قوم کے نام وزیراعظم کا پیغام

نئی دہلی:

میرے پیارے ہم وطنو!

دیوالی کے مقدس تہوار کا اختتا م نئی امیدوں اور نئی خوشیوں کے ساتھ ہوا ہوگا ۔ آج میں آپ سبھی سے کچھ خصوصی گذارشات کرنا چاہتا ہوں۔ اس گفتگو میں کچھ سنجیدہ موضوعات، کچھ اہم فیصلے آپ کے ساتھ بانٹنا چاہوں گا۔ آپ کو یاد ہوگا جب آپ نے مئی ۲۰۱۴ میں ہمیں یہ ذمہ داری سونپی تھی۔ اس وقت دنیا کے معاشی نظام میں برکس (بی آر آئی سی ایس ) کے تعلق سے یہ بات عام گفتگو میں کی جارہی تھی کہ برکس میں انگریزی کا جو حرف آئی ہے، وہ انڈیا سے جڑا ہوا ہے۔ لوگ کہتے تھے کہ برکس میں شامل آئی لڑھک رہا ہے۔ مسلسل دو برس کے ملک گیر قحط کے باوجود پچھلے ڈھائی برس میں سوا سو کروڑ اہالیان وطن کے تعاون سے آج ہندوستان نے عالمی معیشت میں ایک درخشاں ستارے کی شکل میں ایک روشن مقام حاصل کرکے اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہم ہی یہ دعویٰ کررہے ہیں بلکہ آج یہ آواز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک میں بھی گونج رہی ہے۔

بہنو، بھائیو!

ترقی کی اس دوڑ میں ہمارا بنیادی اصول رہا ہے، ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘۔ یہ سرکار غریبوں کے لیے وقف رہی ہے اورغریبوں کے لیے ہی وقف رہے گی۔ غریبی کے خلاف ہماری لڑائی کا اہم ہتھیار رہا ہے، غریبو ں کو ملک کے معاشی نظام اور خوشحالی میں سرگرم کرنا۔

شراکت داری یعنی غربیوں کو بااختیار بنانا۔ ہماری اس کوشش کی جھلک آپ سب کو درج ذیل اسکیموں میں نظر آئے گی:

پردھان منتری جن دھن یوجنا۔

جن دھن سے جن سرکشا یوجنا۔

اقتصادی سرگرمیوں کے لیے پردھان منتری مدرا قرض یوجنا۔

دلت، آدی واسی اور خاتون کاروباریوں کے لیے اسٹینڈ اپ انڈیا۔

غریبوں کے گھروں میں گیس کا چولھا پہنچانے کے لیے پردھان منتری اُجّول یوجنا۔

کسانوں کی آمدنی محفوظ کرنے کے لیے پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا اور پردھان منتری کرشی سینچائی یوجنا۔

کسانوں کو اپنے کھیتو ں سے فصل کی صحیح پیداوار حاصل کرنے کے لیے سوائل ہیلتھ کارڈ یوجنا اور صحیح فصل کی صحیح قیمت حاصل کرنے کے لیے ای این اے ایم یعنی قومی کرشی بازار یوجنا۔

ان سب میں یہ صاف نظر آتا ہے کہ یہ سرکار گاؤوں، غریبوں اور کسانوں کے لیے وقف ہے۔

میرے پیارے ہم وطنو!

پچھلی دہائیوں میں ہمیں یہ تجربہ ہوتا رہا ہے کہ ملک میں بدعنوانی اور کالا دھن جیسی بیماریوں نے اپنی جڑیں جما لی ہیں اورملک سے غریبی کے خاتمے کے لیے یہ بدعنوانیاں، یہ کالا دھن اور گورکھ دھندے سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

ایک طرف تو ہماری معیشت تیزی کے ساتھ آگے بڑھنے والے ملکوں میں سب سے آگے ہے۔ دوسری طرف بدعنوانی کی عالمی رینکنگ میں دو سال پہلے ہندوستان قریب قریب ۱۰۰ ویں نمبر پر تھا۔ متعدد اقدامات کے باوجود ہم ۷۶ ویں نمبر پر ہی پہنچ پائے ہیں۔ اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ملک میں بدعنوانیوں اور کالے دھن کا جال کس قدر وسیع پیمانے پر بچھا ہوا ہے۔

بدعنوانی کی بیماری کو کچھ مخصوص زمروں کے لوگوں نے اپنے مفاد کے لیے پھیلا رکھا ہے۔ یہ لوگ غریبوں کے حق کو نظر انداز کرکے خود پھلتے پھولتے رہے ہیں۔ کچھ لوگوں نے اپنے عہدے، اپنے منصب کا غلط استعمال کرتے ہوئے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ دوسری طرف ایماندار لوگوں نے اس کے خلاف لڑائیاں لڑی ہیں۔ ملک کے کروڑوں لوگوں نے ایمانداری کے ساتھ زندگی جی کر دکھائی ہے۔

ہم عام طورپر یہ سنتے آئے ہیں کہ غریب آٹو ڈرائیور اپنی گاڑی میں چھوٹ جانے والے سونے کے زیورات والے بیگ کو اس کے اصلی مالک تک کیسے ڈھونڈ کر پہنچاتا ہے۔اکثر سنا جاتا ہے کہ کوئی ٹیکسی ڈرائیور اپنی گاڑی میں چھوٹ جانے والے سامان موبائل یا اوردیگر کسی چیز کو اپنے خرچے پر اس کے مالک کو ڈھونڈ کر پہنچادیتا ہے۔ عام سبزی فروش اور عام دکاندار بھی اکثر خریدار سے غلطی سے بھی زیادہ پیسے لے لیتا ہے تو گاہک کو بلاکر واپس لوٹا دیتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان کا عام شہری ایماندار ہے۔ لیکن میرے پیارے ہم وطنو! ہر ملک کی ترقی کی تاریخ میں ایسے لمحات آتے ہیں جب ایک طاقتور اور فیصلہ کن قدم کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اس ملک نے برسوں پہلے یہ بات محسوس کی تھی کہ بدعنوانی، کالا دھن، جعلی نوٹ اور دہشت گردی ایسے ناسور ہیں جو ملک کو ترقی کی دوڑ میں پیچھے دھکیل دیتے ہیں اور سماج کو اند ر ہی اندر کھوکھلا کردیتے ہیں۔

میرے پیارے ہم وطن بھائیو!

دہشت گردی کی خوفناک بربریت سے کون واقف نہیں ہے، کتنے ہی بے قصور لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے لیکن کیا آپ نے یہ بات سوچی ہے کہ ان دہشت گردوں کو پیسہ کہاں کہاں سے مہیا کرایا جاتا ہے؟ سرحد پار کے ہمارے دشمن جعلی نوٹوں کے ذریعہ، نقلی نوٹوں کے ذریعہ ہندوستان میں اپنا دھندا چلاتے ہیں اوریہ سب کچھ برسوں سے جاری ہے۔ پانچ سو اور ہزار روپے کےجعلی نوٹ کا کاروبار کرنے والے کئی بار پکڑے بھی گئے ہیں اور نوٹ بھی ضبط کیے گئے ہیں۔

بہنو بھائیو!

ایک طرف دہشت گردی اور جعلی نوٹوں کا جال ملک کو تباہ کررہا ہے اور دوسری طرف بدعنوانی اور کالے دھن کا چیلنج ملک کے سامنے کھڑا ہوا ہے۔ ہم نے اپنا کام سنبھالنے کے فوراََ بعد بدعنوانی اور کالے دھن کے خلاف لڑائی شروع کرتے ہوئے متعدد درج ذیل اقدامات کیے ہیں۔

کالے دھن کی جانچ کے لیے سپریم کورٹ کے سابق جج کی صدارت میں ایس آئی ٹی کی تشکیل۔
بیرونی ملکوں میں جمع کالے دھن کے لیے ۲۰۱۵ میں مضبوط قانون بنایا گیا۔
بیرونی ملکوں سے کالے دھن کو واپس لانے کے لیے مختلف ملکوں کے ساتھ ٹیکس معاہدوں میں تبدیلیاں کی گئیں اور نئے معاہدے کئے گئے۔
امریکہ سمیت مختلف ملکوں کے ساتھ اطلاعات ومعلومات کے باہمی تبادلے کے لیے انفارمیشن ایکسچینج کا ضابطہ وضع کیا گیا۔
بدعنوان لوگوں کے بے نامی اثاثوں کو روکنے کے لیے اگست ۲۰۱۶ میں ایک اور قانون بنایا گیا۔
اس قانون سے ایک بہت بڑے چور دروازے کو بند کردیا گیا۔
ملک میں غیر اعلان شدہ آمدنی کا پینالٹی کے ساتھ اعلان کرنے کی اسکیم میں کافی بڑی مقدار میں غیر اعلان شدہ آمدنی سامنے آئی۔

میرے پیارے ہم وطن بھائیو!

پچھلے ڈھائی برس کے دوران ان ساری کوششوں سے تقریباََ سوا لاکھ کروڑ روپے کا کالا دھن باہر آیا ہے۔ ایسے کروڑوں ہندوستانی شہری جن کی رگ رگ میں ایمانداری دوڑتی ہے ان کا ماننا ہے کہ بدعنوانی، کالا دھن، بے نامی اثاثے، جعلی نوٹ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ فیصلہ کن ہونی چاہیے۔ ملک کا ایسا کون ایماندار شہری ہوگا جسے ایسی خبروں سے اذیت نہ ہوتی ہو کہ افسروں کے گھر بستر کے نیچے سے یا جگہ جگہ بوریوں میں کروڑوں روپے پائے گئے۔

آج ملک کے کرنسی نظام کی صورتحال یہ ہے کہ کل سکوں اور نوٹوں کی قیمت میں ۵۰۰ اور ۱۰۰۰ روپے والے نوٹوں کا حصہ ۸۰ سے ۹۰ فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

ملک میں نقدی کے زیادہ سے زیادہ سرکولیشن کا سیدھا سا تعلق بدعنوانی سے ہوتا ہے۔ بدعنوانی سے کمائی گئی نقد رقم کا کاروبار بڑے اثرات مرتب کرتا ہے، جس کی مار غریبوں کو جھیلنی پڑتی ہے۔ اس کا راست اثر غریبوں اور درمیانہ درجے کے زمروں کی قیمت خرید پر پڑتا ہے۔ آپ نے خود بھی تجربہ کیا ہوگا کہ مکان یا زمین خریدتے وقت آپ سے کچھ رقم چیک میں لی جاتی ہے اور زیادہ رقم کیش میں طلب کی جاتی ہے۔ ایماندار شخص کے لیے کچھ بھی خریدنا ایک عام زمرے کے شہری کے لیے جس کے پاس کالا دھن نہیں ہے، گھر خریدنا یا کچھ بھی خریدنا مصیبت بن جاتا ہے۔ کیش کے اس دھندے کی وجہ سے مکان اور زمین کی خریداری، اعلیٰ تعلیم اور علاج معالجے جیسی متعدد خدمات اور اشیأ کی قیمتوں میں بہت زیادہ نقلی اضافہ ہوتا ہے۔

بدعنوانی سے جمع کی گئی دولت ہو یا کالا دھن یہ دونوں بے نامی اورحوالہ کاروبار پر زور دیتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ حوالہ کا استعمال دہشت گردوں نے اسلحہ کی خریداری کے لیے بھی کیا ہے اور انتخابات میں تو کالے دھن کے اثرات پر گفتگو بہت دنوں سے جاری ہے۔

بہنو بھائیو!

ملک کو بدعنوانی اور کالے دھن کی دیمک سے نجات دلانے کے لیے ایک اور سخت قدم اٹھانا ضروری ہوگیا ہے۔ آج ۸ نومبر۲۰۱۶ کی نصف شب یعنی رات بارہ بجے سے موجودہ ۵۰۰ روپے اور ۱۰۰۰ روپے کے کرنسی نوٹ لیگل ٹینڈر نہیں رہیں گے یعنی یہ کرنسیاں قانونی طور سے ناقابل قبول ہوں گی۔ ۵۰۰ روپے اور ۱۰۰۰ روپے کے پرانے نوٹوں سے لین دین کا نظام آج نصف شب سے موجود نہیں ہوگا۔

بدعنوانی، کالے دھن اور جعلی نوٹوں کا کاروبار کرنے والے ملک دشمن اورسماج دشمن عناصر کے پاس موجود ۵۰۰ اور ۱۰۰۰ روپے کے پرانے نوٹ اب کاغذ کے ایک ٹکڑے کی حیثیت سے زیادہ نہ ہوں گے۔ محنت اور ایمانداری سے کمائی کرکے اثاثے جمع کرنے والے ایماندار شہریوں کے مفادات اور حقوق کی پوری حفاظت کی جائے گی۔ یاد رہے کہ ۱۰۰ روپے، ۵۰ روپے، ۲۰ روپے، ۱۰ روپے، ۵ روپے، ۲ روپے اور ایک روپے کے نوٹ کی قانونی حیثیت قائم رہے گی اور ان کے ذریعہ لین دین قانوناََ جائز ہوگا اور اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ ہمارے اس قدم سے ملک میں بدعنوانی، کالا دھن اورجعلی نوٹوں کے خلاف لڑائی کو زبردست طاقت حاصل ہوگی۔ ان دنو ں ہم نے کچھ ایسے انتظامات کیے ہیں جن سے اہالیان وطن کو کم سے کم تکلیف کا سامنا کرنا پڑے۔ یہ اقدامات حسب ذیل ہیں۔

۵۰۰ اور۱۰۰۰ روپے کے پرانے نوٹ ۱۰ نومبر سے ۳۰ دسمبر ۲۰۱۶ تک اپنے بینک یا ڈاک خانے کے کھاتے میں بغیر کسی حد کے جمع کروائے جاسکتے ہیں۔
تقریباََ ۵۰ دنوں کا وقت ہے، اس لیے نوٹ جمع کرنے کے لیے آپ کو افراتفری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
آپ کی رقم آپ ہی کی رہے گی۔ آپ کو فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
۵۰۰ یا ۱۰۰۰ روپے کے پرانے نوٹوں کو اپنے کھاتے میں جمع کراکے اپنی ضرورت کے مطابق رقم دوبارہ نکال سکتے ہیں۔
صرف شروع کے دنوں کے لیے کھاتوں سے رقم نکالنے پر دس ہزار روپے یومیہ اور ۲۰ ہزار روپے فی ہفتہ کی حد طے کی گئی ہے۔ یہ قدم نئے نوٹوں کی دستیابی کو پیش نظررکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں وقت کی اس حد میں اضافہ کردیا جائے گا۔
کھاتے میں جمع کرنے کی سہولت کے ساتھ ساتھ ایک دوسری سہولت بھی دستیاب کرائی جارہی ہے۔
فوری ضرورت کے لیے ۵۰۰ اور ۱۰۰۰ روپے کے پرانے نوٹوں کو نئے اور تسلیم شدہ نوٹ کے ساتھ ۱۰ نومبر سے ۳۰ دسمبر تک کسی بینک یا جنرل پوسٹ آفس اور سب پوسٹ آفس کے کاؤنٹر سے اپنے شناختی دستاویز آدھار کارڈ، ووٹر آئی ڈی، راشن کارڈ، پاسپورٹ یا پین کارڈ پیش کرکے نوٹ بدلے جاسکتے ہیں۔
شروع میں دس نومبر سے ۲۴ نومبر تک ۴۰۰۰ روپے تک کے پرانے ۵۰۰ اور ۱۰۰۰ روپے کے نوٹ بدلے جاسکتے ہیں۔ پندرہ دنوں کے بعد یعنی ۲۵ نومبر سے ۴۰۰۰ روپے کی حد میں اضافہ کردیا جائے گا۔
ایسے لوگ جو موجودہ مدت کے اندر یعنی ۳۰ دسمبر ۲۰۱۶ تک کسی وجہ سے پرانے نوٹ نہیں جمع کراپائیں گے۔ ان کو ۵۰۰ اور ۱۰۰۰ روپے کے پرانے نوٹ بدلنے کا ایک آخری موقع دیا جائے گا۔
ایسے لوگ ریزرو بینک کے مقررہ دفتر میں اپنی رقم ایک اعلانیہ یعنی ڈکلریشن فارم کے ساتھ ۳۱ مارچ ۲۰۱۷ تک جمع کراسکتے ہیں۔
کچھ مقامات پر ۹ اور۱۰ نومبر کو بھی اے ٹی ایم کام نہیں کریں گے۔ شروع میں اے ٹی ایم سے ہر کارڈ پر نکالی جانے والی رقم کی حد ۲۰۰۰ روپے رہے گی۔
پھر کچھ مدت کے بعد اسے بڑھاکر ۴۰۰۰ روپے کردیا جائے گا۔

ویسے تو۵۰۰ اور ۱۰۰۰ روپے کے پرانے نوٹ آج رات بارہ بجے سے قانونی طور پر بند کردئےجائیں گے لیکن عام زندگی کی ضرورتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم نے انسانی نظریہ سے اس عمل میں ابتدا کے بارہ گھنٹوں میں یعنی گیارہ نومبر کی رات بارہ بجے تک شہریوں کے لیے کچھ خاص انتظامات کیے ہیں۔

۱۱ نومبر کی رات بارہ بجے تک سبھی سرکاری اسپتالوں میں ادائیگی کے لیے ۵۰۰ یا ۱۰۰۰ روپے کے پرانے نوٹ قبول کیے جائیں گے۔

اس کا مقصد یہ ہے کہ مریض کے علاج کے لیے اس کے کنبے کے لوگوں کو دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ایسے سرکاری اسپتالوں میں جہاں دواؤں کی دوکان ہے، وہاں ڈاکٹر کے دیے گئے پرچوں پر ۵۰۰ اور ۱۰۰۰روپے کے نوٹوں سے دوا کی خریداری کی سہولت ۷۲ گھنٹے تک دستیاب رہے گی۔

اسی طرح ۱۱ نومبر کی رات بارہ بجے تک ریلوے کے ٹکٹ بکنگ کاؤنٹروں، سرکاری بسوں کے ٹکٹ بکنگ کاؤنٹروں اورہوائی اڈوں پر ایئر لائنس کے ٹکٹ بکنگ کاؤنٹروں پر ٹکٹ خریدنے کے لیے ۵۰۰ اور ۱۰۰۰ روپے کے پرانے نوٹ قبول کیے جانے کی رعایت ہوگی۔ یہ قدم ان کنبوں کی ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے جو اس وقت سفر کررہے ہوں گے۔

ضروری اشیا فروخت کرنے والی مرکز اور ریاستی سرکار کی تصدیق شدہ کوآپریٹو کی دوکانوں پر مثلاََ دودھ فروخت کرنے والے سینٹروں میں بھی ۱۱ نومبر کی رات ۱۲ بجے تک ۵۰۰ اور ۱۰۰۰ روپے کے پرانے نوٹ قبول کرنے کی چھوٹ ہوگی۔ اس دوران ان اداروں کو روزانہ اپنے اسٹاک اور فروخت کی تفصیلات رجسٹرمیں تحریر کرنی ہوں گی۔

پبلک سیکٹر کے پٹرول اور سی این جی، گیس اسٹیشنوں (ریٹیل آؤٹ لیٹس ) پر پٹرول، ڈیزل اور سی این جی گیس کی فروخت کے لیے بھی ۱۱ نومبر کی رات ۱۲ بجے تک ۵۰۰ اور ۱۰۰۰ روپے کے پرانے نوٹ قبول کیے جانے کی سہولت دستیاب ہوگی۔ اس مدت میں اپنے اسٹاک اور فروخت کی تفصیلات اپنے رجسٹر میں تحریر کرنی ہوں گی۔

مردوں کی آخری رسم / کریمے ٹوریم جیسے مقامات پر بھی ۱۱ نومبر کی رات ۱۲ بجے تک ۵۰۰ اور۱۰۰۰ روپے نوٹ قبول کرنے کی سہولت دستیاب ہوگی۔

بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر بیرونی ملکوں سے آنے یا بیرون ملک سفر کرنے والے لوگوں کے پاس اگر ۵۰۰ یا ۱۰۰۰ روپے کے نوٹ ہوں گے تو ایسے نوٹوں کی ۵۰۰۰ روپے تک کی رقم کو نئی اور تسلیم شدہ کرنسی کے نوٹوں میں بدلنے کی سہولت دی جائے گی۔

بین الاقوامی سیاحوں کو بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر غیرملکی زر مبادلہ یا ۵۰۰ روپے تک کے پرانے نوٹوں کو نئی اور تسلیم شدہ کرنسی کے نوٹوں میں بدلنے کی سہولت دی جائے گی۔

ان تمام سہولیات کے علاوہ میں یہ وضاحت بھی کرنا چاہوں گا کہ اس پورے عمل میں نان کیش لین دین یعنی چیک سے پیمنٹ، ڈیمانڈ ڈرافٹ سے پیمنٹ، ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ سے پیمنٹ اور الیکٹرانک فنڈ ٹرانسفر میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔ یہ کاروبار بدستور جاری رہیں گے۔

ان سارے انتظاما ت کے باوجود ہمارے ایماندار ہم وطنوں کو اگر تکلیف کا سامنا کرنا پڑا تو تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اس دیش کا عام شہری ملک کی بھلائی کے لیے قربانی دینے اور دشواریاں برداشت کرنے میں کبھی پیچھے نہیں رہتا۔ جب سنا جاتا ہے کہ کوئی غریب بیوہ ایل پی جی سبسڈی سے دستبردار ہونے کے لیے آگے آتی ہے یا ایک ریٹائرڈ اسکول ٹیچر اپنی پنشن سے سؤچھ بھارت کے خزانے میں رقم جمع کرنے کے لیے آگے آتا ہے تو یہ قربانی کا جذبہ اس میں بھی محسوس ہوتا ہے۔ غریب قبائلی ماں اپنی بکری بیچ کر حاصل سرمایہ بیت الخلأ کی تعمیر میں لگا دیتی ہے۔ ایک فوجی اپنے گاؤں کو صاف ستھرا بنانے کے لیے ۵۷ ہزار روپے کا عطیہ دینے کے لیے آگے آتا ہے تو نظر آتا ہے کہ ملک کے ہر شہری کی تمنا یہ ہے کہ وہ ملک کی فلاح کے لیے کچھ بھی کرگزرنے کے لیے تیار ہے۔

اس لیے بدعنوانی، کالا دھن، جعلی نوٹ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کچھ دنوں کے لیے تھوڑی سی تکلیفیں تو برداشت کی ہی جاسکتی ہیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ملک کا ہر شہری بدعنوانی کے خلاف اس عظیم مہم میں ہمارے ساتھ مل کر کھڑا ہوگا۔

دیوالی کے تہوار کے بعد اب ایمانداری کے اس میلے میں صداقت کے اس تہوار میں آپ بڑھ چڑھ کر ہاتھ بٹائیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ملک کی سبھی سیاسی پارٹیاں، سیاسی ورکر، سماجی اور تعلیمی ادارے اور میڈیا سمیت سماج کے سبھی طبقے اس عظیم کام میں سرکار سے بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔ مثبت کردار ادا کریں گے اور اس مہم کو کامیاب بناکر ہی دم لیں گے۔

میرے پیارے ہم وطنو!

جب یہ باتیں میں آپ کے سامنے پیش کررہا ہوں، اسی وقت سرکار کے مختلف محکموں کو بھی ان اقدامات کا علم ہورہا ہے۔ بینک ہو، پوسٹ آفس ہو، ریلوے ہو یا اسپتال ہو، ان کے افسران کو بھی اس سے پہلے اس سلسلے کی کوئی معلومات نہیں ملی ہے کیونکہ اس کام میں رازداری از حد لازمی ہوتی ہے۔ ایسی صورتحال میں ریزروبینک، سبھی بینک اور پوسٹ آفسوں کو بہت کم وقت میں یہ سارے انتظامات کرنے ہیں۔ ان تمام اقدامات میں کچھ وقت تو لگے گا۔ اس لیے ریزرو بینک نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ۹ نومبر کو سبھی بینک صارفین کے کاموں کے لیے بند رہیں گے۔ شہریوں کو کچھ دشواریاں تو ہوں گی لیکن مجھے پورا بھروسہ ہے کہ بینک اور پوسٹ آفس میں کام کرنے والے سبھی ساتھی ملک و قوم کے مفاد میں اس مقدس کام کو کامیابی کے ساتھ پورا کریں گے۔ انہوں نے ماضی میں بھی یہ سب کچھ کرکے دکھایا ہے۔ میری عوام الناس سے اپیل ہے کہ سبھی شہری تحمل کے ساتھ سبھی بینکوں اور پوسٹ آفس کے افسران کے ساتھ تعاون کریں۔

بہنواوربھائیو !

ریزرو بینک مرکزی سرکار کی منظوری سے کرنسی کے انتظام و انصرام کو پیش نظر رکھتے ہوئے وقتاََ فوقتاََ نئے اور زیادہ قیمت کے نوٹ سرکولیشن میں لاتا رہتا ہے۔ ۲۰۱۴ میں ریزرو بینک نے ۵۰۰۰ اور ۱۰۰۰۰ روپے کے کرنسی نوٹوں کی تجویز سرکار کو بھیجی تھی جسے ہماری سرکار نے غوروخوض کے بعد نامنظور کردیا تھا۔ اب اس پورے عمل میں ریزروبینک کے ذریعہ پیش کی جانے والی ۲۰۰۰ روپے کے نوٹ کی تجویز کو منظور کرلیا گیا ہے۔ اب پوری طرح سے نئے طور پر ڈیزائن کیے ہوئے ۵۰۰ روپے اور ۲۰۰۰ روپے کے نئے نوٹ سرکولیشن میں لائے جائیں گے۔ ریزرو بینک اس سلسلے میں اپنے سابقہ تجربات کے پیش نظر کرنسی سرکولیشن میں زیادہ قیمت کے نوٹوں کا حصہ ایک حد کے اندر رکھنے کے لیے ضروری انتظامات کرے گا۔

میرے پیارے ہم وطن بھائیو!

میں یہ بات دہرانا چاہتا ہوں کہ کسی بھی ملک کی تاریخ میں ایسے لمحے آتے ہیں جب ہر شخص یہ محسوس کرتا ہے کہ اسے بھی اس لمحے کا حصہ بننا چاہیے۔ اسے بھی ملک کے مفاد میں قوم کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ لیکن ہر ایک کی زندگی میں یہ لمحات گنے چنے ہی ہوتے ہیں۔ آج وقت ہمیں ایک بار پھر یہ موقع فراہم کررہا ہے۔ ہر عام شہری بدعنوانی، کالا دھن اور جعلی نوٹ کے خلاف بدعنوانی کے خلاف اس عظیم مشن میں اس لڑائی میں اپنی خدمات پیش کرسکتا ہے۔

بہنو اور بھائیو!

آپ سے اس عمل میں جتنا تعاون ملے گا صفائی کا عمل اتنا ہی کامیاب رہے گا۔ ملک و قوم کے لیے یہ بات باعث تشویش تھی کہ بدعنوانی اور کالے دھن کو زندگی کے عام حصے کے طور پر تسلیم کرلیا گیا ہے۔ آج یہ سوچ ہماری سیاسی، سماجی اور انتظامی زندگی کو دیمک کی طرح کھائے جارہی ہے۔ انتظامیہ کا کوئی بھی حصہ اس دیمک سے محفوظ نہیں رہا ہے۔

ہم نے وقت وقت پر دیکھا ہے کہ ہندوستان کے عام شہری کو اگر بدعنوانی اور کچھ دنوں کی دشواری میں سے کسی ایک کو چننا ہو تو میرے ملک کا وہ ایماندار شہری دشواری اور عدم سہولت کو تو چنے گا لیکن بدعنوانی کو پوری طرح خارج کردے گا۔

میں آپ سے ایک بار پھر یہ گذارش کرتا ہوں کہ جیسے آپ نے دیوالی کے تہوار پر اپنے گھر اور آس پاس کی صفائی کی تھی اسی طرح صفائی کے کام کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم اس عظیم مشن کو اپنے تعاون سے کامیاب بنائیں۔ اتنے بڑے ملک میں اتنی بڑی صفائی کے تہوار میں دشواریوں کو نظر انداز کرتے ہوئے آئیے سبھی دیوالی منائیں۔ پوری دنیا کو ہندوستان کی اس ایمانداری کا میلہ دکھائیں۔ پورے ملک میں صداقت کا تہوار منائیں اور بدعنوانی پر لگام لگا سکیں۔ کالے دھن پر نکیل کسی جاسکے۔ جعلی نوٹوں کا کھیل کھیلنے والوں کو نیست و نابود کیا جاسکے تاکہ ملک کا سرمایہ ملک کے غریبوں کے کام آسکے۔ ہر ایماندار شہری کو ملک کی خوشحالی میں اس کی معقول حصہ داری حاصل ہوسکے۔ آنے والی نسل فخر کے ساتھ اپنی زندگی جی سکے۔ میں آپ سب کے تعاون کے لیے پورے یقین و اعتماد کے ساتھ سواسو کروڑ ہم وطنو کی مدد سے بدعنوانی کے خلاف اس لڑائی کو اور آگے لے جانا چاہتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کاساتھ اور آپ کا تعاون آنے والی نسلوں کے لئے حوصلہ افزا ثابت ہوگا۔ میں ایک بار پھر تہ دل سے ممنون ہوں ۔‘‘

’’بھارت ماتا کی جے! ‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *