پی ایم میاں بیوی نہیں ملک کے مسائل سلجھائیں: بلیاوی

جنتادل متحدہ کے سینئر لیڈر اور بہار قانون ساز کونسل کے رکن مولانا غلام رسول بلیاوی نے کہاکہ مسلم پرسنل لاء کا تحفظ صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ ملک کے آئین کے تحفظ کا بھی مسئلہ ہے
sharita-confrence
بڑکاگاؤں میں قومی اتحاد مورچہ کے زیر اہتمام شریعت بچاؤ کانفرنس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی

بڑکا گاؤں،ہزاری باغ(نامہ نگار):
وزیر اعظم نریندر مودی میاں بیوی کے آپسی اختلافات کے بجائے ملک کے مسائل سلجھانے پر توجہ دیں۔ انہیں لوگوں نے اپنے گھریلو جھگڑے نمٹانے کے لیے مرکزی حکومت نہیں سونپی ہے، بلکہ ملک سے غریبی ،بے روزگاری اور دہشت گردی جیسے ناسور کو ختم کرنے کی ذمہ داری دی ہے۔ یہ باتیں مولانا غلام رسول بلیاوی نے یہاں ’شریعت بچاؤ کانفرنس ‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم پرسنل لاء میں کسی بھی طرح کی مداخلت قابل قبول نہیں ہے، اور یہ صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ ملک کے آئین کی حفاظت کا بھی مسئلہ ہے۔ بہار قانون ساز کونسل کے رکن اور جنتادل متحدہ کے سینئر لیڈر نے کہا کہ وہ ملک کے آئین کا احترام کرتے ہیں۔ اس کی حفاظت کے لیے اپنا تن من دھن سب کچھ لٹادینے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ملک کے آئین نے ہرایک شہری کو اپنی مرضی کے مطابق مذہب اختیار کرنے اور اس پر عمل کرنے کی آزادی دی ہے۔ اس لیے جہاں وہ شریعت کے تحفظ کے لیے اپنی مہم جاری رکھیں گے، وہیں آئین پر بھی کسی طرح کی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ ghulam-rasul
مولانا غلام رسول بلیاوی نے اس کے ساتھ ہی سیکولر پارٹیوں خاص طور سے کانگریس اور راشٹریہ جنتادل کے لیڈروں سے سوال کیا کہ وہ مسلم پرسنل لاء اور یکساں سول کوڈ کے بارے میں اپنے اپنے موقف کا اظہار کیوں نہیں کرتے؟ انہوں نے کہا کہ سونیا گاندھی ، لالو پرساد یادو اور شرد پوارجیسے لیڈران اس معاملے میں خاموش ہیں جبکہ جنتادل متحدہ کے لیڈر اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار بہت پہلے کہہ چکے ہیں کہ عدالت کسی کے مذہبی امور میں مداخلت نہیں کرسکتی۔
قومی اتحاد مورچہ کے زیر اہتمام ’شریعت بچاؤ کانفرنس‘ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا غلام رسول بلیاوی نے مزید کہا کہ مسلم پرسنل لاء ہر حال میں محفوظ رہنا چاہیے، اس میں کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مرکزی حکومت سے کہا کہ تین طلاق کے معاملے میں اس نے جو سپریم کورٹ میں اپنا حلف نامہ دائر کیا ہے اس کو فوری طور پر واپس لے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی امور میں مداخلت کو روکنے کے لیے اگر انہیں جیل بھرو تحریک چلانے سے لے کر نئی دہلی کے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال تک پر بیٹھنے کی ضرورت پڑی تو وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
مولانا غلام رسول بلیاوی نے وزیر اعظم مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں ہٹلر کا نہیں بلکہ گاندھی کا ملک چاہیے۔ ملک سے دہشت گردی اور انتہاپسندی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ بے روزگاری کو ختم کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ ملک کو ترقی اور خوشحالی کے راستے پر لے جانے کے لیے منصوبہ بندی اور اس پر عمل آوری ہونی چاہیے۔ اس کے لیے جہاں ملک کے اندر امن وامان کا ماحول بنائے رکھنے کی ضرورت ہے وہیں سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں کو بھی روکنا ضروری ہے۔ انہوں نے اس کے ساتھ ہی پاکستان پر سرحد پار سے دہشت گردانہ سرگرمیوں کو بڑھاوا دینے کا الزام لگایا اور کہا کہ وہ اپنے گھناؤنے کام کو بند کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کبھی بھی ہندوستان کو تقسیم کرنے کے اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہوگا۔
کانفرنس سے قومی اتحاد مورچہ کے ضلع صدر فیروز خلیفہ عرف راجہ نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام ایک مکمل دین ہے اور اس کے قانون میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ کانفرنس میں نظامت کے فرائض فخر عالم بلیاوی نے انجام دیے ۔ شریعت بچاؤ کانفرنس میں بڑی تعداد میں مرد وخواتین نے شرکت کی ۔ ان میں مفتی محمد شمس الدین، حافظ تسلیم عارف، حاجی تبسم، حافظ شرافت مہدی، مولانا اظہر الطاف، غلام مصطفی، مولانا عبدالکلام، مولانا یونس سلیم، مولانا ہاشم رضا، انور حسین، محمد تسلیم اور حنظلہ ہاشمی کے نام اہم ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *