شکیل احمد کی آزاد دعویداری سے عظیم اتحاد کی طرف ایک جٹ ہورہے ووٹروس : نظرعالم

شکیل احمد کی آزاد دعویداری سے عظیم اتحاد کی طرف ایک جٹ ہورہے ووٹروس : نظرعالم

جب عظیم اتحاد میں مدھوبنی سیٹ کانگریس کو نہیں ملی تو شکیل احمد باغی امیدوار کیوں ؟ بیداری کارواں
مدھوبنی (پریس ریلیز) کئی مہینوں سے مدھوبنی پارلیمانی حلقہ سیاسی اکھاڑہ بناہوا ہے۔ ووٹرس کی بے چینی بھی دیکھنے لائق ہے۔ پہلے تو مدھوبنی سیٹ پر کانگریس کے امیدوار ہوا کرتے تھے ڈاکٹر شکیل احمد۔ لیکن 2009 کے بعد سے مدھوبنی سیٹ کانگریس کے کھاتے میں نہیں جاپارہی ہے ایسا ہی اس بار بھی ہوا جو مدھوبنی کی سیٹ عظیم اتحاد سے جڑی پارٹی VIP کو مل گئی۔ اس انتخاب میں یہاں سے دو لیڈر شکیل احمد اور محمدعلی اشرف فاطمی دعویدار تھے۔ دونوں اپنی اپنی پارٹی سے یہ دعویٰ کررہے تھے کہ اُن کو اُن کی پارٹی امیدوار بنائے گی لیکن اتفاق سے اس بار دونوں ہی لیڈر کو اُن کی پارٹی نے سیاسی میدان سے باہر کا راستہ دکھا دیا۔ ایک طرف ملک کے حالات کو دیکھتے ہوئے اکثریت بھاجپا کو روکنے کی مہم پر کام کررہے ہیں تو دوسری طرف کچھ سیاسی لیڈران اپنی سیاسی بساط کو کھوتا دیکھ بلبلااٹھے ہیں اور آزاد امیدوار میدان میں کود پڑے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مدھوبنی سیٹ VIP کے کھاتے میں جاتے ہی یہاں سے کانگریس کے لیڈر شکیل احمد نے بھی آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں کود پڑے ہیں وہیں دوسری طرف راجد کے سینئر لیڈر محمدعلی اشرف فاطمی نے بھی ہاتھی چھاپ سے پرچہ نامزدگی داخل کیا تھا لیکن اچانک سے واپس لے لیا(وجہ پتہ نہیں) اُس کے بعد سے تو ایسا لگتا ہے کہ مدھوبنی پارلیمانی حلقہ سیاسی اکھاڑہ بن چکا ہے۔ شروعات میں تو ووٹرس پریشان تھے کہ دو دو مسلم لیڈران کے رہتے عظیم اتحاد کا ووٹ بکھرے گا لیکن محمدعلی اشرف فاطمی کی امیدواری واپسی لینے کے بعد سے عظیم اتحاد کے ووٹرس نے ایک جٹتا دکھانا شروعا کردیا ہے اور ایک جٹ ہوکر بھاجپا اینڈ کمپنی کو روکنے کے لئے عظیم اتحاد کی طرف ہوتے نظرآرہے ہیں۔ یہاں کچھ لوگ ڈاکٹر شکیل کو مدھوبنی کا بیٹا بتاتے ہیں اور زبردست مسلمانوں کی حمایت کا بھی دعویٰ کرتے ہیں جبکہ زمین سطح پر حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ کبھی بھی اس حلقہ سے کوئی بھی مسلم آزادامیدوار مسلم ووٹ سے اپنی حیثیت نہیں بناسکے ہیں ایسا ہی اس بار شکیل احمد کے ساتھ بھی ہونے جارہا ہے۔ کچھ مفادپرست اور نام نہاد مسلمانوں کو شکیل احمد نے شروعات سے لیکر اب تک گمراہ کررہے ہیں کہ اُنہیں کانگریس پارٹی، سی پی آئی، مالے وغیرہ کی حمایت حاصل ہے، تو شکیل احمد بتائیں کہ پھرعظیم اتحاد کا مطلب کیا ہے؟ جب راہل گاندھی نے ہی بھاجپا کو روکنے کے لئے عظیم اتحاد بنایا اور اس میں اُنہوں نے بہت ساری جگہوں پر سمجھوتہ کرکے فرقہ پرست طاقتوں کو روکنے کے لئے کامیاب کوشش کی ہے تو پھر شکیل احمد باغی بن کر کیا بتانے کوشش کررہے ہیں؟ شکیل احمد مدھوبنی میں صرف چندمسلم ووٹ حاصل کراپنا وجود کو ختم کرنے کے لئے میدان میں کیوں کود پڑے ہیں، بہتر ہوگا وہ عظیم اتحاد کو کمزور نہ کریں اور مسلم ووٹوں کو نہ بانٹیں ورنہ مدھوبنی پارلیمانی حلقہ ہی نہیں مسلمانوں کا بڑا طبقہ ان سے ناراض ہوگا اور یہ اپنا سیاسی مستقبل کو بھی کھو دیں گے۔ مذکورہ باتیں آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدرنظرعالم نے کہی۔ مسٹرعالم نے کہا کہ ڈاکٹر شکیل جب کانگریس پارٹی میں تھے تب تو کبھی انہوں نے مسلمانوں پر ہوئے ظلم و تشدد، غیرقانونی گرفتاریاں، مآب لنچنگ، دہشت گردی، فرقہ وارانہ فسادات، گؤکشی پر نہیں بول سکے تو آج انہیں مسلمان سمجھ کر مسلمان ووٹ کیوں دے؟ سمیلا، بھالپٹی، دیورہ بندھولی اور نہ جانے درجنوں مسلم بستیوں سے جب مسلم نوجوانوں کی دہشت گردی کے نام گرفتاریاں ہورہی تھیں تو اس وقت شکیل احمد کہاں تھے؟ عوام جاننا چاہتی ہے اگر وہ مسلمانوں کے حمایتی، ہمدرد اور مسلمانوں کا بڑا چہرہ ہیں تو بتائیں؟ ایک طرف مسلمانوں کے سامنے بڑا چیلنج ہے مودی کو روکنا تو دوسری طرف اپنی سیاسی حصہ داری بھی بڑا چیلنج ہے ایسے میں شکیل احمد ہوں یا محمدعلی اشرف فاطمی انہیں سوچ سمجھ کر ہی کوئی فیصلہ لینا چاہئے ۔ بہتر تو ہوگا کہ دونوں لوگ اس بار خاموشی اختیار کریں اور ملت کے حق میں کچھ بہتر کرنے کی سوچیں۔ سوشل سائٹس پر اور چند مسلم محلوں میں گھوم کر چوک چوراہے پر جلسہ سے لوک سبھا کاانتخاب نہیں جیتا جاسکتا۔ شکیل احمد اور اُن کے کچھ حمایتی تو مجھے بھی نصیحت ہی نہیں بلکہ بیان کرنے والے الفاظ نہیں ہیں جس کا استعمال کررہے ہیں اور مدھوبنی سے باہر کا بتانے کو کوشش میں لگے ہیں۔ جب کہ میں خود کیوٹی اسمبلی حلقہ کا رہنے والا ہوں اور مدھوبنی پارلیمانی حلقہ کا ووٹرس بھی ہوں، ہمیں حقیقت پتہ ہے کہ شکیل احمد اگر آخری وقت تک آزاد امیدوار میدان ڈٹے رہے تو 20-25 ہزار ووٹ پر سمٹ جائیں گے جس کے بعد اُن کا سیاسی وجود پوری طرح سے ختم ہوجائے گا اور 20-25 ہزار ووٹ کاٹنے کا دوہرا نقصان عظیم اتحاد اور خاص کر مسلمانوں کوہوگا، اگر مودی کو اکثریت ملتا ہے وہ بھی پچھلی بار کی طرح تو زیادہ ہی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے مسلمانوں کو۔ اس لئے مدھوبنی پارلیمانی حلقہ ہو یا دربھنگہ یا سمستی پورہم ہندوستان کی تمام مسلم عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ فرقہ پرست طاقتوں کو روکنے کے لئے اپنے ووٹ کا بکھراؤ ہرگز نہیں ہونے دیں۔ دلالوں، مفاد پرست نیتاؤں، اچانک سے مسلمانوں کے ہمدرد بننے والے ٹھیکیداروں سے بچیں اور اپنا ووٹ ایک جٹ ہوکر ایسے امیدوار کو دیں جو مودی اور فرقہ پرست طاقتوں کو روکنے کے کام آئے۔مسٹرنظرعالم نے آخر میں یہ بھی کہا کہ جس طرح سے شکیل احمد صرف مسلمانوں کے گاؤں میں جاکر جلسہ کرکے ووٹ مانگ رہے ہیں اُس سے دوسرے فرقہ کے لوگ گول بند ہورہے ہیں جس کا اثر نہ صرف مدھوبنی میں دکھے گا بلکہ دربھنگہ اور سمستی پور وغیرہ میں بھی دیکھنے کو ملے گا اور اگر اِن جگہوں پر عظیم اتحاد کے امیدوار کی شکست ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری بھی شکیل احمد پر ہی جائے گی۔

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply