ایران- سعودی تنازع سے قطر کے لوگ خوش نہیں ہیں: شہاب الدین احمد

Shahabuddin Ahmad_Qatar
شہاب الدین احمد

گزشتہ ۵۔۷ فروری، ۲۰۱۶ کو دہلی میں عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں ۲۵ ممالک کے شاعر و ادیب اور فنکاروں نے شرکت کی۔ اس پروگرام میں قطر سے بھی کئی افراد تشریف لائے تھے، جن میں سے ایک نام شہاب الدین احمد کا ہے۔ ان کا آبائی وطن مظفر پور، بہار ہے۔ معاش کی تلاش میں انھوں نے قطر کا سفر کیا اور اب وہیں کے شہری بن چکے ہیں۔ قطر کی ادبی و سماجی محفلوں میں شہاب الدین احمد ایک جانا پہچانا نام ہے۔ وہ اردو کے سہ ماہی بین الاقوامی رسالہ ”صدف“ کے مدیر انتظامی بھی ہیں۔ سینئر صحافی ڈاکٹر قمر تبریز نے اس موقع پر اُن سے اردو کے علاوہ ہندوستان و قطر سمیت خلیجی ممالک کی سیاسی صورتِ حال پر تفصیلی بات چیت کی اور یہ جاننا چاہا کہ قطر کے لوگ ان سب کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ قارئین کے لیے انٹرویو کے اقتباسات ذیل میں پیش کیے جا رہے ہیں:

سوال: عالمی اردو کانفرنس میں شرکت کرنے کا تجربہ کیسا رہا؟

جواب: سب سے پہلے میں شکر گزار ہوں این سی پی یو ایل کا کہ انھوں نے عالمی سطح کے لوگوں کو ایک ساتھ جمع کیا، انھیں ایک دوسرے سے ملاقات کرنے اور صحافت کے دو سو سالہ سفر پر بات کرنے کا موقع فراہم کیا۔ آج انٹرنیٹ کا زمانہ ہے، لہٰذا اردو صحافت کو آگے کیسے لے جایا جائے، اس پر انھیں غور وفکر کرنے اور اپنی بات رکھنے کا موقع دیا۔ تو مجھے بہت پسند آیا، اچھا لگا۔ ان تمام لوگوں کو سننے کا موقع ملا۔ یہاں آنے سے میرے علم میں اضافہ بھی ہوا، بہت سی نئی باتیں معلوم ہوئیں۔ یہاں کے منتظمین نے اچھا انتظام کیا اور میرے خیال سے یہ ایک کامیاب پروگرام رہا۔

سوال: آپ کے حساب سے کیا اس پروگرام میں کہیں کوئی خامی بھی رہ گئی؟ یہ جاننا اس لیے ضروری ہے، تاکہ آئندہ جب اس قسم کا پروگرام منعقد کیا جائے، تو ان خامیوں کو دور کیا جا سکے۔

جواب: بین الاقوامی سطح کا پروگرام ہو یا پھر قومی یا صوبائی سطح کا پروگرام، اس میں کہیں نہ کہیں کوئی خامی رہ ہی جاتی ہے۔ یہ سمجھنے اور سوچنے کی بات ہے کہ جب اتنے سارے لوگ ایک جگہ جمع ہوں گے، تو تھوڑی بہت کمی بیشی کہیں نہ کہیں رہ ہی جائے گی۔ یہ ہمیں چاہیے کہ ہم اردو صحافت کے لیے، اردو کے لیے بیٹھے ہیں، تو پورے خلوص کے ساتھ آپس میں مل جل کر اس پروگرام کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں۔ اردو کے مستقبل کو سنوارنے میں اپنا تعاون پیش کریں۔

سوال: ہندوستان میں اردو کی صورتِ حال کے بارے میں آپ جیسے ملک کے باہر رہنے والے لوگ کیا سوچتے ہیں؟ موجودہ حکومت کو لے کر یہاں کے اخبارات یا پھر نامور ہستیوں کے ذریعے جس قسم کی بے چینی کا اظہار کیا جا رہا ہے،عالمی میڈیا میں عدم رواداری کا جو ذکر کیا جا رہا ہے، اُس پر قطر میں رہنے والے لوگ کیا سوچتے ہیں؟

جواب: قطر میں رہ کر ہم انٹرنیٹ پر یا ٹی وی چینلوں کے ذریعے ہندوستان کی موجودہ حکومت کے خلاف جو کچھ پڑھ یا سن رہے ہیں، اس سے باہری ملکوں میں واقعی میں ہندوستانی کی قدروں میں گراوٹ آ رہی ہے۔ تاہم، چونکہ ہم لوگ اردو سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے میرا ذاتی طور پر یہ ماننا ہے کہ ہندوستان میں چاہے کانگریس کی حکومت ہو یا بی جے پی کی، ہم اردو والوں کو حکومت کے ساتھ مل کر اردو کی ترقی کے لیے کام کرنا چاہیے۔ میں مخالفت کا قائل نہیں ہوں۔ اگر وہ ہماری باتوں کو نہیں سمجھ رہے ہیں، تو ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی صحافت سے یا اپنی باتوں اور تحریروں سے ان کو سمجھائیں اور ان کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر قوم و ملک کو آگے بڑھائیں اور اردو کی خدمت کریں۔

شہاب الدین احمد وزیر برائے اقلیتی امور ڈاکٹر نجمہ ہیپت اللہ کو رسالہ ’’صدف‘‘ پیش کرتے ہوئے۔ دائیں طرف قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم
شہاب الدین احمد وزیر برائے اقلیتی امور ڈاکٹر نجمہ ہیپت اللہ کو رسالہ ’’صدف‘‘ پیش کرتے ہوئے۔ دائیں طرف قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم

سوال: قطر میں ظاہر ہے، ہندوستان کے علاوہ پاکستان، بنگلہ دیش اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے لوگ بھی رہتے ہیں۔ کیا آپ لوگوں کی ان کے ساتھ کوئی محفل سجتی ہے؟ اگر ہاں، تو وہ لوگ ہندوستان یا یہاں کی موجودہ حکومت کے بارے میں کس قسم کی باتیں کرتے ہیں، کیا سوچ رکھتے ہیں؟

جواب: قطر کے پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ جو کچھ ان لوگوں تک پہنچ رہا ہے، اس کو پڑھنے سننے کے بعد ان ایشیائی لوگوں میں ہندوستان کے تئیں منفی سوچ آئی ہے۔ ان کے ذہن میں یہ ہے کہ ہندوستان کا ماحول واقعی میں خراب ہو گیا ہے۔ وہاں کے لوگوں کی یہ سوچ ہے کہ ہندوستان کے مسلمان شاید محفوظ نہیں ہیں، حالانکہ میں ذاتی طور پر ایسا محسوس نہیں کرتا ہوں۔

سوال: آپ جس تین روزہ عالمی اردو کانفرنس میں شرکت کے لیے تشریف لائے، اس کا انعقاد وزارتِ فروغِ انسانی وسائل کی جانب سے ہی کیا جا رہا ہے۔ لہٰذا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ حکومت پوری طرح اردو مخالف نہیں ہے۔ لیکن کیا آپ یہ نہیں سوچتے کہ انھیں کے کچھ لوگ پورے ملک کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟

جواب: میں بھی ایک ہندوستانی ہوں، میری پیدائش یہیں ہوئی ہے۔ بھلے ہی آج میرے پاس قطر کی شہریت ہے، لیکن ایک ہندوستانی ہونے کے ناتے میرا بھی یہی خیال ہے کہ کچھ شرپسند تنظیمیں جو ملک کا ماحول خراب کرنے میں لگی ہوئی ہیں، چونکہ ان کا تعلق کہیں نہ کہیں آج کی برسر اقتدار پارٹی سے ہے، اس لیے بھی پوری دنیا میں ہندوستان کی بدنامی ہو رہی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ حکومت کو ایسے لوگوں کے ساتھ سختی سے پیش آنا چاہیے اور ملک کی گرتی ہوئی شبیہ کو درست کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ خصوصی طور سے وزیر اعظم نریندر مودی جی کو اس پر دھیان دینا چاہیے۔ ہمارے جیسے جتنے بھی ہندوستانی ملک سے باہر مقیم ہیں، ان سب کی یہی رائے ہے کہ اگر وزیر اعظم چاہیں، تو بڑی آسانی سے ان عناصر کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔

سوال: اب ذرا ہندوستان سے ہٹ کر خلیجی ممالک کی بات کرتے ہیں۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ آپ کے پڑوس میں، یعنی ملک شام میں، تیونس میں، عراق میں، مصر میں کیا چل رہا ہے۔ خانہ جنگی کی وجہ سے لاکھوں لوگ یا تو مارے گئے ہیں یا پھر دوسرے ملکوں کی ہجرت کرنے پر مجبور کر دیے گئے ہیں۔ اس کے بارے میں قطر کے لوگ کیا سوچتے ہیں؟

جواب: داعش نے اسلام کے نام پر جس قسم کا خون خرابہ مچا رکھا ہے، انسانوں پر جو ظلم و بربریت کا سلسلہ جاری کر رکھا ہے، ظاہر ہے اسلام اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ قطر کے لوگ داعش کا کسی بھی طرح سپورٹ نہیں کرتے اور نہ ہی ان کی کسی طرح کی ہمدردی ہے ان دہشت گردوں کے ساتھ۔ وہ ان کے سخت مخالف ہیں اور ان تمام ملکوں میں انسانیت کا جس طرح قتل کیا جا رہے، اس سے وہ کافی غم زدہ ہیں۔

سوال: گزشتہ دنوں سعودی عرب کے اندر جس طرح شیعہ مذہبی رہنماؤں کو پھانسی دے دی گئی، جس کے بعد ایران اور سعودی عرب کے تعلقات بری طرح بگڑ گئے۔ اس کے بارے میں قطر کے لوگ کیا سوچتے ہیں؟ کیا وہ سعودی عرب کی اب بھی حمایت کرتے ہیں یا وہ اس واقعہ کو غلط مانتے ہیں؟

جواب: عرب آج کی تاریخ میں اُس خطے کا تیزی سے ترقی کرتا ہوا ایک ملک ہے۔ اقتصادیات کے لحاظ سے بھی قطر خلیجی ممالک کے گروپ ’جی سی سی‘ میں کافی مضبوط ہے۔ اس تناظر میں قطر کے لوگ ایران و سعودی عرب کے درمیان تنازع کو پسند نہیں کرتے، کیوں کہ جی سی سی میں اگر کوئی ڈسٹربینس پیدا ہوتا ہے، تو اس اثر سیدھے طور پر قطر کی اقتصادیات پر پڑے گا۔ اور آپ جانتے ہی ہیں کہ فیفا کا ۲۰۲۰ میں فٹ بال ورلڈ کپ بھی ہونا ہے قطر میں، اس کے لیے لوگ کافی زور شور سے تیاریاں کر رہے ہیں۔ ایسے میں اگر اس قسم کی کشیدگی بڑھتی ہے، تو اس سے قطر کو کافی نقصان ہو سکتا ہے، اس لیے وہ لوگ اسے سپورٹ نہیں کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ (ایران اور سعوی عرب کے درمیان) باہمی بات چیت سے اس مسئلہ کا حل نکل سکے۔

سوال: فٹ بال ورلڈ کپ کی تیاریوں کے تعلق سے ہی کچھ دنوں پہلے قطر سے یہ خبر آئی تھی کہ ہندوستان کے کچھ مزدوروں کو وہاں بلایا گیا تھا۔ لیکن، بعد میں قطر کی حکومت و انتظامیہ نے ان کی صحت وغیرہ کا خیال نہیں رکھا، جس وجہ سے کچھ لوگوں کی موتیں بھی ہوئیں۔انھیں تنخواہیں نہیں دی گئیں۔ اس خبر میں کہاں تک سچائی ہے؟

جواب: میں کافی دنوں سے قطر میں ہوں۔ میں نے وہاں کی حکومت کو جس طرح دیکھا اور سمجھا ہے، اس سے کہیں یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ ہم ہندوستانیوں کے خلاف ہے۔ ہم لوگ وہاں پر اپنے ملک کا جھنڈا بھی لہراتے ہیں۔ آپس میں ہم لوگ مل بیٹھ کر باتیں بھی کرتے ہیں، مختلف قسم کے پروگرام منعقد کرتے ہیں۔ مہینہ میں ایک دو بار کہیں نہ کہیں کسی کیمپ میں بھی جاتے ہیں، وہاں کے لوگوں کی خبر خیریت پوچھتے ہیں۔ تو اس خبر میں کہیں کوئی سچائی نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے، کہیں کوئی چھوٹی موٹی تنظیم ہو، جہاں اس قسم کا واقعہ رونما ہو گیا ہو، ورنہ قطر حکومت نے باقاعدہ یہ قانون بنا رکھا ہے کہ وہاں پر دوسرے ملک سے جو بھی آتا ہے، اس کی تنخواہ سیدھے اس کے بینک اکاؤنٹ میں بھیج دی جاتی ہے، کیش میں نہیں دی جاتی۔ ہیلتھ اور انشورنس کارڈ لازمی ہے، اس کے بغیر تو ویزا کا رِنیول تک نہیں ہوتا۔ ہو سکتا ہے کچھ لوگ وِزِٹ ویزا پر گئے ہوں، ان کے ساتھ پریشانی ہوئی ہوگی۔ حکومت کی نظر میں ایسی کمپنیاں نہیں آ پائی ہوں گی، ورنہ قطر کا عام قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔ آپ ہندوستانی سفارت خانہ کے توسط سے یا براہِ راست بھی قطر جائیں، تو اس قسم کے معاملے میں قطر حکومت کا کافی سخت قانون ہے، کوئی اس کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا۔

سوال: عام طور پر ایسا دیکھا گیا ہے کہ امریکہ، یوروپ یا دنیا کے دیگر ممالک میں افریقی لوگوں کے ساتھ بھید بھاؤکیا جاتا ہے۔ نسل پرستی کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ کیا ایشیا کے لوگوں کے ساتھ بھی ایسا کچھ آپ کو کہیں دیکھنے کو ملا؟

جواب: اس معاملے میں قطر خوش نصیب ہے اور ہم لوگ خوش نصیب ہیں کہ قطر نے ہمیں وہاں رہنے کی اجازت دی ہے، ہمیں شہریت عطا کی ہے۔ ہم اپنی فیملی اور بچوں کے ساتھ وہاں رہتے ہیں۔ ہم میں سے کسی نے بھی کبھی یہ محسوس نہیں کیا کہ ان کے ساتھ کسی قسم کا بھید بھاؤ کیا جا رہا ہے۔ قطر کے لوگوں کے ساتھ ہم قسم کی تقریب میں شرکت کرتے ہیں، ایک ساتھ کھاتے پیتے اور بات چیت کرتے ہیں۔ وہ ہمارے تہوار میں شریک ہوتے ہیں، ہم ان کے قومی دنوں کی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔ قطر کے قومی دنوں کے موقع پر ہم لوگ خود بھی مشاعرے منعقد کرتے ہیں، ڈرامے پیش کرتے ہیں اور اس قسم کے دیگر کلچرل پروگرام مناتے ہیں۔ ہندوستان ہی نہیں، دوسرے ملکوں کے لوگوں کے ساتھ بھی ہم اسی طرح گھل مل کر رہتے ہیں اور آپس میں کبھی ایک دوسرے کو حقارت یا نفرت کی نظر سے نہیں دیکھتے۔ سارے لوگ پیار و محبت سے رہتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *