھانا پڑے تو یہ ایک بہت ہی مناسب قدم ہوگا۔
Surankot 1
جمہوریت میں جہاں پر امن احتجاج اور مظاہروں کا حق ہے وہیں جمہوریت کا چوتھا ستون کہلانے والا ایک اور بھی ذریعہ ہے جس کو استعمال کر کے ہم اپنے مسائل کو ان تک پہنچا سکتے ہیں کہ جن کے کانوں تک چلا چلا کر بھی نعروں کی آوازیں نہیں پہنچ سکتی۔ جی ہاں! صحافت جمہوریت کا چوتھاستون ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ صحافت میں بھی غیر جانب داری کا احساس و ذمہ داری کا فقدان ہوتا جا رہا ہے۔ مگر سچ یہ بھی ہے کہ اب بھی صحافت اور میڈیا میں کام کرنے والے چند لوگ ایسے ہیں جو اس پیشے کے ساتھ انصاف کرتے اور غیر جانب داری سے کام لیتے ہوئے عوام کے مسائل کو اجاگر اور ان کا حل کروانے میں کلیدی رول ادا کر رہے ہیں۔ میرے یہ الفاظ محض جذباتی نہیں ہیں بلکہ میں اپنے ذاتی تجربات کی بنیاد پر لکھ رہا ہوں۔ دہلی کی غیر سیاسی صحافتی تنظیم جسے ’’چرخہ ڈیولپمنٹ کمیونی کیشن نیٹ ورک‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مذکورہ تنظیم نے اسی ذمہ داری کا بیڑا اٹھایا کہ صحافت کو غیر جانب دارانہ طور پر عوامی مسائل کو حل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ کیوں کہ ہر انسان کی میڈیا تک رسائی نہیں ہوتی اور پھر بات دیہی علاقوں کی ہو تو ان علاقوں میں لوگ میڈیا کے نام سے بھی واقف نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر آپ کی توجہ ریاست کے سرحدی ضلع پونچھ کی جانب دلاتا ہوں جہاں میڈیا صرف اور صرف سرحد پر ہونے والی گولہ باری اور کشیدگی کو اجاگر کرنا ہی اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ اور کبھی بھی اس سے آگے بڑھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا۔ لیکن چر خہ نے ایسے ہی دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے مقامی، قومی و بین الاقوامی سطح پر “چرخہ فیچرس”کے ذریعہ اجاگر کر کے کارہائے نمایاں انجام دیا ۔ اس نے عملی طور پر یہ ثابت کردیا کہ ہم اپنے مسائل حل کرانے کے لیے قلم کا استعمال کر سکتے ہیں اور یہ سب سے مؤثر طریقہ بھی ثابت ہو چکا ہے۔

پونچھ کی تحصیل سرنکوٹ کے دیہی علاقوں میں عوام تو کبھی احتجاج بھی نہیں کرتے، اپنے آپ کو حکومت کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے اور حکومت نے انہیں اپنے حال پر۔ قدرت کا فیصلہ تھا کہ ۲۰۱۰ء میں مجھے ایک ایسے علاقے میں بطور استاد تعینات کیا گیا جہاں پہنچنے میں مجھے ایک دن کا پیدل سفر کر نا پڑتا ہے، حکومت کی جانب سے صرف ایک کمرے کے مڈل اسکول کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔ نہ بجلی ، نہ پانی، نہ سڑک اور نہ ہی کوئی طبی سہولت ۔ مجھے حکومت کی اس بے توجہی پر حیرت بھی تھی۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں حکومت کو آپریشن سروپ وناش کرنا پڑا اور یہی وہ واقعہ تھا جس کی وجہ سے اس علاقے کو میڈیا میں بہت اجاگر کیا گیا۔ اپنے تحصیل ہیڈکواٹر سے ۴۰؍ اور اپنی پنچایت سے قریب ۶۰ ؍کلو میٹر کی دوری پر واقع اس علاقے کا نام” ہل کاکا” ہے۔سال ۲۰۱۳ء میں میری ملاقات چرخہ کے پروجیکٹ منیجر اور ڈپٹی ایڈیٹرمحمد انیس الر حمن خان سے ہوئی جب ان سے ان کے کام کے بارے میں جانا تو میں نے بھی اس علاقے کے بارے میں تفصیل سے بتایا مگر ان کی طرف سے جو جواب ملا اس نے ہل کاکا کی تقدیر کو بدل کر رکھ دیا۔
Surankot 2
موصوف نے مجھے ان سب حالات و مسائل کو قلم بند کرنے کے لیے کہا۔ غرض مجھے ہل کاکا پر لکھنے کا موقع ملاتو میں نے متعدد بار اس علاقے کے مسائل و مطالبات پر
لکھاجسے چرخہ نے مختلف زبانوں میں مقامی اور قومی سطح کے اخبارات میں شائع کروایا۔ اس کے بعد چرخہ کے ذریعہ ملی پہچان کی وجہ سے مختلف مقامی اخباروں تک میری بھی رسائی ہو گئی جس کا پورا فائدہ لیتے ہوئے بار باراس علاقے کے ڈھکے چھپے مسائل کو حکومت کے سامنے لایا۔ آج وہ ایک کمرے والا اسکول کُل۱۱؍ کمروں کی چار عمارتوں پر مشتمل ہے۔ اتنا ہی نہیں آج اس علاقے کے لیے حکومت کی جانب سے ۳۰؍ کلومیٹر سڑک پر زورو شور سے کام چل رہا ہے اور آرمی نے بھی ایک اور سڑک کے کام کا آغاز کر دیا ہے۔ سول انتظامہ کے ساتھ آرمی نے آپریشن سدبھاؤنا کے تحت بھی بہت سارے کام انجام دیے جس میں اسکولی بچوں کے ڈسک ،تھیلے اور ایک کلاس روم کے علاوہ پانی کی سپلائی کے لیے پانی کے دو ٹینک بن چکے ہیں جس سے گھروں تک پانی پہنچانے کا کام جا ری ہے۔ اس تجربے کو ایک مثال کے طور پر رکھا گیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسے بے شمار مسائل جو حکومت کی نظر سے اوجھل تھے ان کا حل میڈیا کے ذریعہ کا میابی سے نکالنے کے لیے چرخہ نے ایک ایسی فوج تیار کردی ہے کہ جس کسی کوبھی کوئی مسئلہ در پیش ہوتا ہے تو وہ ہمارے قلم کاروں سے مدد مانگتے ہیں۔ چرخہ نے سرنکوٹ میں ’’انجمن دیہی قلم کارانِ سرنکوٹ‘‘ کی بنیاد بھی ڈالی جس کی دیکھ ریکھ راقم کو ملی ۔ ہمارے قلم کاروں نے ایسی مثالیں قائم کی ہیں کہ عوام کو بھی قلم کی طاقت پر یقین ہو چکا ہے۔ (چرخہ فیچرس)
مضمون نگار ’ انجمن دیہی قلم کاران سرنکوٹ‘ کے صدر ہیں
8803007043//9697052054

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *