راجناتھ سنگھ کی طرف سے کسانوں پر کئے گئے حملے میں پولیس کا دفاع کرنا شرمناك… نظر  عالم

پٹنہ-( پریس ریلیز)… عدم تشدد کی دعوت (گاندھی جينتي) کے موقع پر اتر پردیش اور دہلی بارڈر پر کسانوں پر کرائے گئے حملے میں پولیس کا راج ناتھ سنگھ کی طرف سے دفاع کرنا انتہائی شرمناک اور قابل مذمت ہے. مذکورہ باتیں آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدر نظر  عالم نے کہی. مسٹر عالم نے مزید کہا کہ کسان مسلسل اپنے مطالبات کو لے کر مختلف ریاستوں میں دھرنا مظاہرہ کر رہے ہیں. ادھر کچھ ریاستوں کے کسان ملک کے دارالحکومت پہنچ کر گونگي، بہری، اندھی اور فرقہ واریت  کو فروغ دینے والی حکومت کے آنکھوں پر بندھے پٹی کھولنے اور اپنی جائز مطالبات کو پورا کرنے کی مانگ کو لے کر دھرنا دینے ہردوار سے دہلی جا رہے تھے کہ اچانک سے اترپردیش-دہلی بارڈر پر مرکزی حکومت کی طرف سے پلاننگ کے تحت کسانوں پر حملہ بول دیا گیا اور یہ حملہ ملک کے جوانوں یعنی پولیس فورس کے ذریعہ  کرایا گیا جس میں کسانوں پر لاٹھی چارج کیا گیا ساتھ ہی آنسو گیس اور پانی کی بوچھار کی گئی جس کی جتنی مذمت کی جائے. کسانوں پر حملہ جمہوریت اور آئین کے قتل جیسا ہے. جب ملک کا کسان محفوظ نہیں رہے گا تو ملک کیسے بچے گا. ملک کی زیادہ تر آبادی گاؤں میں بستی ہے. گزشتہ کئی سالوں سے کسانوں کی حالت بد سے بدتر ہو چکی ہے اور بڑے پیمانے پر کسان خود کشی  بھی کرتے دیکھے جا رہے ہیں. لیکن مرکزی حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے. ملک کی آزادی کے بعد سے پہلی بار ایسی نکمی اور فرقہ پرستی کو فروغ دینے والی حکومت آئی ہے جس سے ملک مکمل طور بربادی کی جانب بڑھتا جا رہا ہے. مسٹر عالم نے یہ بھی کہا کہ جب سے مودی حکومت آئی ہے ملک کا ہر شہری پریشان اور فکر مند ہے. ملک مندر، مسجد، تین طلاق، ماب لنچنگ، فرقہ وارانہ فسادات اور ذات پات کی سیاست سے نہیں چلے گا. ملک ہر حال میں محبت اور باہمی بھائی چارے سے چلے گا. ادھر چار سالوں سے پورے ملک میں خوف اور خوف کا ماحول بنا کر بی جے پی ننگا ناچ کر رہی ہے. اپوزیشن صرف اقتدار پکڑ کی سیاست میں لگا ہے. عوام کی پریشانی سے اپوزیشن کو کوئی لینا دینا نہیں لگتا. بی جے پی ریاست میں جمہوریت کا قتل سرعام کیا جا رہا ہے. بولنے، سوچنے، کھانے، مذہبی آزادی اور سکون سے جینے کی آزادی کو ختم کیا جا رہا ہے. مسٹر عالم سخت الفاظ میں کہا کہ ادھر کچھ دنوں سے سماجی سطح پر عوامی مفاد کے مسائل پر بولنے اور کام کرنے والے لوگوں کو ہلاک کر دی جا رہی ہے یا پھر غلط الزام لگا کر جیل کی سلاخوں میں ڈالا جا رہا ہے جس سے ملک میں کشیدگی اور تکلیف جیسی صورتحال پیدا ہو چکی ہے. مودی حکومت کو اب 2019 کے الیکشن کی فکر ستانے لگی ہے. ملک میں بڑے پیمانے پر نفرت کی سیاست کا ننگا کھیل کھیلا جا رہا ہے. اکثریت کے ذہن میں یہ بٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ملک کے ہندوتو کو خطرہ ہے قدرتی ہے کہ جس طرح سے مرکز کی حکومت کام کر رہی ہے کسی اور کو نہیں صرف اور صرف ہندوتو کو خطرہ ہے اور اگر وقت رہتے ملک کی عوام نے ہوش کے ناخن نہیں لئے تو 2019 آتے آتے بڑے پیمانے پر ملک کو بی جے پی اینڈ کمپنی فسادات کی آگ میں بھی جھونکنے کی بھی کوشش کرے گی، جس سے تمام کمیونٹی کے انصاف پسند اور باہمی  سوچ کے لوگوں کو چوكننا رہنے کی ضرورت ہے. بی جے پی اینڈ کمپنی کی تعمیر ہی ملک کو بانٹنے اور نفرت کی سیاست کے ساتھ ساتھ ملک کی جمہوریت اور آئین کی دھججيا اڑانے پر ہے. ہم وطنوں کو فورا ایسی طاقتوں سے آنکھ میں آنکھ ملا کر مقابلہ کرنا ہوگا اور آنے والے انتخابات میں کراری شکست دے کر اقتدار سے ہٹانا ہوگا، تبھی یہ جمہوری اور آئینی  ملک بچ پائيگا.
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *