مودی حکومت کے اقدام سے عام آدمی پریشان: ایس ڈی پی آئی

نئی دہلی (نامہ نگار):
سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی )نے مرکزکی بی جے پی حکومت کی جانب سے کالے دھن پر قدغن لگانے کے اقدام پر اپنے موقف کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ 500 اور 1000روپے کے نوٹوں کو بند کرنے کے فیصلے سے ملک کے عام آدمی کو سب سے زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مرکزی حکومت کے نام نہاد “سرجیکل سٹرائیکس” سے ملک کے متوسط اور غریب طبقہ کو پریشانیوں کو سامنا کرنا پڑے گا جبکہ کالا دھن جمع کرنے والے اصلی قصوروار اپنے کالے دھن کو غیر ملکوں میں جمع کرکے یا رئیل اسٹیٹ میں لگا کر آرام سے بیٹھے ہوئے ہیں۔مرکزی حکومت کے اس اقدام سے معیشت پر منفی اثر ہوسکتا ہے کیونکہ 40؍ فیصدمعیشت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری کے نقد لین دین کے ذریعہ چلتا ہے۔ ایس ڈی پی آئی کے قومی صدر اے سعید نے اپنے اخباری اعلامیہ میں کہا ہے کہ پارٹی کالے دھن اور بدعنوانی پر قدغن لگانے کے کسی بھی اقدام کا خیر مقدم کرتی ہے۔ تاہم امیر ترین طبقہ کے خلاف سرجیکل حملے نہیں کیے گئے تو اس کا مستقبل میں الٹا اثر ہوگا۔ بڑے پیمانے پر کالا دھن رکھنے والوں کے پاس تو 500/1000کے نوٹ نہیں ہونگے، بلکہ ان کے پاس تو ڈالر ، سونا کے علاوہ ملک اور بیرون ممالک میں جائیداد وغیرہ ہونگے اور مذکورہ نوٹ بند کیے جانے کا ان پر کسی قسم کا اثر نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ حکومت جو 500اور 2000کے نئے نوٹوں کا متعارف کیا ہے اس سے کالا دھن جمع کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ اس سے قبل سن 1946اور1978میں بھی حکومتوں نے بڑے نوٹوں پر پابندی لگائی تھی لیکن اس سے عام آدمی کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا کیونکہ کسی عام آدمی کے پاس نہ تو اتنے بڑے نوٹ موجود تھے اور نہ ہی انہوں نے بڑے کرنسیوں کو دیکھا تھا۔ایس ڈی پی آئی قومی صد ر اے سعید نے مزید کہا ہے کہ موجودہ این ڈی اے حکومت کا کالے دھن پر قدغن لگانے کا اقدام غیر موثر ہے اور عام آدمی کو شدید پریشانی میں مبتلا کرنے والا اقدام ہے۔ حکومت نے یہ اقدام بڑی عیاری کے ساتھ اٹھایا ہے تاکہ عوام کا فنڈس بینکوں میں جمع ہوسکے کیونکہ ان میں اکثر بینکوں نے بڑی لاپرواہی کے ساتھ کارپوریٹ کمپنیوں کو قرضہ دیا ہے اور تباہی کے دہانے پر کھڑی ہیں۔ کالے دھن کے روکنے کے بہانے جو نئے نوٹ جاری کئے گئے ہیں اس سے کالا دھن مزید جمع ہوگا جو کہ افسوسناک اور قابل مذمت اقدام ہے۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر اے سعید نے اپنے اخباری اعلامیہ میں اس بات کی طر ف زوردیتے ہوئے کہا ہے الیکشن کمیشن نے کالے دھن اور سیاست کے درمیان جو گٹھ جوڑ ہے اسے روکنے کے لیے جو تجاویز دی ہیں اس پر عمل در آمد کیا جانا چاہئے۔ اب تک ہمارے ملک میں ایسا ہوتا آرہا ہے کہ کالا دھن جمع کرنے والے حکومت کی پشت پناہی حاصل کرکے قوانین کے مقابلے میں اپنے آپ کو ہوشیار ثابت کرچکے ہیں اور اس میں سیاستدان بھی ملوث ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *