سیلاب آنے سے پہلے پل بنا لیں

Dr. Tasleem Rahmaniڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی

۳۱؍ مارچ ۲۰۱۶ء کو سپریم کورٹ نے حکومت کو حکم دیاہے کہ زبانی طلاق، طلاق ثلاثہ اورتعددازواج کے سلسلے میں رپورٹ کو چھ ہفتے کے اندر عدالت کے سامنے پیش کرے۔ یہ حکم اتراکھنڈ کی ایک خاتون سائرہ بانوکی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے دیاگیا۔سائرہ بانونے اپنی عرضی میں عدالت سے درخواست کی ہے کہ اس کے شوہر نے اسے ایک ہی نشست میں تین طلاقیں دے دی ہے جو کہ خلاف قرآن ہے لہٰذااسے انصاف دلوایاجائے۔واضح رہے کہ سابقہ یوپی اے حکومت نے فروری ۲۰۱۲ء میں وزارت خواتین اوربہبود اطفال کے تحت ایک چودہ رکنی کمیٹی رام راجپوت (ڈائریکٹرسینٹر فار ویمن اسٹڈیز ،پنجاب یونیورسٹی)کے زیرنگرانی قائم کی تھی جس کا مقصدحکومت کو طلاق ثلاثہ اورتعدد ازواج کے بارے میں مشورہ دیناتھا۔گذشتہ سال اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کردی تھی ۔حالانکہ اس رپورٹ کو ابھی عام نہیں کیاگیاہے لیکن باوثوق ذرائع کے مطابق اس کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ طلاق ثلاثہ اورتعدد ازواج پر پابندی لگائی جائے۔اس کمیٹی نے یہ سفارش بھی کی ہے کہ زبانی طلاق اوریکطرفہ طلاق پر بھی پابندی عائد کی جائے۔سپریم کورٹ نے حکومت ہند سے یہی رپورٹ طلب کی ہے ۔اس رپورٹ کی طلبی کا واضح مقصد یہ ہے کہ عدالت اس رپورٹ کو قبول کرنے کیمنشاء رکھتی ہے ۔اس دوران ملک میں عام طور پر یہ بحث ہوتی رہی ہے کہ مسلم خواتین سے متعلق قانون میں ترمیم کی جائے۔یکساں سول کوڈ کی بحث بھی بہت پرانی اورطویل بحث ہے۔ملک کا ایک بڑاطبقہ مسلم خواتین سے متعلق قوانین پر بحث اورتبدیلی کے مطالبہ کی آڑ میں یکساں سول کوڈ کی وکالت کرتا رہاہے۔ایسے میں مسلم تنظیموں اورمسلم اکابرین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس جانب توجہ دیں۔اس سے پہلے کہ حکومت اپنی مرضی سے مسلم قوانین میں خلاف قرآن و شریعت ترمیم کر کے ۱۹۳۷ء کے شریعت ایکٹ کو نئی صورت میں پارلیمنٹ میں پیش کرکے اسے پاس کروالے اورپھر مسلمانوں کو اسے ماننے پر مجبور کردے،مسلم ارباب حل وعقد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ معاملے کی نوعیت اورسنگینی پر سنجیدہ غور کریں اورخود اپنی جانب سے مبنی برقرآن واحادیث تجاویز حکومت ہند کو پیش کریں۔

۷؍اپریل ۱۹۷۳ء کو آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ وجود میںآیاتھا۔اس کا مقصدشریعت اسلامی کی بقاوتحفظ تھا۔بورڈ اس وقت وجود میںآیاجب حکومت ہند متبنیٰ بل کو پاس کرانے کے لیے اسلامی قوانین سے صرف نظر کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں بل لارہی تھی۔ مسلمانوں نے اس کی شدید مخالفت کی اورایک منظم تحریک کے ذریعے اپنے آپ کو متبنیٰ بل سے مستثنی کروالیاتھا۔بورڈ کے قیام کے بعد یہ پہلی تحریک تھی جس نے شریعت اسلامیہ میں حکومت ہند کی دست درازی کو کامیابی سے روکاتھا۔اس کے بعد شاہ بانوکیس میں بھی سپریم کورٹ نے خلاف شریعت ایک فیصلہ دیاجس کے نتیجے میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کو ایک زبردست عوامی تحریک چلانی پڑی اوربالآخر پارلیمنٹ کے ذریعے ہی اس فیصلے کے اطلاق کو روکاگیااورایک نیاقانون بناناپڑا۔اس تمام عرصے میں بہت سے مسلم دانشوروں اورعلماء کی جانب سے یہ مطالبہ اٹھتارہاہے کہ عائلی قوانین سے متعلق مسلم لاء کی تدوینکی جائے اوراسے پارلیمنٹ سے پاس کرواکے تمام عدالتوں کو اس کا پابند بنایاجائے۔جس طرح جواہر لال نہرو نے ۱۹۵۴ء میں ہزار مخالفتوں کے باوجود ہندو کوڈ بل پاس کرواکے ہمیشہ کے لیے ہندو عائلی قوانین کو منظور کروالیا تھا۔

اس مطالبے کو لے کر مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ارکان بورڈ کے اندر بھی اصرار کرتے رہے ہیں اوربورڈ کے باہر بھی مسلم دانشوروں نے متعدد بار یہ مطالبہ دہرایاہے اورچونکہ مسلم پرسنل لاء بورڈ ہی کو مسلمانوں کا متحدہ، متفقہ اورمشترکہ پلیٹ فارم سمجھاجاتاہے ،اس لیے ایسا مطالبہ کرنے والوں کی نظریں بھی بار بار بورڈ کی جانب ہی اٹھتی ہیں کہ بورڈ ایک بار مسلم لاء کی تدوین کرکے اس سلسلے میں اٹھنے والے تنازعات کو ہمیشہ کے لیے ختم کردے۔۲۰۱۲ء میں نئی دہلی میں ایک بہت بڑی کانفرنس کرکے ملک کی نامور مسلم شخصیات اورمسلم ماہرین قانون نے بھی یہ مطالبہ کیاتھا۔ مثلاً مدراس ہائی کورٹ کے جسٹس جی ایم اکبر علی نے اسی کانفرنس میںیہ کہاتھاکہ قرآن واحادیث اوردیگر مذہبی کتابوں پر مشتمل قوانین کی تدوین کی جانی چاہیے۔معروف دانشور اصغر علی انجینئر نے بھی اس کی حمایت کی تھی۔معروف قانون داں اورمسلم مجلس مشاورت کے سابق صدرسید شہاب الدین بھی باربار اس پر اصرار کرتے رہے ہیں لیکن بورڈ کے ارباب حل وعقد نہ تو واضح طور پر اس کا انکار کرتے ہیں اورنہ مسلم لاء کی تدوین کی جانب عملی اقدام کرتے ہیں جس کے نتیجے میں عدالتوں کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ خلاف شریعت فیصلے دیتی رہیں اورشریعت متین کا مذاق اڑایاجاتارہے ،نیز اسلام دشمن عناصر کو اس بہانے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی بحث تازہ کرنے کا موقع ملتارہے۔ابھی حال ہی میں بہت سی مسلم خواتین نے ایک تحریری عرض داشت کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ وہ طلاق ثلاثہ پر پابندی لگائے اورجائیداد میں عورتوں کی برابر کی حصہ داری کے غیر شرعی حق کو تسلیم کرے نیز تعدد ازواج پربھی پابندی لگائے۔اسی طرح اتراکھنڈ کی ایک خاتون نے حال ہی میں یہ الزام لگایاہے کہ پہلے تو اس کا شوہر اس کے ساتھ مارپیٹ کرتارہااوربعد میں اسے ایک ہی نشست میں تین طلاق دے کر دربدر کردیاجو قرآنی احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے لہٰذااسے انصاف دلایاجائے ۔سائرہ بانو کی اس عرضی نے ایک بار پھر مروجہ اسلامی عائلی قوانین پر سوالیہ نشان کھڑاکردیاہے۔ اور سپریم کورٹ اور حکومت ہند دونوں کو موقع فراہم کر دیا ہے کہ وہ مسلم عائلی قوانین کی بحث کو تازہ کر دے۔

یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ہندوستانی مسلم خواتین کی اکثریت اس قسم کی طلاق کے خلاف ہے اورتعدد ازواج کو بھی پسند نہیں کرتیں۔ لیکن مسلم ادارے ،انجمنیں اورتنظیمیں اپنی آبادی کی اس نصف حصے کی خواہشات کو شریعت کی آڑ میں ہمیشہ نظر انداز کرتی رہی ہیں۔یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ قرآن میں سورہ نساء کی آیات کے مطابق ایک نشست میں تین طلاق کا وجوب ثابت نہیں ہے ۔تین طلاقیں تین مختلف طہر میں مصالحت کی کوششوں کے بعدہی واقع ہوتی ہیں لیکن ہندوستان میں اس طریقے پر عمل نہیں کیاجاتااورایک ہی بار میں زبانی طور پر تین بار طلاق طلاق طلاق کا لفظ دہرادینے سے طلاق تسلیم کرلی جاتی ہے حتی کہ نشے اورغصے کی حالت میں بھی اسے جائز ماناجاتاہے ۔کچھ علماء نے تو صرف نیت کرلینے پر بھی طلاق کو جاری مان لیا۔ان حالات میں ہندوستان میں طلاق مسلم خواتین کے لیے ایک عذاب بن چکی ہے جس کا قرآن سے بھی کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ایسے میں اگر مسلم خواتین اور دیگر دانشور طبقے یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ طریقۂ طلاق کو قرآن کی طرف لوٹایاجائے تو اس میں کیاحرج ہے۔واضح ہوکہ بورڈ کے ایک سابق سکریٹری مولاناعبدالرحیم قریشی مرحوم نے بھی اپنے انتقال سے کچھ عرصہ قبل یہ بیان دیاتھاکہ ایک نشست کی طلاق ثلاثہ ایک مجرمانہ عمل ہے ،مگر ہم اسے روکنے پر قادر نہیں ہیں۔یہ حیرت انگیز اورعجیب وغریب بات ہے کہ خود بورڈکے ذمہ داران طلاق کے اس طریقے کو براسمجھتے ہوئے بھی اسے روکنے پر اپنی معذوری ظاہر کرتے ہیں۔اگر بورڈ اسلامی شریعت کے قرآنی نفاذ میں اتناہی مجبوروبے بس ہے تو بورڈ کے وجود کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔امرواقعہ یہ بھی ہے کہ اسی بورڈ میں اہل حدیث اورشیعہ حضرات بھی شریک ہیں جن کے مسلک میں اس قسم کی طلاق رائج نہیں ہیں مگر وہ بھی محض بورڈ کی اپنی رکنیت کو بچائے رکھنے کی خاطر اس معاملے پر خاموش رہتے ہیں۔واضح رہے کہ دنیاکے بیشترمسلم ممالک طلاق کے اس طریقے کو اپنے یہاں منسوخ کرچکے ہیں۔وہ کون سی مصلحتیں ہیں جو ہندوستان میں اسے منسوخ نہیں ہونے دیتیں۔

اسی طرح تعددازواج کا مسئلہ بھی قابل بحث ہے۔قرآن نے جہاں ایک سے چار تک شادیوں کی اجازت دی ہے وہیں اسے انصاف کے ساتھ مشروط بھی کیاہے اورایک ہی شادی کو احسن بھی قرار دیاہے ۔اسی شرط کی وجہ سے دنیاکے بہت سے مسلم ممالک نے تعدد ازواج کو مشروط قرار دے رکھاہے۔ہندوستان میں بھی اس تعلق سے کچھ ایسی شرائط لاگوکی جاسکتی ہیں جن کے ذریعے مسلم مرد کو تعددازواج پر عمل کرتے ہوئے بھی اعتدال اورانصاف قائم کرنے پر مجبور کیاجاسکے اورمسلم خواتین کے حقوق کا تحفظ کیاجاسکتا ہے۔یہی مسئلہ جائیداد کے تعلق سے بھی موجود ہے۔ملک کے اکثر مقامات پر عورتوں کو ان کے شرعی حصے سے محروم کردیاجاتاہے اوردلیل یہ دی جاتی ہے کہ ہم نے جہیز دے دیاہے اس لیے اب شرعی حصے کی ضرورت نہیں رہی،یہ مسلم خواتین پر سراسر ظلم ہے۔اسلام جہیز کے نام پر کسی اسراف کی اجازت نہیں دیتالیکن خواتین کے شرعی حصے پر زور دیتاہے۔ یہاں معاملہ اس کے برعکس ہورہاہے۔شادیوں پر بے تحاشااخراجات کیے جاتے ہیں اوراپنی دولت اورنام ونمود کے اظہار کے لیے کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، ہزاروں لوگوں کی دعوت کی جاتی ہے اورلمبے چوڑے جہیز دیے جاتے ہیں مگر مسلم علماء ان تمام غیر اسلامی حرکات پر خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں اوراسراف بیجاکرنے والے یہی بدقماش لوگ جب عورتوں کو شرعی حصہ دینے کا موقع آتاہے تو اسی غیراسلامی شادی کا نام لے کر اس شرعی حق سے محروم کردیتے ہیں اوراس پر بھی یہی علماء مجرمانہ خاموشی اختیار کیے رہتے ہیں۔یہی معاملات جب ملک کی عدالتوں میں جاتے ہیں اورمسلم خواتین دستوکے رہنما اصولوں میں دی گئی گارنٹی کے مطابق انصاف کا مطالبہ کرتی ہیں تو پھر یہی علماء شریعت متین میں حکومت کی بے جا مداخلت کا شوشہ لے کر طوفان بپاکردیتے ہیں۔امت کو بہر حال یہ تو سوچناہی ہوگاکہ داخلی سطح پر اگر امت کے ذمہ داران خود اپنی اصلاح کرنے پر آمادہ نہیں ہیں تو آخر کار ملک میں موجود عدالتیں اورانتظامیہ ایک دن خود اس ظلم کو روکنے کے لیے سامنے آجائیں گی ۔

ملک کی موجودہ حکومت کا موقف سب کے سامنے ہے۔یہ حکومت کسی طور پر بھی یکساں سول کوڈ کے نام پر ملک کے تمام طبقات کو ہندوقوانین اختیار کرنے پر مجبور کرنے کی خواہش رکھتی ہے اورحکومت کے سامنے سب سے بڑی سدراہ مسلمان اوراسلامی قوانین ہی ہیں۔حکمراں جماعت کی جانب سے مذکورہ بالاتینوں امور کو لے کر ہمیشہ ہی تنقید کی جاتی رہی ہے اور ان کو بدلے جانے پر اصرار کیاجاتارہاہے۔پہلے وہ حزب اختلاف میں تھے تو بہت کچھ کرنے پر قادر نہیں تھے، اب وہ ملک میں ایک مضبوط حکومت چلارہے ہیں ،پارلیمنٹ میں کوئی بھی قانون لاکر پاس کرنے کی پوزیشن میں ہیں، ایسے میں مسلم قوانین کے اندر اپنی مرضی کی ترامیم کرکے عدالتوں اورپارلیمنٹ سے اسے پاس کرواکے مسلمانوں کے اوپر اسے تھوپناکوئی زیادہ مشکل کام نہیں ہوگااورخود مسلم خواتین کا ایک بڑاطبقہ بھی تنگ آمد بجنگ آمد کی مصداق حکومت وقت کا ہمنوابن کر کھڑاہوجائے گا۔ذراتصور کیجیے ایسے میں مردوں پر مشتمل اس مسلم سماج کے ذمہ داران کا کیاحشر بنے گا۔مسلم پرسنل لاء بورڈ اس لیے وجود میںآیاتھاکہ وہ شریعت کی حفاظت کرے ،اس کا وجود صرف اس لیے نہیں ہے کہ ہر معاملے پر صرف حکومت کے خلاف تحریک چلاتارہے بلکہ اپنی جانب سے بھی مثبت پیش رفت کرتے ہوئے عصر حاضر میں عائلی قوانین کی عملی تطبیق کے لیے جہاں جہاں اصلاح کی ضرورت ہووہاں ایمانداری سے ترمیم کرکے حکومت ہند کے سامنے اس کاڈرافٹ پیش کرے اورحکومت کو مجبور کرے کہ وہ اسے قبول کرلے۔بصورت دیگر اسلام مخالف حکومت نے مذکورہ بالارپورٹ کی بنیاد پر اگر پارلیمنٹ میں کوئی قانون پیش کرکے کوئی خلاف شریعت قانون پاس کروالیاتو مسلمانوں کے پاس اس کے سواکوئی چارہ نہیں رہ جائے گاکہ وہ اس کے خلاف بڑی تعداد میں سڑکوں پر اتر آئیں۔دین بچاؤ ، دستور بچاؤ تحریک چلانے والوں کو یہ سوچناچاہیے کہ اس سے پہلے یہ ضروری ہے کہ وہ کوئی قرآن بچاؤ تحریک بھی چلائیں کیونکہ مسلم خواتین سے متعلق مروجہ رسوم صریحاً قرآن کے خلاف ہیں جس پر بورڈ کے یہ ذمہ داران مجرمانہ خاموشی اختیارکرکے مسلم خواتین کو ان کے حقوق سے محروم کرکے ظلم کررہے ہیں جس کا جواب انہیں اس دنیامیں بھی دیناپڑے گااوراللہ کے یہاں بھی دیناپڑے گا۔محض خوش کن تاویلوں اوردلیلوں کے ذریعے قرآن کی منشااورتعلیمات سے انحراف آخر کار امت کو ایک خلفشار میں مبتلاء کررہاہے اوراگر بورڈ خود کو واقعی امت کا سب سے بڑاپلیٹ فارم سمجھتاہے ،حالانکہ اس کی کوئی دستوری اورقانونی حیثیت نہیں ہے ،وہ محض ایک رجسٹرڈ این جی او ہے ،لیکن اگر پھر بھی بزعم خود بورڈ کے ذمہ دار ن خود کو شریعت اسلامی کا محافظ مانتے ہیں تو یااپنافرض منصبی اداکرکے عند اللہ ماجور ہوںیاسامنے سے ہٹ جائیں۔امت میں ایسے علماء اوردانشوروں کی ابھی بھی کوئی کمی نہیں ہے جو بلاکسی فرضی دلیل کے احکامات قرآنی کی تفہیم رکھتے ہیں اوران کی تنفیذ کی خواہش رکھتے ہیں۔واضح رہناچاہیے کہ ایک دستوری جمہوری حکومت ہر ایک شہری کے لیے جواب دہ ہوتی ہے اوراس حیثیت سے قوانین کی تشکیل اورتنسیخ کے لیے بھی آزاد ہوتی ہے ۔حکومت کے اس حق کو ملک کا ایک چھوٹاساطبقہ بہت دیر تک چیلنج نہیں کرسکتا۔سمجھدار قوموں کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ سیلاب آنے سے پہلے پل باندھ لیاکرتی ہیں تاکہ آنے والاسیلاب ان کے گھروں کی کھڑکیاں دروازے توڑ کر گھروں میں داخل نہ ہوجائے اورپھر ہر چہار طرف تباہی بپاکردے۔ابھی وقت ہے اگر امت کے اکابرین اس آوازہ جرس کو سن کر منزل کی جانب روانہ ہوجائیں تو امت کو بڑے نقصان سے بچایاجاسکتا ہے اور شریعت کی حفاظت بھی کی جا سکتی ہے۔

(مضمون نگار مسلم پولیٹیکل کونسل کے صدر ہیں )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *