موجودہ ہندوستان امبیڈکر کے خوابوں کا ہندوستان نہیں ہے

جے این یو میں منعقدہ پروگرام میں پروفیسر وویک کمار کا اظہار خیال

نئی دہلی ، ۱۴؍ اپریل(نامہ نگار) ڈاکٹربھیم راؤ امبیڈ کر صرف دلتوں کے لیڈر نہیں تھے، بلکہ وہ اقلیتوں اور خواتین کے بھی لیڈر تھے،انہوں نے ان کے حقوق کے لیے جدوجہدکی ،اوردستور ہند میں اس کو جگہ دی۔ان کے خوابوں اور خواہشوں کا وہ ملک ہندوستان نہیں ہے،جہاں صرف چند لوگوں کی مٹھی میں پوری دولت ہے ،جہاں ایک خاص نظریہ کو سبھوں پر تھوپا جارہا ہے اور جہاں جمہوریت کے نام پر گنتی کے کچھ لوگ حکومت کررہے ہیں۔بابا صاحب کے نزدیک انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے سے زیادہ اہم ہندو دھرم کے فرسودہ قوانین سے آزادی تھی،جس کی زنجیر میں دلت ہزاروں سالوں سے جکڑے ہوئے ہیں۔ ان آراء کا اظہار امبیڈکر فکر وخیال کے ماہر اور حامی پروفیسر وویک کمار نے جے این یو میں بابا صاحب کی ۱۲۵؍جینتی کے موقعہ سے منعقد ہ ایک پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔
یونیورسٹی کے ماہی ہاسٹل میں اس پروگرام کا اہتمام اسٹوڈنٹ فرنٹ فار سوراج کی طرف سے کیا گیا تھا۔
Ambedkar and Gandhi
پروفیسر وویک کمارنے ہندوستان اور قوم کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بابا صاحب کے نزدیک قوم کا مفہوم ایک جغرافیائی نقشہ نہیں ہے،جیساکہ آج کچھ لوگ سمجھ رہے ہیں اور سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں،بلکہ اس کا مطلب وہ سماج ہے جہاں لوگ برابری سے رہتے ہوں۔ہندوستان ایک قوم نہیں ہے بلکہ یہاں مختلف مذاہب اور ہزاروں ذاتوں میں منقسم لوگ رہتے ہیں، تو پھر یہ ایک قوم کس کی ہوگی؟ انہوں نے دستور ہند بنانے میں بابا صاحب کی حصہ داری کے حوالے سے کہا کہ دستور ہند کو ایک جمہوری دستور بنانے میں بابا صاحب نے نہ صرف دنیا کے مختلف دساتیر کا مطالعہ کیا اور پھران سے استفادہ کیا، بلکہ بدھ مذہب کے بھائی چارگی کے نظریے کو بھی اس میں شامل کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ وہ و طن سے سچی محبت کرتے تھے ،اسی لیے وہ گاندھی اور جناح دونوں کے نظریے کے خلاف تھے۔
Drama Audience
پروفیسر کمار نے ڈاکٹر امبیڈکر کے تعلق سے سیاسی پارٹیوں کے موقف پر بولتے ہوئے کہا کہ ساری سیاسی پارٹیاں بابا صاحب کی وراثت کو سنبھالنے کی بات کرتی ہیں اور ان کے نام پر مورتیاں بنادیتی ہیں، مگر درحقیقت ان کو صحیح خراج عقیدت اسی وقت ہوگا جب اس ملک میں دلتوں کو برابری کا حق اور عزت ملے۔ تعلیمی اداروں میں دلتوں کی کم نمائندگی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی مرکزی یونیورسٹیوں میں سے صرف ایک میں درج فہرست قبائل سے تعلق رکھنے والا شخص وائس چانسلر کے عہدہ پر فائزہے،اور دہلی یونیورسٹی کے سبھی کم وبیش ۸۰؍ کالجوں میں سے صرف ایک کا پرنسپل دلت ہے۔

قابل غور ہے کہ دلتوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے مد نظر جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلبہ نے امسال ڈاکٹربھیم راؤ امبیڈکر کے یوم پیدائش کو منفرد انداز میں پورے جوش وخروش سے منایا۔ یہاں ڈاکٹر امبیڈکر کی ۱۲۵؍ جینتی کے موقع پر کئی ثقافتی اور علمی پروگرام بیک وقت منعقد کیے گئے۔یونیورسٹی کے درودیوار پر ہر طرف بابا صاحب کے نام کے پرچے اور پوسٹر چسپاں تھے۔اس موقعہ پر یہاں جے این یو طلبہ یونین کی طرف سے ’’امبیڈکر اور گاندھی‘‘ کے نام سے ایک ڈرامہ بھی پیش کیا گیا،جبکہ دلتوں کے حقوق کے لیے شام میں ایک متحدہ مارچ
گنگا ڈھابہ سے چندربھاگا ہاسٹل تک نکالاگیا۔ اس کے علاوہ ’’امبیڈکر کا نظریہ اور مذہبی وطنیت‘‘ کے نام پر ایک اور پروگرام پیریار ہاسٹل میں منعقد کیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *