عالمی صوفی فورم سے وزیراعظم نریندر مودی کا خطاب

PM at World Sufi Conference

نئی دہلی، ۱۷ مارچ: آج دہلی کے وِگیان بھون میں منعقدہ عالمی صوفی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے وزیر اعظم نریندر مودی نے خطاب کیا۔ ان کی تقریر کا پورا متن یہاں قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے:

نئی دہلی،۱۷مارچ، کُل ہند علماء ومشائخ بورڈ کے بانی صدر سید محمد اشرف، مصر کے مفتی اعظم شاوکی ابراہیم عبدالکریم علام، بغداد کے شیخ ہاشم الدین الجیلانی، اردن کے عبدالرحیم محمد اوکور، بنگلہ دیش کے سید سیف اللہ احمد، پاکستان کے دیوان احمد مسعود چشتی، اجمیر شریف کے سید چشتی اور نظام الدین درگاہ کے سید نظامی، میرے کابینی ساتھی، ہندوستان بھر کے دانشور اور صوفی، ہمارے پڑوسی ملکوں اور دور دراز کے ملکوں سے آئے مہمانان، آپ سب کا اس سرزمین پر خیر مقدم ہے، جو ہمیشہ سے امن کا گہوار ہ رہی ہے اور جو روایتوں اور عقیدوں کا قدیم وسیلہ رہا ہے اور جس نے پوری دنیا کے مذاہب کی پرورش کی ہے۔

تمام لوگوں کا وسودیوا کٹم باکم یعنی پوری دنیا ایک خاندان ہے، اس عقیدے کے ساتھ خیر مقدم ہے۔ ہم آہنگی میں یقین رکھتے ہوئے مقدس قرآن کے اس پیغام کے ساتھ کہ تمام انسان ایک ہی برادری کے ہیں اور پھر انہوں نے خود کو الگ الگ ٹکڑوں میں بانٹ لیا۔ فارسی کے عظیم صوفی شاعر سعدی کے الفاظ کو دہراتا ہوں جو اقدام متحدہ میں کندہ ہیں، یعنی انسان ایک ہی نسل سے آئے ہیں یعنی ہم ایک ہی خاندان ہیں۔ آپ سب کا قدیم شہر دہلی میں خیرمقدم ہے جس کی تعمیر مختلف ثقافتوں اور عقائد کے ماننے والے عظیم افراد نے کی ہے۔

ہمارے ملک کی طرح اس شہر کے دل میں بھی ہر عقیدے کے لیے جگہ ہے، چاہے اس عقیدے کے لوگ ہوں جن کے بہت کم ماننے والے ہیں یا ایسے عقیدے سے تعلق رکھتے ہوں جن کے اربوں ماننے والے ہیں۔ اس کی شاندار درگاہوں میں عظیم صوفی سنتوں کی درگاہیں شامل ہیں جہاں دنیا کے ہر کونے سے اور ہر عقیدے کے لوگ حاضر ہوتے ہیں۔ انسانیت کے لیے اس نازک وقت میں یہ غیرمعمولی تقریب دنیا کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ایسے وقت میں جبکہ تشدد کے اندھیرے پھیلتے جارہے ہیں، آپ نور کی اور امید کی کرن ہیں۔ ایسے میں جبکہ کمسن ہنسی سڑکوں بندوقوں کے ذریعے خاموش کرائی جارہی ہے، آپ دکھیوں کی آواز ہیں۔ ایک ایسی دنیا میں جو امن اور انصاف کے لیے یکجا ہونے کے لیے جدوجہد کررہی ہے یہ اجلاس ان افراد کا جن کی زندگی خود ہی امن، رواداری اور محبت کا پیغام ہے۔

آپ مختلف ملکوں اور تہذیبوں سے یہاں آئے ہیں لیکن آپ ایک مشترکہ عقیدے سے جڑے ہوئے ہیں، آپ مختلف زبانیں بولتے ہیں لیکن یہ سب مل کر ہم آہنگی کا پیغام دیتی ہیں اور آپ اسلامی تہذیب کی عظیم گوناگونیت کی نمائندگی کرتے ہیں جو عظیم مذہب کی مضبوط بنیاد پر قائم ہے۔ یہ ایک ایسی تہذیب ہے جو ۱۵ویں صدی میں سائنس، طب، ادب، فنون لطیفہ، فن تعمیر اور تجارت و حرفت میں بے مثال اونچائیوں تک پہنچ چکی تھی۔ اس نے اپنے عوام کی بے انتہا صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا اور اسلام نے مختلف تہذیبوں جیسے قدیم مصر، میسو پوٹامیا اور افریقہ، فارس، وسطی ایشیا، کوہ قاف، مشرقی ایشیا کے خطے اور بدھ ازم اور فلسفے اور سائنس سے فائدہ اٹھایا۔ اس نے خود کو مختلف علوم سے مالا مال کیا اور پوری دنیا کو مالا مال کیا ۔ ایک مرتبہ پھر اس نے انسانیت کی تاریخ کے لیے ایک دیر پا سبق فراہم کیا ہے اور یہ کھلے پن اور معلومات حاصل کرنے ایک دوسرے کے ساتھ ربط بنانے، ایک دوسرے کو جگہ دینے، گوناگونیت کا احترام کرنے پر مبنی ہے، جس سے انسانیت آگے بڑھتی ہے، ملک ترقی کرتے ہیں اور دنیا خوش حال ہوتی ہے اور صوفی ازم کا یہ پیغام اس دنیا کے لیے اسلام کا سب سے بڑا تعاون ہے۔

مصر اور مغربی ایشیا میں اپنی ابتدا کے بعد صوفی ازم دور دراز کے علاقوں اور سرزمینوں تک پہنچا ہے اور عقائد کے بینر اور انسانی اقدار کے پرچم کو بلند کرتے ہوئے دوسری تہذیبوں کے روحانی عقائد سے سبق حاصل کرتے ہوئے اور لوگوں کو ان کی زندگی اور ان کے صوفیوں اور بزرگوں کے پیغامات کے ساتھ راغب کیا ہے۔

افریقی سہارا یا جنوب مشرقی ایشیا کے مختلف علاقوں میں، ترکی میں یا وسطی ایشیا میں ایران میں یا ہندوستان میں صوفی ازم نے انسان کی اس آفاقی خواہش کی عکاسی کی ہے جو مذہب پر عمل اور عقائد سے بالا تر ہوکر اللہ کے ساتھ جڑنا چاہتی ہیں۔ اور اس روحانی اور پراسرار راہ میں صوفیوں کو خدا کا آفاقی پیغام حاصل ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ انسانی زندگی کی اچھائیاں ہی خدا کو محبوب ہیں اور یہ کہ سب کا خالق اللہ ہے اور اگر ہم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں اس کی مخلوق سے بھی محبت کرنی چاہیے۔

جیسا کہ حضرت نظام الدین اولیا نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عزیز رکھتا ہے جو انسانوں کی خاطر اس سے محبت کرتا ہے اور ان سے محبت کرتا ہے جو اللہ کی خاطر انسانوں سے محبت کرتا ہے۔ یہ پیغام تمام انسانیت کی وحدت اور اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق کے لیے ہے۔ اسی وجہ سے صوفیوں کی نظر میں اللہ کی خدمت کا مطلب انسانیت کی خدمت ہے۔

خواجہ معین الدین چشتی کے الفاظ میں اللہ تعالیٰ جس عبادت سے سب سے زیادہ خوش ہوتا ہے وہ غریب اور مظلوم افراد کو راحت پہنچانا ہے۔ انسانی اقدار کی خوبصورت عکاسی کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ انسانوں کو سورج کی طرح پیار کرنے والا دریا کی طرح سخی اور زمین کی طرح میزبان ہونا چاہیے کیونکہ یہ سب کسی امتیاز اور تفریق کے بغیر ہم سب کو فائدہ پہنچاتے ہیں اور یہ انسانیت ہی ہے جو سماج میں عورت کو بلند مقام اور حیثیت عطا کرتی ہے۔

ان سب سے بالاتر صوفی ازم گوناگونیت اور تکثیریت میں یقین رکھتی ہے جیسا کہ حضرت نظام الدین اولیاء کا کہنا ہے کہ ہر شخص کا اپنا الگ عقیدہ اور الگ راستہ ہوتا ہے۔

یہ الفاظ پیغمبر اسلام کے آفاقی پیغام کی عکاسی کرتے ہیں کہ مذہب میں کوئی جبر نہیں اور یہ کہ ہر شخص کے لیے ہم نے عبادت کے طریقے مقرر کیے ہیں جن پر وہ عمل کرتا ہے۔
ہندو روایات میں یہی چیز بھکتی کی روح سے ہم آہنگ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’ایک عظیم سمندر کے سینے میں لاتعداد چشموں کا پانی محفوظ ہوتا ہے جو ہر پہاڑی اور ہر سمت سے بہہ کر آتا ہے۔

بلّے شاہ کے الفاظ میں خدا ہر دل میں موجود ہے۔ یہ اقدار ہمارے وقت کی ضرورت ہیں۔ یہ فطرت کی عقیدت ہے، ہم اس چیز کو اس بہترین توازن اور ہم آہنگی سے سیکھ سکتے ہیں جو کسی جنگل کی وسیع گوناگونیت میں موجود ہوتی ہے۔

یہ پیغام مختلف قسم کے دبستانوں اور فرقوں کی حدود سے بالاتر ہے۔ یہ ایک روحانی جستجو ہے جو سلسلہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تک جاتا ہے اور جو اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے اور جس کے لغوی معنی ہیں امن۔

اور یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب ہم اللہ تعالیٰ کے ۹۹ نام لیتے ہیں تو ان میں کسی کے بھی معنی جبر یا تشدد کے نہیں ہیں اور پہلے دو نام یعنی رحمن اور رحیم اللہ تعالیٰ کے رحم وکرم کا اظہار کرتے ہیں۔

صوفی ازم امن، بقائے باہم، محبت اور برابری کی آواز ہے اور یہ عالمی بھائی چارے پر زور دیتا ہے۔ اور جیسے کہ ہندوستان اسلامی تہذیب کا ایک اہم مرکز بنا ہے وہیں ہمارا ملک صوفی ازم کے ایک سب سے بڑے اور تابناک مرکز کے طور پر بھی ابھرا ہے۔ ہندوستان میں صوفی ازم اسلام کا چہرہ ہے اور یہ مقدس قرآن اور احادیث سے جڑا ہوا ہے۔ صوفی ازام ہندوستان کے کھلے پن اور کثرت میں پھلا پھولا ہے اور یہ ہندوستان کی روحانی روایات میں ہندوستانی اخلاقیات کے ساتھ ابھرا ہے۔

ہمیں یہ وراثت فنون لطیفہ، فن تعمیر اور ثقافت میں نظر آتی ہے جو ہمارے ملک کے تانے بانے اور ہماری روز مرہ کی اجتماعی زندگی کا ایک حصہ ہے۔ ہم اسے ہندوستان کی روحانی اور دانشورانہ روایات میں بھی پاتے ہیں۔ اس نے ایک جامع تہذیب کو مضبوط کرنے اور ہمارے عظیم ملک کو مضبوط کرنے اور تہذیب و ثقافت میں زبردست تعاون کیا ہے۔

بابا فرید کی شاعری یا گرو گرنتھ صاحب میں ہم اسی روحانیت کو پاتے ہیں۔ ہم صوفی خانقاہوں کے لنگر میں اس محبت کو دیکھتے ہیں اور گاؤں میں مقامی پیروں کے مقبروں میں دیکھتے ہیں جہاں غریب اور بھوکے افراد دور دور سے کھنچے چلے آتے ہیں۔ صوفی خانقاہوں میں لفظ ہندوی بولے جاتے تھے۔ ہندوستان کی شاعری میں صوفی ازم کا ایک گرانقدر تعاون ہے اور ہندوستانی موسیقی کے فروغ میں اس کا بہت بڑا اثر ہے۔

صوفی شاعر اور موسیقار امیر خسرو سے زیادہ اثر شاید کسی کا نہیں ہے،آٹھ صدی پہلے ان کی شاعری اور موسیقی کی اختراعات ہندوستانی موسیقی کی روح میں شامل تھی۔ ہندوستانی موسیقی کے بارے میں اتنے جذبات کے ساتھ ان کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں بول سکا ہے۔ ہندوستان کے لیے محبت کا اظہار جس خوبصورتی سے انہوں نے کیا ہے، کوئی اور نہیں کرسکتا۔

’’لیکن ہندوستان سر سے پیر تک جنت کی تصویر ہے، آدم جنت کے ایک محل سے آئے تھے، انہیں پھلوں کے ایک باغ میں ہی بھیجا جاسکتا تھا جو ہندوستان ہے، اگر ہندوستان جنت نہیں تو اسے مور کا مسکن کیسے بنایا گیا، جو جنت کا پرندہ ہے‘‘۔

یہی صوفی ازم کے جذبات ہیں، یہ ملک کے لیے ان کی محبت اور اپنے ملک پر ان کا فخر ہے جو ہندوستان کے مسلمانوں کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ امن گوناگونیت اور ملک کے عقائد میں برابری کی تہذیب کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان سب کے علاوہ یہ سب ہندوستان کی اسلامی وراثت کی اقدار سے جڑے ہوئے ہیں، یہ اسلام کے اعلیٰ ترین اصولوں پر کاربند ہیں اور انہوں نے ہمیشہ ہی دہشت گردی اور انتہا پسندی کی قوتوں کو مسترد کیا ہے۔ اب جبکہ یہ دنیا کے مختلف حصوں میں سفر کرتے ہیں، یہ ہماری اقدار اور ہمارے ملک کی روایات کے سفیر ہیں۔ ایک ملک کے طور پر ہم سامراجیت کے خلاف کھڑے ہوئے اور ہم نے آزادی کے لیے جدوجہد کی۔ آزادی کے آغاز میں کچھ لوگوں نے چلے جانا پسند کیا اور مجھے یقین ہے کہ اس میں بھی اس وقت کی سامراجی سیاست کا ہاتھ تھا۔

ہمارے سب سے بڑے لیڈروں، جیسے مولانا آزاد اور اہم روحانی لیڈر جیسے مولانا حسین احمد مدنی اور لاکھوں کروڑوں عام شہریوں نے مذہب کی بنیاد پر تقسیم کے نظریے کو مسترد کردیا تھا۔ اب ہندوستان جدوجہد، قربانیوں ، جرأت مندی، معلومات، ہنرمندی، فن اور خودکفالت کے دم پر طاقت کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ ہماری گوناگونیت میں ہر ایک فرد کے فخر کا باعث ہے اور اب بھی ہم ایک متحد ملک ہیں۔ یہ ہندوستان کا جذبہ ہے اور ملک کی طاقت ہے۔ ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، بودھ، پارسی اور مذہب پر یقین رکھنے والے اور اس پر یقین نہیں رکھنے والے لوگ سبھی ہندوستان کا حصہ ہیں۔ جیسے ہی ایک بار اس نے ہندوستان میں ایک بار قدم رکھا ہندوستان میں صوفی ازم پور ی دنیا میں پھیل چکا ہے۔ لیکن ہندوستان میں موجود اس روایت کا رشتہ پورے ایشیا کا ہوکر رہ گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں علاقے کے دوسرے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہماری شاندار وراثت کو زندہ رکھیں۔ جب صوفی ازم کے روحانی پیار جس میں دہشت گردی کی تشدد کی طاقت نہیں ہوتی اس کا بہاو سرحد کو پار کرلیتا ہے تو یہ سرزمین امیر خسرو کے کہے کے مطابق زمین پر جنت ہوگی۔ جیسا کہ میں نے محاورہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ دہشت گرد ہمیں بانٹتا اور برباد کرتا ہے۔ حقیقت میں جب دہشت گردی اور انتہا پسندی ہمارے وقت کی سب سے تباہ کن طاقت بن جائے توہمارے لیے صوفی ازم کا پیغام عالمی سطح پر اہمیت اختیار کرلیتا ہے۔ جہاں مغربی ایشیا لڑائی کے مرکز بنے ہوئے ہیں وہیں دور کے ملکوں کے شہروں میں امن ہیں۔ افریقہ کے دور دراز کے گاوں سے لے کر ہمارے اپنے علاقہ کے شہروں میں سکون ہے لیکن دہشت گرد ی تقریباً ایک روز مرہ کا خطرہ بن گئی ہے ہر روز دہشت گردی کی خبریں سننے کو ملتی ہیں۔ ہمارے اسکول میں بے قصور اور معصوم لوگوں کو دہشت گردی کی وجہ سے نشانہ بننا پڑتا ہے۔

نئے وعدے اور مواقع کی اس ڈیجیٹل صدی میں دہشت گردی کی پہنچ بڑھتی جارہی ہے اور ہر سال اس کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صدی کے آغاز کے بعد سے ہزاروں کنبوں کے لوگ اپنے عزیزوں کو عالمی سطح پر دہشت گردی کی وجہ سے گنوا بیٹھے ہیں، صرف پچھلے سال ہی ۹۰ سے زیادہ ملکوں میں دہشت گردی کے واقعات دیکھنے کو ملے۔ ۱۰۰ ملکوں میں والدین اپنے بچے سیریا کی لڑائی میں کھوبیٹھے ہیں جس سے انہیں روزانہ کا دکھ جھیلنا پڑرہا ہے۔ ہر سال ہم دہشت گردی سے دنیا کو پاک کرنے پر ۱۰۰ ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کرتے ہیں اور وہ رقم غریبوں کی زندگی سنوارنے پر خرچ ہوسکتی تھی۔ کچھ ایسی طاقتیں اور گروپ ہیں جو سرکار کی پالیسی کے منشا کے ذرائع ہیں۔ ایسے کچھ لوگ ہیں جنہیں گمراہ کرکے بھرتی کیا گیا ہے۔ کچھ ایسے لوگ ہیں جنہیں منظم کیمپوں میں تربیت دی گئی ہے، کچھ ایسے ہیں جو سرحدوں سے ماورا، سائبر دنیا میں ترغیب حاصل کرتے ہیں۔ دہشت گردی کی گونا گوں تحریک اور اسباب کا استعمال کرتا ہے جن میں ایک کو بھی مناسب نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ دہشت گردی ایسے مذہب کو تباہ کرتا ہے جس کی حمایت کا وہ دعوی کرتے ہیں۔ وہ اپنی ہی سرزمین پر لوگوں کو ہلاک کرتے ہیں اور تباہی مچاتے ہیں۔ وہ کسی دوسری جگہ کے بجائے اپنی زمین اور اپنے لوگوں کو زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ ایک ایسی جنگ نہیں ہے جسے فوجی انٹلی جینس یا سفارتی ذرائع سے لڑا جائے۔ یہ ایک ایسی جنگ بھی ہے جسے مذاہب کے اصل پیغام اور ہماری اقدار کی طاقت کے ذریعہ جیتا جاسکتا ہے۔ اور میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ ہمیں دہشت گردی اور مذہب کے درمیان کسی بھی طرح کے رابطہ کو مسترد کردینا چاہیے۔ جو لوگ مذہب کے نام پر دہشت گردی پھیلاتے ہیں وہ مذاہب کے دشمن ہیں ہمیں صوفی ازم کے پیغام کو آگے بڑھانا چاہیے جو کہ اسلام کے اصولوں اور انسانی قدروں پر کھڑا ہے۔ یہ ایک کام ہے جس کو ریاستوں، سوسائٹیوں، اسکالروں اور کنبوں کو اپنانا ہے۔ البتہ میرے لیے صوفی ازم کا پیغام محض دہشت گردی سے لڑنے تک محدود نہیں ہے۔ انسانوں کے تئیں پیار، بھلائی، ہم آہنگی کی قدریں سماج کی بنیاد ہیں۔ میرا مقصد سب کا ساتھ سب کا وکاس کا یہی اصول ہے۔ اور یہ اقدار ہمارے سماج کو تحفظ فراہم کرانے کے لیے اہم ہے۔ ہمیں خوشحال پرامن سماج کی تعمیر کرنے کے لیے صرف آئینی شقوں یا قانونی تحفظ کی ہی نہیں بلکہ سماجی قدروں کی بھی ضرورت ہے۔ جہاں سبھی کا ایک دوسرے سے رابطہ ہو۔ اپنے اختیارات کے تئیں مطمئن ہوں اور اپنے مستقبل کو لے کر پراعتماد ہوں۔ یہ دنیا میں بڑی تبدیلی کا دور بھی ہے۔ پچھلی صدی کے وسط میں تاریخ میں ایک اہم تبدیلی ہوئی۔ ایک نئے عالمی نظام کا آغاز ہوا۔ بہت سے نئے ملکوں کا جنم ہوا۔ نئی صدی کے آغاز میں ہم پھر سے تبدیلی کے ایک دوسرے موڑ پر ہیں جس کا پیمانہ انسانی تاریخ میں کم ہی دیکھا گیا ہے۔ دنیا کے کئی حصوں میں مستقبل کو لے کر غیریقینی کی سی کیفیت ہے اور ہم اس سے کس طرح نمٹیں، ملکوں اور سماج سے کیسے سلوک کریں اس کو لے کر بھی غیریقینی کے سے حالات بنے ہوئے ہیں۔ یہ ایسا دور ہے جو یقینی طور سے پر تشدد تحریکوں کے سبب بہت زیادہ غیرمحفوظ ہے۔

عالمی برادری کو پہلے سے کہیں زیادہ چاق و چوبند ہونا چاہیے اور انسانی اقدار کی روشنی سے ظالم طاقتوں کا مقابلہ کرنا چاہیے ۔

اس لیے آئیے ہم مقدس قرآن کی تعلیمات کو یاد کریں جس میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی نے ایک بے گناہ انسان کا قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانیت کو قتل کیا۔ اگر کسی نے ایک انسان کی جان بچائی تو گویا اس نے تمام انسانوں کو بچایا۔

آئیے ہم حضرت معین الدین چشتی کے پیغام سے تحریک حاصل کریں:

آپ کی روحانی روشنی جنگ اور عدم مفاہمت کے بادلوں کو چھانٹتی ہے، اور خیرسگالی، امن اور ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے۔

آئیے ہم صوفی شاعر جلال الدین رومی کے انسانیت سے بھر پور خیالات کو یاد کریں:

تمام انسانی چہروں کو اپنے میں سمو لو، ان میں کوئی تفریق کیے بغیر۔

آئیے بائبل کی نصیحت پر غور کریں جو کہ ہمیں نیکی کرنے، امن تلاش کرنے اور اس پر گامزن ہونے کی تعلیم دیتا ہے۔

اور کبیر کی وحدانیت کے مشاہدے کے مطابق کہ دریا اور اس کی موجیں ایک ہی ہیں۔ اور گورو نانک دیو جی کی تعلیمات کے مطابق کہ اے مالک، اس عالم میں ہر کوئی خوش حال اور پُر امن رہے۔ آئیے ہم فرقہ واریت کے خلاف سوامی وویکانند کی اپیل سے تحریک حاصل کریں اور تمام مذاہب کے ماننے والوں کو ہم آہنگی کے بینر تلے یکجا کریں نہ کہ تنازعات کے۔ آئیے ہم بھگوان بدھ اور مہاویر جی کے اہنسا کے پیغام کی بھی تائید وثیق کریں۔ اور گاندھی جی کی اس سر زمین پر اور اس فورم سے اور آفاقی دعا کے ساتھ جو اس دعا پر ختم ہوتی ہے:

او م شانتی، شانتی، شانتی: امن، امن، امن: امن ملک اور پوری دنیا میں امن۔

آئیے ہم پوری دنیا کو یہ پیغام دیں

• ہم آہنگی اور انسانیت کی صدا

• کثرت کو اپنانے اور وحدت کا جذبہ

• محبت اور خلوص کے ساتھ خدمت

• دہشت گردی کے خلاف عزم، انتہا پسندی کی رد اور امن کے فروغ کے لیے عزم محکم

• آخر میں آئیے ہم تشدد کی قوتوں کو اپنی محبت اور انسانی اقدار سے چیلنج کریں۔

• آئیے ہم امید کی کرن کو جگائیں اور اس دنیا کو امن کے ایک گلشن میں تبدیل کریں۔

• آپ سب کا یہاں آنے پر شکریہ ۔ اس کے لیے شکریہ جس کےلیے آپ جدوجہد کررہے ہیں۔ اس دنیا کو ایک بہتر دنیا بنانے میں آ پ جو رول ادا کررہے ہیں اس کے لیے شکریہ!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *