معذوروں کا ضلع بنتا جا رہا ہے پونچھ

Basharat Hussain Shah 1 سید بشارت حسین شاہ
جس انداز سے سال۲۰۱۵ ء کا اختتام اور سال۲۰۱۶ء کا آغاز ہوا ہے ا س کو ہندوستانی قوم ایک زمانہ تک چاہتے ہوئے بھی بھول نہیں پائے گی،کیونکہ پٹھان کوٹ حملہ نے نہ صرف ہمارے فوجیوں کی جان لی ہے اور انہیں زخمی کیا ہے بلکہ اس سانحہ نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے باشندگان کے دلوں کو مجروح کیا ہے ، اس حادثہ نے ہندوستانی چمن کے ہر پھول کی رنگت کوختم کر کے ان کی خوشبو چھین لینے کی کوشش کی ہے جس کے لیے رہتی دنیاتک اس کے گنہگاروں کو معاف نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ہم سرحدی باشندگا ن اس درد کو دوسروں سے زیادہ بہتر سمجھ سکتے ہیں، کیونکہ بچپن سے اس طرح کے حالات دیکھتے ہوئے جوان ہوتے ہیں۔ہم نے دیکھا ہے کہ کئی جوانوں کو اس سرحدی لکیر نے ناگن کی طرح ڈس کر ابدی نیند کی اس آغوش میں پہنچادیا ہے، جہاں سے آج تک کوئی واپس نہیں آپایا۔ ہزاروں مائیں اور بہنیں اپنے جگر گوشوں اور بھائیوں کی آمد کاراستہ آج بھی دیکھ رہی ہیں۔
ریاست جموں و کشمیرکی سرمائی راجدھانی جموں سے تقریباً ۲۳۸؍ کلومیٹر کی دوری پر آباد ضلع پونچھ وقتاً فوقتاً ہند و پاک کی طاقت آزمائی کی وجہ سے سرخیوں میں رہتا ہے۔ سال۲۰۱۳ء میں لائن آف کنٹرول پر ہندوستانی فوجیوں کا قتل ، ۲۰۱۴ء کا قیامت خیز سیلاب، اگست ۲۰۱۵ء میں ضلع کے علاقہ بالاکوٹ میں سات عام شہری گولیوں کی زد میں آکر لقمۂ اجل بنے ۔ حالانکہ ۲۰۰۶ء میں وزارتِ پنچایتی راج نے ضلع پونچھ کو ہندوستان کے ۲۵۰پسماندہ اضلاع کی فہرست میں شمار کیا تھا مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنی پسماندگی کے باوجود ہمارا ضلع عالمی سطح پر اپنی پہچان بنائے ہوئے ہے ۔ضلع پونچھ تین اطراف سے لائن آف کنٹرول سے گھرا ہوا ہے ۔ضلع کی بیشتر پنچایتیں ایل اوسی پر آباد ہیں جس کاخمیازہ یہاں کے عوام بھگت رہے ہیں۔بالاکوٹ، بھروتی، دھراٹی، ناڑ بلنوئی،سلوتری،گلپور،کھڑی،چکاندا باغ، دیگوار، بغیالدرہ، ملدیال، ڈھوکڑی، کرنی، مندھارگونتریاں،شا ہ پور،بروڑ،سرل،گلی پنڈی،نورپور،ساوجیاں،گگڑیاں ،بریاڑی اور دیگر کئی علاقہ جات اس سرحدی لکیر پر آباد ہیں جس کی وجہ سے مقامی باشندوں میں سے اکثر کوئی نہ کوئی اپنے جسم کے اعضاء گنواتے ہیں بلکہ بعض دفعہ تو انہیں اپنی جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑجاتا ہے۔ یہاں کٹے پھٹے جسم،خون، لاشیں یہ سب ایک عام سی بات ہو گئی ہے۔ pic for both articles (1)ایسا لگتا ہے کہ دنیا کے اس گوشے میں انسان کی قدر و قیمت ختم ہوگئی ہے ۔توپوں اور گولیوں کے نشان ،آہ و فغاں پر مر ہم لگانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے ۔بالاکوٹ سے لے کر چکاند اباغ،کرنی مندھار اور ساوجیاں سیکٹر تک معذوروں کی ایک بارات ہے ۔معذوروں کی یہ بارات دونوں ملکوں کی کرم فرمائیوں کا نتیجہ ہے ۔کہیں مائن بلاسٹ،کہیں گولیاں،کہیں مارٹر شیل، جس کی وجہ سے معصوم لوگ اپنے جسم کے قیمتی اعضاء گنوارہے ہیں۔کسی کی کٹی ٹانگیں،کسی کے بازو ،کسی کی آنکھیں ناکارہ اور کوئی دیگر اعضاء سے اپنے ہاتھ دھو بیٹھا ہے ۔ایسے لوگ صرف اور صرف اپنے اہل و عیال پر ہی انحصار کرتے ہیں جبکہ حکومت کی طرف سے ان کی مالی امداد کے طور پر محض چار سو روپے ماہانہ پنشن ہے ۔ مہنگائی کے اس دور میں ایک آدمی کے لیے چار سو روپے کس حد تک کافی ہیں یہ اندازہ لگانا مشکل نہ ہوگا ۔جب راقم نے محکمۂ فلاح و بہبود کے ضلع آفس پونچھ سے معذور لوگوں کے متعلق بات کی توذمہ داروں کا یہ جواب تھا: ’’ہمارے پاس معذوروں کے لیے صرف پنشن ہے جو ہم معذوروں کو دیتے ہیں ۔‘‘جب محکمہ سے دریافت کیا گیا کہ آپ کیا معذور عورتوں کو سلائی مشین مہیا نہیں کر اسکتے؟ تو جواب ملا : ’’نہیں، ہمارے پاس صرف پنشن ہے پہلے مشینیں بھی تھیں لیکن عرصہ دراز سے وہ بھی نہیں ہیں ۔‘‘ محکمۂ سماجی فلاح و بہبود بھی ایسے معذور افراد کو بالخصوص معذور خواتین کو ایک سلائی مشین مہیا نہیں کر سکتا۔ رہی بات پنشن کی تو مینڈھیر بلاک کے گاؤں چھترا ل کی ایک معذور عورت کی زلیخا بی کہتی ہیں: ’’پنشن صرف چار سو روپے ملتی ہے اور وہ بھی تین تین چار چار مہینے کے بعد۔ ‘‘ تحصیل منڈی کے گاؤں اڑائی کے معذور باشندے عبد الباقی اس ضمن میں کہتے ہیں ’’چار چار ماہ کے بعد پنشن ملتی ہے وہ بھی بینک سے جا کر لینی پڑتی ہے ،ہمارے لیے بینک تک پہنچنا بھی اتنا آسان نہیں ہے۔ ہمیں بازار ،ہسپتال، بینک تک پہنچنے کے لیے ایک مزدور کی ضرورت ہوتی ہے جو ہمیں اٹھا کر لے جاسکے۔جس کی مزدوری بھی چار سو روپے ہوتی ہے ‘‘ یعنی چار سو روپے پنشن کے لیے چار سو روپے کا مزدور بھی درکار ہوتا ہے کیونکہ ہم اتنے معذور ہیں کہ خود چل کر جانا مشکل ہے۔ ‘‘
ضلع پونچھ کی تقریباً تمام تحصیلوں میں معذور افراد موجود ہیں۔ جب اس سلسلے میں ضلع کی تحصیل منڈی کی پنچایت ساوجیاں کے سرپنچ محمد بشیر سے بات کی گئی تو انہوں بتایا :’’ میری پنچایت کے ایک ہی وارڈ نمبر چار میں ۱۵؍سے ۲۰؍ افراد ایسے ہیں جو سننے کی قوت نہیں رکھتے ‘‘۔ تحصیل مہنڈر کے علاقہ بالا کوٹ میں پنچایت ناڑ کے سرپنچ آفتاب احمد خان نے بتایا :’’ میری پنچایت میں کل پانچ معذور افراد ہیں جن میں سے ایک شحص سو فیصد معذور ہے۔‘‘ تحصیل سرنکوٹ کی پنچایت ہاڑی اپر کے سرپنچ محمد جاوید نے بتایا :’’ میری پنچایت میں ۲۲؍ افراد معذور ہیں ۔‘‘ اس کے علاوہ تحصیل منڈی کی پنچایت گگڑیاں کے سرپنچ خلیل احمد کے مطابق’’ میر ی پنچایت میں کل دس معذور ہیں۔‘‘
اتنا سب کچھ ہو نے کے باوجود ضلع پونچھ میں ایسے معذور افرادکے لیے کوئی بھی ایسا مرکز نہیں ہے جہاں ان کا علاج کروایا جا سکے ،کوئی ایسی سہولت نہیں جہاں معذور افراد کو مصنوعی آلات لگائے جا سکیں ۔ ضلع کپواڑہ کے ایک سرحدی گاؤں ’’درد پورہ‘‘ کو بے شمار بیواؤں کی وجہ سے ’’بیواؤں کا گاؤں‘‘کہا جاتاہے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے خوبصورت اور تاریخی ضلع پونچھ کو’’معذوروں کا ضلع‘‘کہاجانے لگے۔اگر ایسا ہوا تو یہ مشہور ادیب کرشن چندر اور سابق وزیر اعظم گلزاری لال نندا کی توہین ہوگی۔کیونکہ ان دونوں شخصیتوں کا تعلق اسی سرحدی ضلع سے ہے ۔

(چرخہ فیچرس)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *