وزیر اعظم مودی نے پاکستان کو ایسے دیا جواب

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان تحریک انصاف پارٹی کے سربراہ عمران خان سے کی طرف سے بڑھائے گئے دوستی کے ہاتھ کا ایسا جواب دیا ہے جسے جان کر دونوں ملکوں میں سرگرم شدت پسند طاقتوں کو جھٹکا لگ سکتا ہے- ہندوستان کی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے فون کرکے عمران خان کو مبارک باد دی ہے- اس کے ساتھ ہی انہوں نے امید جتائی ہے کہ اس سے پاکستان میں جمہوریت کی جڑیں گہری ہوں گی-

ہندوستانی وزارت خارجہ نے اپنی پریس ریلیز میں کہا ہے: وزیر اعظم نے پاکستان تحریک انصاف پارٹی کے سربراہ عمران خان سے بات کی اور حال ہی میں پاکستان نیشنل اسمبلی کے لیے ہوئے انتخابات میں ان کی پارٹی کے سب سے بڑی سیاسی جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے آنے کے لیے انہیں مبارک باد دی.

وزیر اعظم نے عمران خان سے بات چیت کے دوران پڑوس کے پورے خطے میں امن اور ترقی کے بارے میں اپنے نقطہ نظر کو دہرایا.

بھارت اور پاکستان کے رشتوں کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم مودی کا عمران خان کو فون کر کے مبارک باد دینا بہت اہم مانا جا رہا ہے. اسے عمران خان کی جانب سے بڑھائے گئے دوستی کے ہاتھ کا مثبت جواب کہا جا رہا ہے. غور طلب ہے کہ 25 جولائی کو ہوئے عام انتخابات کے نتائج آنے کے بعد عمران خان نے اپنے پہلے عوامی خطاب میں کہا تھا کہ اگر باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے بھارتی قیادت ایک قدم آگے بڑھائے گی تو وہ دو قدم آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں. عمران خان نے کشمیر کو بھارت پاکستان کے درمیان سب سے اہم مسئلہ قرار دیا تھا. اس کے بعد بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رويش کمار نے ایک محتاط  رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا: ہم اس بات کا خیر مقدم کرتے ہیں کہ پاکستان کے عوام نے عام انتخابات کے ذریعے جمہوریت میں اپنے اعتماد کو دہرایا ہے. بھارت ایک خوشحال اور ترقی پسند پاکستان چاہتا ہے جو اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن سے رہے. ہماری خواہش ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت دہشت گردی اور تشدد سے پاک ایک محفوظ اور ترقی یافتہ جنوبی ایشیا کی تعمیر کے لیے تعمیری کام کرے گا.

یاد رہے کہ پاکستان میں 25 جولائی کو ہوئے عام انتخابات میں عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف 270 میں سے 116 سیٹوں پر جیت درج کرکے سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری ہے. اگرچہ وہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی، تاہم مانا جا رہا ہے کہ عمران خان پاکستان کے اگلے وزیر اعظم ہوں گے۔ غور سے دیکھا جائے تو ہندوستان نے ایک قدم آگے بڑھ کر عمران خان کی پیشکش کا جواب دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت بات چیت کے لیے مناسب ماحول تیار کرتی ہے یا نہیں؟

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *